(رانگ کال)،،،، محمد اشفاق حیدر

یہ رات کا پتہ نہیں کون سا پہر تھا میرے فون کی بیل مسلسل بج رہی تھی میں نے نہ چاہتے ہوئے بھی فون اٹھایا اور اک نظر کلاک پر ڈالی رات کا ایک بج رہا تھا لائن پر دوسری طرف اک نسوانی آواز ا بھری۔۔۔۔ ہیلو۔۔۔جی کون۔۔عاصمہ بول رہی ہوں۔ آپ علی بول رہے ہیں۔۔جی آپ سے بات کرنی ہے ۔ لیکن میں آپ کو نہیں جانتا ۔۔۔ لیکن میں تو جانتی ہوں نا۔۔اوہ پلیز ہولڈ کیجئے گا۔۔ میں نے بیوی کو دیکھا جو گہری نیند سو رہی تھی اور اس کے خراٹے سارے کمرے میں گونج رہے تھے۔میں دبے پاؤں اٹھا اور چلتے ہوئے باہر آ گیا کیوں کہ مجھے ڈر تھا اگر میری بیوی کو پتہ چل گیا تو میری پر سکون ازدواجی زندگی کو جھٹکا لگ سکتا ہے۔۔۔کمرے سے باہر نکل کر میں نے کچھ سکون محسوس کیا ۔۔جی اب بولیں۔۔ کیا بولوں؟ یہی کہ آ پ کون ہیں۔۔۔بتایا تو ہے نہ آپ کی کلاس فیلو۔۔۔آپ کو میرا نمبر کیسے ملا؟ فیس بک سے۔۔ پروفائل پکچر میں آپ کی فوٹو دیکھ کر۔ سچی آ پ تو آج بھی اسی طرح سمارٹ ہیں۔۔۔ باقی میں جتنا سمارٹ ہوں مجھے پتہ ہے ۔۔۔۔ سکول اور کالج میں مجھے لڑکے( کدو) کہتے تھے میں نے دل ہی دل میں سوچا۔۔ میں نے کہا آپ کو کوئی غلط فہمی ہوئی ہے۔۔۔۔نہیں مجھے کوئی غلط فہمی نہیں ہوئی۔ میں نے ڈرتے ڈرتے پوچھا کیا چاہتی ہو۔۔۔ دوستی۔۔ میں نے فون بند کر دیا اور خاموشی کے ساتھ آکر بیڈ پر لیٹ گیا نیند مجھ سے کوسوں دور تھی ۔۔سوچ سوچ کر تھک گیا یہ کون سی عاصمہ تھی۔۔۔پتہ نہیں کب میں گہری نیند کی آغوش میں چلا گیا۔۔پتہ اس وقت چلا جب بیوی جھنجھوڑ جھنجھوڑ کر اٹھا رہی تھی۔۔اٹھو منے کے ابا آج آفس نہیں جانا۔۔۔میں ہڑبڑا کر اٹھا گھڑی دیکھی سات بج رہے تھے اور مجھے آٹھ بجے دفتر پہنچنا تھا۔۔۔جلدی جلدی ناشتہ کیااور دفتر جا پہنچا ابھی میں اپنی کرسی پر بیٹھا ہی تھا کہ بیل پھر بج اٹھی۔۔۔ ہیلو ۔۔ جی۔۔۔ پھر کیا سوچا۔۔۔ کس بارے میں۔۔۔ دوستی کے بارے میں۔۔۔۔ آپ کو پتہ ہے۔۔۔ میں شادی شدہ ہوں اور میرے بچے ہیں۔۔۔ پھر کیا ہوا مجھے کوئی اعترض نہیں۔۔۔۔۔میں نے دائیں بایءں دیکھا کوئی سن تو نہیں رہا ۔۔یہ دیکھ کر سکھ کا سانس لیا ہر کوئی اپنے کام میں لگا ہوا تھا۔۔میں نے ہمت ہارتے ہوئے دوستی کی کی حامی بھر لی ۔۔یوں ہم دونوں میں بات چیت کا سلسلہ شروع ہو گیا۔۔۔ میرے کولیگز بھی حیران تھے پہلے کبھی اس کی کال آتی ہی نہیں تھی۔۔ اب ہے کہ اتنی لمبی
