کائنات پھیل رہی ہے مگراس کے پھیلنے کی رفتار میں اضافہ نہیں ہورہا

لندن: برطانوی ماہرینِ فلکیات کا کہنا ہے کہ کائنات پھیل ضرور رہی ہے لیکن اس کے پھیلنے کی رفتار میں کوئی اضافہ نہیں ہورہا؛ بلکہ شاید یہ ہماری اپنی غلط فہمی ہے۔
اگر آکسفورڈ یونیورسٹی کے سوبیر سرکار اور ان کے ساتھیوں کی یہ تحقیق درست ثابت ہوگئی تو گزشتہ اٹھارہ سال کے دوران کائنات پر ہونے والی ساری کی ساری جدید تحقیق بے کار ہوجائے گی۔
یعنی اگر حتمی طور پر یہ ثابت ہوگیا کہ کائنات پھیل ضرور رہی ہے لیکن پھیلاؤ کی یہ رفتار کم و بیش مستقل ہے اور اس میں اضافہ نہیں ہورہا (یعنی یہ ’’اسراع پذیر‘‘ نہیں) تو پھر بہت سے ایسے مفروضات کی ضرورت بھی ختم ہوجائے گی جنہیں کائنات کے اسراع پذیر پھیلاؤ کی وضاحت کرنے کےلئے پیش کیا گیا تھا۔ ان میں سب سے زیادہ نقصان ’’تاریک توانائی‘‘ (ڈارک انرجی) کے تصور کو پہنچے گا جس کے بارے میں اب تک صرف اتنا ہی بتایا جاسکا ہے کہ یہ ’’شاید‘‘ زمان و مکان (اسپیس ٹائم) کی اپنی ساخت میں شامل کوئی خاصیت ہے۔ اس سے زیادہ کوئی بھی تاریک توانائی سے متعلق نہیں جانتا۔

کائناتی پھیلاؤ کی رفتار بڑھنے (اسراع پذیری) کی دریافت دسمبر 1998 میں منظرِ عام پر آئی جب امریکہ اور آسٹریلیا کے تین فلکیات دانوں نے خاص قسم کے سپرنووا (Type 1a) کی بڑی تعداد کا مطالعہ کیا جو کائنات میں ہم سے بہت دور واقع ہیں۔ یہ سپرنووا چاہے کہیں پر بھی ہوں لیکن ہمیشہ بالکل یکساں روشنی ہی خارج کرتے ہیں۔ اسی بناء پر انہیں کائناتی مشاہدات اور دور دراز اجرامِ فلکی کے فاصلوں کا درست تعین کرنے میں خصوصی اہمیت دی جاتی ہے۔ ماہرین کی مذکورہ ٹیم نے بہت ہی دُور واقع ٹائپ 1a سپرنووا سے آنے والی روشنی کا تجزیہ کیا اور بتایا کہ کائنات صرف پھیل نہیں رہی بلکہ اس کے پھیلنے کی رفتار بھی تیز سے تیز تر ہوتی جارہی ہے۔
اس خبر نے دنیا بھر کے سائنسدانوں کو پریشان کردیا کیونکہ کوئی سائنسی نظریہ تو کیا مفروضہ بھی ایسا نہیں تھا جس کی مدد سے ’’اسراع پذیر کائناتی پھیلاؤ‘‘ کی وضاحت کی جاسکتی۔ خاصی تگ و دو کے بعد آخرکار ماہرین نے خیال پیش کیا کہ شاید یہ سب کچھ ’’زمان و مکان‘‘ یعنی کائنات کی اپنی ساخت کی وجہ سے ہورہا ہے؛ جس میں ’’تاریک توانائی‘‘ کے نام سے ایک پراسرار اور نامعلوم خاصیت کا عمل دخل ہے۔ یہ خاصیت کیا ہے؟ کس وجہ سے ظہور پذیر ہوتی ہے؟ کیسے عمل کرتی ہے؟ اور کائناتی ارتقاء پر اس کے اثرات کیسے مرتب ہوئے ہوں گے؟ یہ اور ان جیسے درجنوں دوسرے سوالات کے جواب میں ہمارے پاس پیچیدہ ریاضی پر مشتمل گنجلک مفروضات کے سوا کچھ نہیں۔

