ٹی ایم اے جہلم نے عوام کو گندگی اور عذاب میں مبتلا رکھنے کی قسم ٹھان لی

جہلم(محمداشتیاق پال) ٹی ایم اے جہلم نے عوام کو گندگی اور عذاب میں مبتلا رکھنے کی قسم ٹھان لی، سینٹری ورکروں نے سینٹری انسپکٹر اور سینٹری سپروائزروں کی آشیر باد سے گلی محلوں میں سرکاری کام کی بجائے پرائیوٹ کام سے اپنے حالات بتر کرنے لگے، سینٹری سپروائزروں نے بھی اپنے حصہ وصول کرنے کے بعد آنکھیں بند کر لیں، گلیوں کی نالیوں اور محلوں کے نالوں نے گذشتہ کئی کئی ماہ سے سینٹری ورکروں کی شکل تک نہیں دیکھی، کونسلرز بھی اس ہٹ دھرمی سے پریشان ووٹروں کا دباؤ مگر ٹی ایم اے کی روایتی بے حسی ، کیا صرف سڑکیں صاف ہونے سے معاشرہ صاف ہو جائے گا فلتھ ڈپو میں آگ لگا کر کوڑا کم کرنے کی کوشش، سروے کے مطابق جہلم شہر اور بلدیہ کی دیگر وارڈوں میں ٹی ایم اے جہلم نے اپنے سینٹری ورکرز کو سرکاری، سیاسی ڈیروں کے حوالہ کرنے کے بعدجو منہ زور سینٹری ورکرز ہیں یا خوش رکھتے ہیں وہ کام پر آتے ہی نہیں ہیں صبح کی شفٹ پر بھی کام نہ ہونے کے برابر کیا جاتا ہے جبکہ سیکنڈ شفٹ میں آدھے سے زیادہ سینٹری ورکرزکام پر نہیں آتے بلکہ اپنے پرائیوٹ کاموں پر چلے جاتے ہیں جادہ علاقہ کے سینٹری سپروائزر سکندر نے بارہا شکایت کے باوجود نالے پر 9 افراد کی نفری نے جو کام کیا وہ ملبہ گذشتہ 5 روز سے عوام کیلئے درد سر بنا ہوا ہے مدنی محلہ منیر بٹ سٹریٹ کی خستہ حالی ہو یا عباس پورہ کے نالے کی،محلہ خانساماں کی حالت زار ہو یا محلہ رمضان پورہ، مجاہدہ آباد کی گلیاں ہوں یا کالا گوجراں کے مکینوں کے مساہل ہر طرف گندگی ہی گندگی اور ابلتے نالتے نالیاں اور گٹر ، اہلیان جہلم نے ڈی سی او جہلم سے مطالبہ کیا ہے کہ جمعہ کے جمعہ سڑکیں صاف ہونے سے شہر صاف نہیں ہوتا بلکہ گلی محلوں کی صفائی از حد ضروری ہے مگر ٹی ایم اے کی روایتی بے حسی کی وجہ سے عوام اپنی صحت بحال نہیں رکھ سکتی، اوپر سے مذید ستم کہ سینٹری ورکرز فلتھ ڈپو میں پڑے کوڑے کو روزانہ آگ لگا دیتے ہیں جس سے ماحولیاتی آلودگی میں اضافہ ہو رہا ہے مگر سینٹری ورکرز اور سینٹری انسپکٹرز روایتی خاموش کیا یہ معاشرتی معیار بلند ہو گا یا عوام بیماریوں کی بھینٹ ٹی ایم اے کیغفلت کی وجہ سے شکار رہے گی۔ کونسلرز حضرات بھی بے بس ہیں شکایت سیل میں درخواستوں کے انبار مگر کام ندارد جو حکومتی عہدیداروں کیلئے ایک سوال اور لمحہ فکریہ ہے۔