کا لیں۔۔دن گزرتے جا رہے تھے اور میرے اندر تبدیلیاں آتی جا رہی تھیں۔میں پہلے سے زیادہ اپنا خیال رکھنے لگا تھا اور دن میں کئی بار آیئنہ دیکھنے لگا تھا میں نے دل ہی دل میں اسے پسند کرنا شروع کر دیا تھا اورمیرے دل میں جواس کی تصویر ۔ بنی تھی وہ ایک خوبصورت ماڈل گرل کی تھی۔عاصمہ میرے کپڑوں ۔ کھانے پینے کا پوچھتی رہتی تھی اور میں اس کی پسند۔۔اور میں کوشش کرتا کہ جو عاصمہ کو پسند ہو وہی کروں۔۔جبکہ میری پسند کو وہ یہ کہہ کر ٹال دیتی کہ مجھے آپ کا زیادہ خیال ہے۔۔ کھانے میں اس نے مجھے پیزا برگر پہ لگا دیا۔۔جب گھرمیں آتا تو تو وہی بینگن اور ٹینڈے۔۔ جو مجھے اچھے لگتے تھے اب زہرلگنے لگے تھے۔ یہی حال بیوی کے بارے تھا۔۔۔ پہلے جب میں گھر واپس آتا تو بیوی سے پوچھتا۔۔جانو! آج کیا پکا ہے ۔۔۔بیوی بھی حیران تھی آ خر اس کو ہوا کیا ہے۔۔میں اس کو کیا بتاتا کہ میں کس مرض میں مبتلا ہو چکا ہوں میں دفتر کی کوئی ٹینشن کا کہہ کر اس کو ٹال دیتا۔۔۔ٹال تو مجھے عاصمہ بھی دیتی جب میں اس کو ملنے کا کہتا حالا نکہ میں نے اس کے کہنے پرسفید بالوں پہ خضاب بھی لگانا شروع کر دیا تھااس کے کہنے پر وزن کم کرنے کے فارمولے پر عمل کرنا بھی شروع کر دیا۔۔۔ دیسی کھانے چھوڑ کر ولائتی کھانے بھی شروع کر دیئے لیکن جب ملنے کا کہتا تو وہ ہمیشہ کی طرح ٹال دیتی۔ اک میں تھا ک میرے دل میں بے چینی بڑھتی جا رہی تھی ۔۔۔۔ اس کو ایزی لوڈکرواتے کرواتے بھی میں تھک سا گیا تھا اب میں نے فیصلہ کر لیا تھا کہ اس کے ساتھ شادی کروں گا۔۔ میں نے کسی نہ کسی طرح اس کو پارک میں ملنے کے لیئے راضی کر ہی لیا۔۔حالانکہ ان کا کٹر مذہبی گھرانہ تھا ۔۔ ادھر سے میں نے بھی لش پش تیاری کی تھی کہ عاصمہ آج انکار نہ کر سکے گی طے کردہ وقت پر میں پارک پہنچ گیا اور عاصمہ کا انتظار کرنے لگاآج میں نے اس کی پسند کا بلیو رنگ کا سوٹ پہنا تھا۔۔اتنے میں پارک میں ایک نقاب پوش عورت داخل ہوئی ڈیل ڈول میں وہ اک بھینس لگ رہی تھی چلتے چلتے وہ میرے قریب پہنچی اور آہستہ سے بولی آپ علی ہو نا؟۔۔ جی جی میں ہی ۔۔علی ہوں نے پوچھا آپ کون۔۔۔ عاصمہ۔۔ مجھے اپنی سانس رکتی ہوئی محسوس ہونے لگی۔۔ میں نے پھر تصدیق کے لیے پوچھا کیا واقعی آپ ہی عاصمہ ہو ؟۔۔جواب ہاں میں ملنے کے بعد میں پارک سے یوں بھاگا جیسے بچے سکول سے بھاگتے ہیں گھر آ کر میں نے سکھ کا سانس لیا اور اپنی بیوی کو آواز دی کہ جانو آج کیا پکا ہے؟۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور وہ محاورہ مجھے یاد آنے لگا لوٹ کے بدھو گھر کو آئے!!!