نیلے آکاش تلے،،،،،، شاعرہ۔ منیبہ غزن ساہی

پرنٹر : بک کارنر جہلم
قیمت: 350
تبصرہ۔۔محمداشتیاق پال چیئرمین جناح جرنلسٹ رائٹر فورم جہلم
پرانی داستانوں سے ملے گا درس جرات کا
گئے وقتوں کی عظمت کو ہمیں لوٹا کے لانا ہے۔
میرے ایک نہایت محترم دوست آفتاب مغل نے ایک شاعری کی کتاب نیلے آکاش تلے ہاتھ میں تھمائی اور حکم جاری کیا کہ اس کتاب کو اپنے اخبارات میں ۔۔تبصرہ برائے کتب۔۔۔ بجھوایا جائے ۔سوحکم کی تعمیل۔۔۔۔ چند لمحے سوچنے کے بعد فیصلہ کیا کہ پہلے اس شاعری کی کتاب کو خود کیوں نہ پڑھ لوں بعد میں اسکی حیثیت کے مطابق کسی اچھے نقاد دوست سے التماس کروں گا خیر ۔۔ اس نو آموز شاعرہ کی ۔۔ نیلے آکاش تلے۔ کا سرسری جائزہ لیا تو دیکھا کہ صرف شہباز کی پرواز بلند نہیں بلکہ معصوم چڑیا بھی جاندار پرواز کی اسطاعت رکھتی ہے چونکہ اگر یہ ننھی چڑیا آگ بجھانے کیلئے اپنی چونچ میں پانی کا قطرہ لے کر اس مشن پر رواں ہو سکتی ہے تو معاشرے میں پھیلی بدامنی، حقوق کی جنگ، پسے طبقے کی آواز، لشکر حسینی کا پرچم، متوسط اور بے یارومددگار عوام کی آواز بننے، سرمایہ داروں اور جاگیر داروں اور عوام کا حق پر غاصبوں کو للکارنے کی آواز بننے والی،جسکا اس بات پختہ عقیدہ ہے کہ
خدا کی عبادت سے رحمت ملے گی
در ددل کھلے گا تو نعمت ملے گی
اور یقین کامل ہے کہ۔۔۔
توقع نہ رکھ دوسروں کے در سے
اسی رب سے تجھ کو عنایت ملے گی
تو ساتھ ہی کیا خوب رستہ دکھانے کی کوشش کی کہ
جہاں کے بتوں سے کنارہ کشی کر
خدا کا تصور بسا لے تو دل میں
اور ایک سچی مسلمان ہونے کے اپنے رب سے التجا کرتی ہے کہ
تری رحمتوں سے دیکھوں گنبد خضریٰ
مجھے اپنے گھر میں اب بلا یارب
اس ننھی بچی نے جہاں مسلمانوں کی بے حسی اور مسلمانوں کو مسلمان بن کر سوچنے کا عندیہ دیاکسی جگہ عورت کے بے بسی اور اسکی وفا کاتذکرہ ہے جس میں عورت اس کے ہر رشتوں اور ایک عورت کی خدمات بھی نمایا ں کی ہیں اور ساتھ ہی کھری سچی باتیں بھی کہہ دیں اور اس عزم کا اشارہ دیا کہ ہاں مجھے میرا مقصد صرف روشی ہے اندھیروں کا خاتمہ اور غم دنیا کو جلا ہی دینا ہے، وطن کو ہمیشہ سدا بستا دیکھنا چاہتی ہے جو اپنے وطن کی خاطر اپنے ضمیر سے بھی لڑتی ہے۔
جس نے دسمبر کی شام کو خوشی چاہتوں جدائیوں اور اشکوں کو پوہ کے مہینے کو برسات میں بدل دیا۔ اس نے ملک کو درپیش مساہل کے خلاف کھڑا ہونے کا درس اور اپنے پرانے بزرگوں کی عظمت لوٹانے کیلئے پرانی داستانوں سے سبق لینے کا درس نوجواں نسل کو دیا ہے۔ اور اسکی نظم ابھی امید باقی ہے جو زندہ قوموں کو جگانے کا سبب بنتی ہیں وہ اپنی افواج پاکستان کو سلام اور انکی بہادری کا زکر بڑے جوش سے کرتی ہے کہ وہ سرحدوں کی محافظ ہے،
اس نوآموز شاعرہ نے محبتوں میں جدائیوں کو یہ کہ کر جھٹلایا ہے کہ تمیں کچھ فرق نہیں پڑتا مگر مجھے سب حال معلوم ہے کہ کون کہتا ہے کہ فرق نہیں پڑتا۔لیکن جب اس نوآموز شاعرہ نے اپنی آبائی بستی ” طور” کا زکر کیا تو ساتھ ہی اللہ تعالی ٰ کا اپنے نبی سے ہمکلام کی جگہ ” کوہ طور ” جیسی رحمت قرار دیا،
اس نو آموز شاعرہ نے جہاں ماں باپ کے پیار بچپن کی یادوں حسرت بھرے لمحات دکھ اور بادل کی طرح برستے مینہ کا سہارا لیا ہے وہیں کسی یاد سے غافل بھی نہیں ہے اور ایک حسرت کے سا تھ امید سے ہیں کہ وہ وقت دور نہیں جب کہنے پر مجبور ہو جائے کہ دسمبر اب جو آؤ تو ہمیں غفلت سے جگانا کہ ہم محب وطن بن کر اس عطیہ خداوندی کی قدر کر سکیں،اور احساس ذمہ داری جاگ سکے۔
ہماری دلی دعا ہے کہ جہلم کی سنگلاخ چٹان مگر تابعدار اور نمک حلال خطہ سے ایک ایسے کونپل پھوٹی ہے جو ضلع جہلم کی غیور اور بہادر عوام کی ترجمان کے علاوہ لفظوں سے ایک اور چٹان ثابت ہوگی جس طرح جہلم نے سکندر اعظم کو روکا، جس طرح کشمیر سے آنے والے پانی کو روکا جس طر ح مر زا ابراھیم مزدور لیڈر نے ٹرین پہیہ جام کرکے روکا ہم امید کرتے ہیں کہ وہ اپنے لکھے شعر
پرانی داستانوں سے ملے گا درس جرات کا
کئے وقتوں کی عظمت کو ہمیں لوٹا کے لانا ہے
کے مصداق جہلم کے ادبی حلقہ کو واپس لائیں گی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