( ماواں ٹھنڈیاں چھاواں)،،شیخ گوہروقاص پراچہ

ایڈیاں ڈُوگیاں چھاواں جگ تے لبدیاں نئی
ٹُر جاون اِک واری ،تے فِرماواں لبدیاں نئی
پُتّر بھاویں لاکھ جہاں تو مندے نے
پر ماواں آکھن سارے جگ تو چنگے نے
اللہ تعالیٰ نے دنیا میں ہر چیز کا نعم ا لبدل پیدا کیا ہے لیکن ماں کا کوئی نعم البدل پیدا نہیں کیا ۔اگر بھائی فوت ہو جائے تو دوسرا بھائی مل جاتا ہے اگر بہن فوت ہو جائے تو بہن مل جاتی ہے۔ نبی کریمﷺ نے فرمایا کہ ماں کے قدموں تلے جنت ہے ۔ہم پوری زندگی عبادت کرتے رہیں نما زپڑھتے رہیں روزے رکھتے رہیں زکوٰۃ دیتے رہیں اور دوسرے نیکی کے اعمال کرتے رہیں ۔یہ اللہ تعالیٰ کی ذات کو معلوم ہے کہ ہماری یہ عبادات قبول ہوئی ہیں کہ نہیں لیکن اس بات کی گارنٹی نبی پاکﷺ نے دی ہے کہ جس نے اپنے ماں باپ کی خدمت کی وہ جنتی ہے۔ نبی کریمﷺ نے اپنی والدہ حلیمہ کی خدمت کر کے مثال قائم کر دی ۔ اپنی کملی اُن کے پاؤں میں بچھا دی۔ ایک صحابیؓ نے اپنی والدہ کو کندھوں پے اُٹھا کر حج کروایا اور نبی کریمﷺ کی خدمت میں حا ضر ہوا کہ کیا میں نے ماں کا حق ادا کر دیا ؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ تُم نے اپنی ماں کا ایک رات کا بھی حق ادا نہیں کیا۔ جب تم چھوٹے ہوتے تھے تو سردیوں کی راتوں میں بسترپر پیشاب کر دیتے تھے تو تمہاری تمہیں گیلے بستر سے اُٹھا کر خشک بستر پر لِٹا دیتی تھی اور خود گیلے بستر پر سو جاتی تھی ۔ اللہ تعالیٰ نے ماں کا رُتبہ بہت بلند کیا ہے ۔ جب موسیٰ ؑ اللہ تعالیٰ سے ملاقات کرنے کے لیے عرشِ معلیٰ پر پہنچے تو اللہ تعالیٰ نے کہا کہ موسیٰؑ ذرا سنبھل کر آنا اب تمہارے سر دعا کرنے والی ماں نہیں ہے ۔ ماں کی مثال اُس گھنے پیر کی مانندہے جو خود دھوپ میں جلتا ہے اور دوسروں کو سایا مہیا کرتا ہے۔نبی کریمﷺ نے فرمایا کہ جو اپنے ماں باپ کو خوشی کی نگاہ سے دیکھے اُسے ایک مقبول حج کا ثواب ملتا ہے۔ ایک صحابیؓ نے سوال کیا کہ اگر سو مرتبہ؟ تو آپﷺ نے فرمایا سو مقبول حجوں کا ثواب ملتا ہے۔ جن کے والدین اس جہان سے پردہ فرما گئے ہیں اُن کو روزانا تین کروڑ کا نقصان ہوتاہے وہ کیسے؟ وہ اس طرح کے اگر آدمی ایک دفعہ والدین کو خوشی کی نگاہ سے دیکھے تو اُسے ایک مقبول حج کا ثواب ملتا ہے اور ایک حج ادا کرنے کے لیے تین لاکھ روپے درکار ہوتے ہیں ، اگر دن میں سو مرتبہ خوشی کی نگاہ سے دیکھتا ہے تو اُسے سو مقبو ل حجوں کا ثواب ملتا ہے اور اگر سو کو تین لاکھ سے ضرب دی جائے تو تین کروڑ بنتا ہے۔ نبی کریمﷺ جمعہ کا خطبہ فرمانے کے لیے جب ممبر پر قدم مبارک رکھا تو آپ ﷺ نے آمین کہا ، دوسری سیڑھی پر قدم مبارک رکھا تو پھر آمین کہا ، تیسرے سیڑھی پر قدم مبارک رکھا تو پھر آمین کہا۔ صحابہ کرامؓ نے عرض کی کہ آمین کہنے کی کیا وجہ ہے تو آپﷺ نے فرمایا کہ جبرائیل ؑ نے کہا کہ وہ شخص تباہ ہو جائے جو والدین کوبڑھاپے میں پائے اور اُن کی خدمت نہ کر کے جنت کو حاصل کر سکے۔میں نے کہا آمین۔ دوسری سیڑھی پر جب میں نے قدم رکھا تو جبرائیل ؑ نے کہا کہ وہ شخص تباہ و برباد ہو جائے جب میرا نام آئے تو وہ مجھ پر درور شریف نہ بھیجے ، میں نے کہا آمین۔ تیسری سیڑھی پر جبرائیل ؑ نے کہا کہ وہ شخص تباہ و برباد ہو جائے جو ماہِ رمضان کے مہینے کو پائے اور اپنی بخشش نہ کروا سکے ، میں نے کہا آمین۔ اللہ تعالیٰ نے ماں کے اند ر محبت ،خلوص، عاجزی ، انکساری کوٹ کوٹ کے بھر دی ہے۔ کسی شاعر نے کیا خوب کہا ہے
سو کوہوں سے لگے ٹھیڈا ، سٹ ماں دے دل وِچ وجدی اے
عجب میں نے صابرا ماں کا پیار ڈیٹھا ، کھاندا پُت تے رجدی ماں پئی ہے

میاں محمد بخش صاحب نے فرمایا
ماں مرے تے پیکے مُکدے ، پیو مرے گھر ویلا شالا نہ مرّن ویر کسی دے ، اُجڑ جاندا جے میلا
باپ مرے او سر ننگا ہووے ، تے ویر مرّن تے کنڈ خالی ماں بعد محمد بخشاں، کون کرے رکھوالی
سیاں نال میں کھیڈرگئی آں ،تے ٹُٹ گئیاں میری ونگاں ماں ہوندی تے ہور چرواندی ، تے پیو تومنگدی سنگاں
تے بھائی بھائیاں دردی ہوندے ، تے بھائی بھائیاں دی باواں باپ سراندے ہائے تاج محمد ، تے ماواں ٹھنڈیاں چھاواں
لے او یار حوالے رب دے تے مُر مل لے اِک واری اس ملرے نُو تُو یاد کریسیں، تے روسیں عمراں ساری