اس کے باوجود، اسراع پذیر کائناتی پھیلاؤ دریافت کرنے والے تینوں سائنسدانوں کو 2011 میں طبیعیات (فزکس) کا نوبل انعام دے دیا گیا۔ تاریک توانائی کا جائزہ لینے کےلئے زمینی دوربینیں استعمال کرنے کے علاوہ خلائی جہاز روانہ کرنے کے منصوبوں پر بھی کام ہورہا ہے۔
سوبیر سرکار اور ان کے ساتھیوں نے ایک بار پھر ٹائپ 1a سپرنووا کا مطالعہ کیا جس میں اس قسم کے 740 سپرنووا سے متعلق مختلف ذرائع سے حاصل کیا گیا ڈیٹا استعمال کیا گیا تھا۔ ٹائپ 1a سپرنووا کی یہ تعداد 1998 والی دریافت میں استعمال کی گئی تعداد سے 10 گنا زیادہ تھی۔ جب ان مشاہدات اور ان سے متعلق اعداد و شمار کی وضاحت اُسی شماریاتی (statistical) ماڈل کی مدد سے کی گئی جس سے 1998 والی دریافت میں استفادہ کیا گیا تھا تو معلوم ہوا کہ کائناتی پھیلاؤ کی رفتار بڑھتی جارہی ہے۔
لیکن عجیب و غریب صورتِ حال اُس وقت پیدا ہوئی جب انہوں نے تھوڑا سا مختلف شماریاتی ماڈل استعمال کرتے ہوئے ان مشاہدات کا ایک بار پھر سے تجزیہ کیا۔ ایک مختلف لیکن بہتر شماریاتی ماڈل استعمال کرنے پر کائناتی پھیلاؤ میں اسراع پذیری کا امکان اس قدر کم رہ گیا کہ اسے بہ آسانی نظرانداز کیا جاسکتا تھا۔ اپنے اعداد و شمار اور حاصل کردہ نتائج کو اچھی طرح کھنگالنے کے بعد انہوں نے یہ مقالہ ’’نیچر سائنٹفک رپورٹس‘‘ نامی ریسرچ جرنل کو بھیج دیا جس نے یہ 21 اکتوبر 2016 کے روز آن لائن شائع بھی کردیا۔
اس مقالے میں سوبیر سرکار اور ان کے ساتھیوں کا مؤقف ہے کہ ٹائپ 1a سپرنووا کی بہت بڑی تعداد اور زیادہ جدید شماریاتی ماڈل استعمال کرنے کے بعد وہ اسی نتیجے پر پہنچے ہیں کہ کائناتی پھیلاؤ کی رفتار تیز سے تیز تر ہونے کا خیال دراصل ایک غلط فہمی ہے؛ اور یوں ’’تاریک توانائی‘‘ سمیت، وہ تمام تصورات بھی غلط فہمی ہی کی پیداوار ہیں جنہیں اسراع پذیر کائناتی پھیلاؤ کی بنیاد پر پیش کیا گیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ جس شماریاتی ماڈل کی بنیاد پر اسراع پذیر کائناتی پھیلاؤ کا تصور سامنے آیا، وہ بہت سادہ اور پرانا ہے جسے 1930 کے عشرے میں پیش کیا گیا تھا۔ اس کے بعد، خاص طور پر حالیہ برسوں کے دوران، اس سے کہیں بہتر اور زیادہ درست شماریاتی ماڈل سامنے آچکے ہیں جنہیں استعمال کرتے ہوئے کہیں بہتر اندازے لگائے جاسکتے ہیں۔