پولیس ٹرنینگ کالج کوئٹہ پر دہشتگردوں کا حملہ،،،،،میر افسر امان

مشرقی اُفق

کنوینر کالمسٹ کونسل آف پاکستان

کوئٹہ میں پہلے قانون کے محافظوں کو خون میں نہلایا گیا تھا جس کا غم ابھی تک محسوس کیا جا رہا ہے کہ اس کے بعد ہمارے پولیس ٹرنینگ کالج پر سفاکانہ حملہ کر کے ۶۱؍ کو شہید اور لاتعداد کوزخمی کر دیا گیا ۔ کوئٹہ میں ایک عرصہ سے کبھی ایک فقہ کے لوگوں کو شہید کیا جاتا ہے تاکہ مذہبی منافرت پھیلے اور کبھی پٹھانو ں کوبس سے اُتار کر اور پہچان کر شہید کیا جاتا ہے تاکہ لسانی منافرت پھیلے۔ اللہ کا شکر ہے کوئٹہ کے عوام کی دانش مندی کی وجہ سے دشمن اپنی پلاننگ میں ابھی تک کامیاب نہ ہو سکا نہ ہی کامیاب ہو سکے گا انشا اللہ۔ مذہبی اور لسانی اکائیں آپس میں شیر و شکر ہیں۔ اس حملے کے بعد صحافیوں نے جائے وقوع کا جائزا لے کر جو رپورٹ میڈیا پر بیان کی ہے ایک تو اس میں صوبائی حکومت کی کمزوری ہے۔ پولیس کالج کی دیواریں اونچی کیوں نہیں کی گئیں ۔آئی جی بلوچستان نے پولیس کالج کی کچی دیوار کو پکا کرنے کے لیے وزیر اعلیٰ بلوچستان سے فنڈ مانگا تھا۔ انہوں نے فنڈ دینے کا اعلان بھی کیا تھا۔مگر روائتی سست روی کی وجہ سے فنڈ جاری نہیں کیا گیا۔جب کہ صوبائی حکومت کویہ بھی اچھی طرح سے معلوم ہے کہ دشمن نے ہمارے فوج کے دفاعی اداروں، جس میں بری، بحری، فضائی، خفیہ اور پولیس ہیڈ کوائٹرز پر حملے کیے ہیں تو ان کو کوئٹہ پولیس ٹرنینگ کالج کی بھی اچھے طریقے سے حفاظت کا انتظام کرنا تھا ۔ اس میں شک نہیں کہ ایک خود کش حملہ آور تو مرنے کے لیے خود کش جیکٹ پہنتا ہے۔ اس لیے کہ اس نے انسانوں کے مجمع میں اپنے آپ کو اُڑا کر نقصا ن پہنچانا ہوتا ہے۔ پولیس ٹرنینگ کالج کے کیڈٹوں کے پاس اپنی حفاظت کے اسلح نہیں دیا گیا۔ دوسرے نہتے کیڈٹ اُس وقت سو رہے تھے کہ دہشت گردوں نے حملہ کر دیا۔ یہ بھی سب کو معلوم ہے کہ اکثر دہشت گرد بھارت کی ایما پر افغانستان سے آتے ہیں۔ اس لیے بہترباڈرمنیجمنٹ کے ذریعے افغانستان سے آنے والے دہشت گردوں کو روکا جا سکتا ہے۔ جبکہ تجزیہ کاروں کے مطابق افغانستان کی اس سمت میں چمن باڈر زیادہ محفوظ نہیں ہے۔پاکستان میں افغانستان کی موجودہ امریکی پٹھو اور بھارت نواز حکومت کے لیے نرم گوشہ رکھنے واے حکومت کے اتحادیوں کے ر ویوں کی بھی اصلاح کرنی چاہیے۔ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں کہ ہمارے ازلی دشمن بھارت نے اعلانیہ کہا ہوا ہے کہ وہ چین پاکستان اقتصادی راہداری کو کسی صورت بھی مکمل نہیں کرنے دے گا۔ اس کو ثبوتاژ کرنے کے لیے بھارت نے فنڈ بھی مختص کر رکھے ہیں۔ مودی نے بلوچستان میں ا علانیہ مداخلت شروع کی ہوئی ہے۔ کلبھوشن یادیو بھارتی جاسوس کی گرفتاری اس کا زندہ ثبوت ہے۔ یہ بھی پوری دنیا جانتی ہے کہ چین سے دشمنی کی وجہ سے بھارت کے اس منصوبہ میں امریکا بھی بھارت کے ساتھ شامل ہے۔ ان عوامل کو سامنے رکھتے ہوئے مرکزی حکومت کے تعاون سے ہماری فوج نے پاک چین اقتصادی راہداری کی حفاظت کے فوج کی نئی بٹالین بھی قائم کی ہے۔ ہمارے خفیہ اداروں کی بھی بھارت کی اس ڈاکٹرائن پر گرفت ہے ۔ انہوں نے کلبھوشن یادیو جیسے بھارت کی نیوی کے حاضر سروس آفیسر کو دہشت گردی کی پلاننگ میں ملو ث ہونے پر پکڑا ہے۔ جب بھارت میں پاکستان سے ایک کبوتر بھی اڑ کر جاتا ہے تو اسے پاکستانی جاسوس سمجھتے ہوئے اسے پکڑا جاتا ہے۔ اس کا ایکسرے تک کیے جاتے ہیں۔ اس کے پر کاٹ دیے جاتے ہیں اور یہ سب کچھ بھارت کی طرف سے اپنے ملک کی حفاظت کے حوالے سے اپنی کارکردگی میڈیا میں بھی نشر کرتا ہے ۔مگر کلبھوشن یا دیو ایک حاضر سروس فوجی کافی عرصے سے پکٹرا جانے پر ابھی تک ہمارے وزیر اعظم صاحب کی طرف سے کوئی لفظ بھی نہیں بولا گیا۔ اس پر اپوزیشن والے بھی آئے روز وزیر اعظم صاحب پر تنقید کرتے رہتے ہیں۔ دوسری طرف جب کوئٹہ میں ۷۰؍ سے زائدوکلا کو خون میں نہلایا گیا تھا تو حکومت کے ایک اتحادی نے پارلیمنٹ کے اندر بیان دیا تھا کہ دہشتگردوں کو ہمارے خفیہ والوں کی حمایت حاصل ہے۔اس پر فوج نے بھی وفاقی حکومت کو شکایت کی تھی مگر کسی ے نے بھی اس شکایت پر کان نہیں دھرا ،نہ اُس شخص سے وضاحت مانگی گئی۔ایک دوسری اتحادی جو پاکستان میں رہ رہے ہیں ،پاکستان دشمن افغان حکومت کو خوش کرنے کے لیے فرماتے ہیں میں افغانی تھا افغانی ہوں اورا فغانی رہوں گا۔ تیسرا اتحادی، کشمیر کمیٹی کاچیئرمین ہوتے ہوئے بھی بھار ت کے مظالم پر پردہ ڈالتے ہوئے، کشمیریوں سے یکجہتی کی بجائے فرماتے ہیں کہ فاٹا اور کشمیر میں مظالم ایک جیسے ہیں۔اپنے ان اتحادیوں کو وفاقی حکومت نہیں سمجھائے تو کون سمجھائے گا۔ہماری فوج ملک میں دہشت گردی کو ختم کرنے کے لیے ضرب عضب اور کراچی میں ٹارگیٹڈ آپریشن کے ذریعے اور عوام کی حفاظت کے لیے جانیں دے رہے ہیں۔ فوج کی دہشت گردی کے خلاف قربانیوں کو مقامی اور بین الاقوامی طور پر تسلیم بھی کیا گیا ہے۔ جبکہ حکومت کے اتحادی ان کے خلاف بول رہے ہیں۔کوئٹہ پولیس کالج پر دہشت گرد حملہ کو لشکر جھنگوی العالمی ، تحریک طالبان پاکستان اور بعد میں داعش نے قبول کیا ہے۔ان میں دو کا لعدم تنظیمیں لشکر جھنگوی العالمی اورتحریک طالبان پاکستان افغانستان میں موجود ہیں۔ افغانستان میں امریکی پٹھو

