روڈ حادثات کے بعدنسانی عضاء کے باقیات سڑک پر ہی پڑھے رہتے ہیں جس کی وجہ سے یہ بعد میں باولے ہو کر انسانوں پر حملہ کر دیتے ہیں

جہلم(وسیم تبریز) روڈ حادثات کے بعد انسانی خون اور انسانی عضاء کے باقیات سڑک پر ہی پڑھے رہتے ہیں ،جو کہ بعد ازاں پرندے اور جانور کھا جاتے ہیں ،اور انہیں جانوروں اور پرندوں کو اس خون اور گوشت کی لذت بعد میں نہ ملنے پر پاگل کر دیتی ہے ، یہ بات ایک عام شہری میاں ظہور نے اپنے بیان میں کہی،انہو نے کہا کہ جس کی وجہ سے یہ بعد میں باولے ہو کر انسانوں پر حملہ کر دیتے ہیں اور آدم خور کہلاتے ہیں ہمارے ملک میں المیہ یہ ہے کہ اسے ترقی پذیر کہا جاتا ہے اور تمام ادارے اپنے فرائض کو سمجھتے ہو بھی اس لفظ کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہیں اور جب کوئی بڑا نقصان ہو جاتا ہے تو پھر نام نہاد سختی کی جاتی ہے جو کہ محض خانہ پری کی حد تک ہوتی ہے ،بیرون ملک جب بھی کوئی حادثہ رونماء ہوتا ہے تو پولیس کے ساتھ میونسپل کی گاڑی ہوتی ہے جو کہ انسانی خون کو دھو دیتی ہے اور انکے بکھرے اعضاء کو اکھٹا کر کہ دفن کردیا جاتا ہے تاکہ حادثہ کے بعد کو ئی غیر معمولی حادثہ نہ ہو لیکن یہاں الٹی گنگا بہتی ہے ،حادثے کے بعد خون اور انسان عضاء کے باقیات وہی پڑھے رہتے ہیں جن پر پرندے اور جانور منڈلاتے رہتے ہیں جو کہ جی ،ٹی روڈ ہونے کے باعث کسی اور بڑھے حادثے کا سبب بن سکتے ہیں ،یعنی انہی جانوروں کو بچاتے بچاتے کوئی اور بڑا حادثہ رونماء ہو سکتا ہے ،اگر اس حادثے والی جگہ 1122کی اپنی فائیر برگیڈ کی گاڑی چلی جائے اور وہاں بکھر ا خون دھو دے اور انسانی عضاء کو جو کہ وہاں جائے حادثہ پر پڑھے رہ گئے ہیں انہیں دفنا دے تو یہ یقیناًبہت بڑی نیکی کا کام ہے ،جائے حادثہ پر ان ایمر جینسی سروسز نے جانا تو ہوتا ہے ،لیکن اگر وہ اس بات کو بھی مد نظر رکھ لیں تو بہت سا کام آسان پو جائے گا اور ہم کسی اور بڑے حادثہ سے بچ جائیں گے