ایک اعلان مزید ،،،،،، تحریر۔ عمر بٹ

جی ہاں تنقید کرنا بڑا ہی آسان کام ہے دوسروں کو سمجھانا بھی چندا مشکل نہیں اوروں کی اصلاح کرنا تو عام سی بات ہے۔ یہ خیالات ہمارے ہاں عام رواج پا گئے ہیں جبکہ حقیقت حال یہ ہے کہ
۔۔۔۔۔تنقید کو اتنا سہل نہ جانو
ہر اصلاحی بات کو محض تنقید جان کر رد بھی نہیں کیا جا سکتا، بہت سے معاملات و مسائل ذرا سی توجہ سے بہتر نتائج کے حامل ہو جاتے ہیں
ڈسٹرکٹ ہسپتال جہلم جہاں حکومت پنجاب کی ذرا سی سختی اور پھر ڈی سی او کی خصوصی توجہ سے جناب ایم ایس کی اپنی مدد آپ کے تحت پالیسی نے ایک طرف ایمرجنسی کو خوبصورت ماحول عطا کیادوسری جانب ڈسٹرکٹ کی اندرونی و بیرونی صفائی ، رنگ و روغن پر خصوصی توجہ دی
اسی اثناء بد قسمتی سے جہلم میں گرلز سکول میں ایک حادثہ پیش آ گیا اور متاثرہ طالبات کو فی الفورڈسٹرکٹ ہسپتال پہنچایا گیا بس اتنے میں تمام میڈیا امڈ پڑا کیمرے و قلم کی پھرتی نے پورے پاکستان میں جہلم اور ڈسٹرکٹ ہسپتال جہلم کو نمایاں کر دیا
کچھ ہماری عادت سی بن گئی ہے کہ جب تک ہمیں حادثے کا سامنا نہ ہو جائے ہم کسی معاملے کو کچھ اہمیت بھی نہیں دیتے، وزیر اعلیٰ پنجاب کو نوٹس لینا تھا کہ ہسپتال میں ماحول یکسر تبدیل ہو گیا اور پھر اس کے ثمرات تو لوگوں تک اسطرح تو نہ پہنچ پائے مگر معاملہ قدرے بہتر ہو گیا۔
راقم کو بریگیڈےئر ایاز سلیم ڈسٹرکٹ ایڈمنسٹریٹر کے ہمراہی ڈسٹرکٹ ہسپتال کا وزٹ کرنے کا موقعہ ملا تو جناب نے فرمایا کہ میں نے ہسپتال میں رنگ وروغن کروا دیا ہے اور DHQ میٹل میں جلی حروف میں لکھوایا ہے گملے وغیرہ رکھوائے ہیں بہترین صفائی وغیرہ کروائی گئی ہے۔ جس پر میں نے کہا ” سر ” یہاں کے بڑے چھوٹے عملہ کومسیحائی کی طرف لے کر آئیں تو بات ہے۔
خیر آج حالات واقعی بہت بہتر ہو رہے ہیں بہتر ہو سکتے ہیں اگر ہمیں ڈی سی او صاحب سے عدم دلچسپی پر نوٹس اور پھر وزیر اعلیٰ کی جانب سے معطلی کی بجائے اصل حاکم(اللہ رب العزت) کا حکم یادرہے۔ کہ ” اپنے رزق کو حلال طریقے سے کماؤ اور جس کام کا معاوضہ پورا لیتے ہو اس کیلئے اپنے فرائض پر صحیح طور ادا کرو۔
جیسا کہ وزیر اعلیٰ صاحب کی توجہ رکھنے سے ہسپتال کا نظام دکھائی تو بہتر دے رہا ہے مگر عملاً ہمارے عملی فرائض کما حقہ پورے نہیں ہو رہے
ابھی ہسپتال کے مین گیٹ پر ہی تھا کہ اندر سے چند خواتین اور مرد غصے سے بھرے باہر نکلے ان میں سے ایک عورت تو انتظامیہ کو لیتے آ رہی تھے جبکہ دوسرے بھی کچھ خاموش نہ تھے حسب طبع رہا نہ گیا تو میں نے ایک مرد سے استفسار کیا تو اس نے منہ چڑا کر بھڑاس نکالی اور مدعا سامنے یہ آیا کہ تقریباً دو گھنٹے لائن میں کھڑا رہنے کے بعد پرچی حاصل کی اور پھر سیڑھیاں چڑھ کر ڈاکٹر صاحب کے کمرے تک پہنچے تو معلوم ہوا کہ ڈاکٹر صاحب آج آئے ہی نہیں تو دوسرے کمرے کی طرف پہنچے کہ چلیں ان سے مستفید ہو جائیں مگر وہاں بھی ایسی ہی صورتحال کا سامنا کرنا پڑا
جب واپس نیچے اترے اور باہر نکلنے لگے تو ایک اعلان جو مسلسل ہو رہا تھا کہ۔۔۔۔
ہر مریض کیلئے ہسپتال کی طرف سے فری ادویات کی سہولت ہے ضرور مستفید ہوں۔ بحکم حکومت پنجاب
مگر سوچنے کی بات ہے کہ کاؤنٹر پر پرچی بنانے والے کے علم میں بات ہو کہ آج کون کون سے ڈاکٹر صاحب چھٹی پر ہیں تاکہ عوام کو جسمانی اور وقت کی کوفت نہ ہو ایک بورڈ جس پر آج چھٹی پر ڈاکٹرز کا درج ہو اس پر عوام کی توجہ کیلئے اہم اعلان لکھا ہو،