۲
اور بھارت نواز حکومت قائم ہے۔ بھارت نے افغانستان میں پاکستان کی سرحد کے ساتھ ساتھ درجنوں کونصلیٹ دفاتر بنا رکھے ہیں جہاں سے پاکستان میں دہشت گردی ہو رہی ہے۔ ان حالات میں حکومت کے تینوں اتحادی کس کے ساتھ نر م گوشہ رکھتے ہیں؟ ان کو ملک دشمن بیانات سے کون روکے گا؟ایف سی کے چیف کے مطابق دہشتگردوں کو افغانستان سے ہدایات مل رہیں تھیں۔ مقامی ایجنٹو ں نے دہشت گردوں سے ضرور تعاون کیا ہو گا۔ جہاں تک حکومتی وزرا کا تعلق ہے تو وزیر اعظم کی طرح یہ بھی دہشت گردی کروانے والے بھارت کا نام نہیں لیتے اور کہتے ہیں دہشت گردی مشرقی ہمسایہ کی طرف سے ہو رہی ہے۔ دہشت گردوں سے دیر تک مقابلہ کرنے والے کیپٹن روح اللہ کو فوج کی طرف سے تمغہ جرأت اورمحمد علی کو تمغہ بسالت سے نوازہ جائے گا۔وزیر اعظم اور آرمی چیف نے مل کر سول سپتال کا دورا کیا اور زخمیوں کی عیادت اور شہدا کے جنازے میں شرکت بھی کی۔کوئٹہ میں وزیر اعظم کی زیر صدارت ایک اعلیٰ سطح کے اجلاس میں بلوچستان میں کا لعدم تنظیموں کے خلاف سخت کاروائی کے احکامات جاری کیے گئے۔ بھارت اور افغانستان کے ساتھ وزارت خارجہ کی سطح پر بلوچستان میں مداخلت کا معاملہ اُٹھایا جائے گا۔ عمران خان نے بھی زخمیوں کی عیادت کی۔ روس ، چین، امریکا اور اقوام متحدہ نے دہشت گردی کی مزاہمت کی۔ بلوچستان میں تین دن، سندھ ،پنجاب اور خیبر پختونخواہ میں ایک دن سوگ کا اعلان کیا گیا ہے۔صاحبو!اس میں شک نہیں کہ فوج نے ۹۰؍ فی صد دہشت گردی پر قابو پا لیا ہے ۔مگر ابھی بھی دہشت گرد پڑوسی حکومتیں کی پشت پناہی کی وجہ سے پاکستان میں دہشت گردی کر رہے ہیں اس کے لیے ضرورت اس امر کی ہے کہ پوری قوم اپنی فوج کی پشت پر کھڑی رہے اور دہشت گردی پر قابو پانے کے لیے فوج کی پالیسیوں کے خلاف کسی قسم کی بات کرنے والوں کی مرکزی حکومت کو اصلاح کرنی چاہیےے۔اس سے دہشت گردوں کی کمر ٹوٹے گی۔ اللہ ہمارے ملک کو دہشت گردوں سے محفوظ رکھے آمین۔