ایک اور بہت بڑا دکھ ایک اور گہرا زخم اب ہماری ارض پاک کو اور کتنے حادثات سے گزرنا پڑیگا۔سیرت میر

جہلم(عبدالغفور بٹ)ایک اور بہت بڑا دکھ ایک اور گہرا زخم اب ہماری ارض پاک کو اور کتنے حادثات سے گزرنا پڑیگا۔کتنے سانحات سے نبرد آزما ہونا پڑے گا ایک کے بعد دل ہلا دینے والے واقعات کچھ سانحہ پشاور کبھی کوئی یونیورسٹی اور اب ملک کے مستقبل کے محافظ لقمہ اجل بنا دیے گئے۔ان خیالات کااظہار سیرت میر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیاانہوں نے کہا کہ پولیس ٹریننگ سنٹر میں تربیت حاصل کرنے والے نوجوان کسی بے دردی سے کتنی ماؤں کے گبرو لال خون میں نہلا دیے گئے ،کتنے ہی مستقبل کے ذمہ دار محکمہ پولیس کے سرمایا ے گرا ں مایہ کو لٹا دیا گیا ایک اسلامی مملکت اور اسلام میں تو ایک جان کو مارنا پوری انسانیت کو قتل کر دینے کے مترادف ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ 61جانیں بے دردی سے چھین لی گئیں اور وہ ڈیڑھ سو سے بھی زیادہ لوگ جو زندگی کی کشمکش میں تڑپ رہے ہیں کیا یوں ہی سب صدمات سہنے کیلئے ہم زندہ ہیں کیا ان واقعات کی روک تھام کا کوئی طریقہ کار نہیں ،کب تک یہ خون کا کھیل کھیلا جاتا رہیگا۔کب تک ہم تصویر بنے مظالم سہتے رہیں گے۔