خواتین موٹاپے پر قابو پا کر پوری قوم کو تندرست و توانا اور سمارٹ بنا کر خوشحال بنا سکتی ہیں،محترمہ مہوش اقبال

جہلم(سید جاوید رضوی)خواتین موٹاپے پر قابو پا کر پوری قوم کو تندرست و توانا اور سمارٹ بنا کر خوشحال بنا سکتی ہیں المرکز ہال میں اتنی زیادہ خواتین کی دلچسپی دیکھے کر مجھے بے حد خوشی ہوئی ہے کہ یہ خواتین اپنے گھروں میں جا کر دوسری بہنوں کی بھی نہ صرف راہنمائی کریں گی، بلکہ اس سیمینار کی آفادیت سے آگاہ کرتے ہوئے ان کو سمارٹ بننے کے آسان گر بتائیں گی ،ان خیالات کااظہار بیگم ڈی سی اوجہلم محترمہ مہوش اقبال نے المرکز ہال میں عالمی موٹاپا ڈے کے موقع پر خواتین کیلئے منعقد کیے گئے اجلاس میں بطور مہمان خصوصی اظہار خیال کیا،بیگم ڈی سی اوجہلم محترمہ مہوش اقبال کی سادہ گفتگو اور حقیقت حال پر مبنی تجربہ سے خواتین بہت محظوظ ہوئیں انہوں نے کہا کہ میں اپنے بچے کے ساتھ فٹ بال بھی کھیلتی ہوں اور اپنی بچیوں سے بھی گیم کھیلتی ہوں اور میرے سمارٹ ہونے کا راز یہ ہے کہ میں اپنے جسم کو فٹ رکھتی ہوں جب میری شادی ہوئی اس وقت بھی میرا وزن اتنا ہی تھا جتنا اب ہے اور اس میں میرا اپنا کوئی کمال نہیں یہ متوازن خوراک باقاعدہ ورزش اور ٹائم ٹیبل کے مطابق زندگی گزارنے سے ہر خاتون حاصل کر سکتی ہے۔یہ تقریب جو عالمی موٹاپا ڈے کے موقع پر المرکز ہال میں خواتین کیلئے منعقد کی گئی اس کی روح رواں اور چیف آرگنائزر محترمہ ڈاکٹر شہزانہ امتیاز تھیں،ڈاکٹر شہزانہ امتیاز نے اس تقریب میں خواتین ڈاکٹرز کو مدعو کر کے چار چاند لگا دیے،اور اپنی ذمہ داری بطور سٹیج سیکرٹری اس طرح ادا کی کہ خواتین ان کی باتوں کو نہ صرف سن رہی تھیں بلکہ عمل کرنے میں بھی فخر کر رہی تھیں انہوں نے سٹیج سیکرٹری کے طور پر ایک ڈاکٹر کے طور پر خواتین کو سر درد، پٹھوں کے درد،کمر کے مہروں کے درد اور دیگر ٹینشن کے امراض کے بارے میں معمولی معمولی ورزشیں کر کے دکھائیں اور خواتین نے بھی ان کی کاپی کر کے اپنے طور پر ورزش کو سیکھا،اس تقریب میں جہاں خواتین ڈاکٹرز نے خطاب کیا وہاں ایک میل ڈاکٹر عبدالغفور نے بھی خواتین کو اپنے علم اور تجربے کے نادر ٹپس سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ جس گھر میں ایک سمجھ دار ماں ہو گی ، وہاں موٹاپا کبھی نہیں آسکتا، ماں ہی خاندان کو موٹاپے جیسی بیماریوں سے محفوظ رکھ سکتی ہیں جن خواتین ڈاکٹرز نے خواتین کو آگاہی دی ان میں سابقہ چیف گائنا کالوجسٹ ڈی ایچ کیو جہلم ڈاکٹر شہزانہ امتیاز نے خواتین کو تقریر کے ساتھ ساتھ عملی طور پر نہ صرف خود ورش کر کے بلکہ ایک خاتون ڈاکٹر شیبا اکرم ہاشمی سے ورزش کے انداز اور اس کی آفادیت سے بھی خواتین کو بے حد متاثر کیا۔ان کے ساتھ ساتھ ڈاکٹر شیبا اکرم ہاشمی نے اپنے تجربے سے بھی خواتین کو آگاہ کیا اور انگلینڈ سے آئی ہوئی ڈاکٹر ثوبیہ بتول نے بتایا کہ یو کے میں خواتین اور مردوں میں کوئی امتیاز نہیں خواتین کو وہ تمام سہولتیں میسر ہیں جو مردوں کیلئے وقف ہیں مگر پاکستان میں خواتین کیلئے بے شمار مسائل ہیں جن پر قابو پانے کیلئے خواتین کو بولڈ۔۔ ہونا پڑیگا۔بحیثیت بیوی،بیٹی،بہو،بہن اور ماں کے کرداروں میں ڈلنے کے ساتھ ساتھ اپنے حقوق کا دفاع کرنا بھی اس کا فرض ہے۔ڈاکٹر شہزانہ امتیاز ماہر گائنا کالوجسٹ نے اس تقریب کے آخری دور میں کہا کہ خبردار دوران زچگی خواتین اپنا وزن کم کرنے کی کوشش ہرگز نہ کریں ورنہ بچے کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔اس موقع پر ایک ماڈل خاتون جس کا بہت زیادہ وزن تھا اس نے بتایا کہ اس نے اپنی کوشش ورزش اور خوراک سے تیس کلو وزن کم کر کے اپنے آپ کا اس حالت میں سمارٹ کیا ہے۔تقریب کے آخر میں چیئرپرسن ڈاکٹر گلشن حقیق مرزا نے کہا کہ مجھے یہاں اس بھرے ہوئے ہال کو دیکھ کر بڑی خوشی ہوئی کہ ڈاکٹر شہزانہ امتیاز نے ایک موٹاپے پر ایک جامع سیمنار منعقد کر کے خواتین میں صحت کی بیداری اور وزن کی کمی کی طرف راہنمائی کی ایک بہترین مثال قائم کی ہے۔میں ان کو اور ان کی ٹیم کو خراج تحسین پیش کرتی ہوں بطور خاص انہوں نے بیگم ڈی سی اوجہلم مہوش اقبال کی تقریر کو سر اتے ہوئے کہا کہ ان کی تقریر میں ایک خلوص درد اور عورت کی ایک ایسی آواز شامل ہے جس میں مستقبل کی خواتین نسلوں کیلئے ایک پیغام ہے اور اس کے ساتھ ہی مہمانان گرامی ڈاکٹرز اور سامعین خواتین کا بھی شکریہ ادا کیا جو اپنے گھروں سے وقت نکال کر بچوں سمیت تشریف لائیں،اس موقع پر مہمانوں کیلئے ریفریش منٹ کا بھی اہتمام کیا گیا۔