کشمیریوں کی عید سے پہلے عید،،،،،،،،،تحریر:ممتاز حیدر

دن کو شہداء کے لاشے ،رات کو پاکستان کی فتح کا جشن
پاکستانی پرچم تھامے کشمیریوں کے’’جیوے پاکستان‘‘کے نعرے،آتش بازی بھارت برداشت نہ کر سکا
پیلٹ گن کے بعد ہزاروں مرچی پاوا شیل اور پلاسٹک کی گولیاں ،بھارت کا نیا حربہ
مقبوضہ کشمیر کے عوام پاکستانی کرکٹ ٹیم کو اپنی ٹیم سمجھتے ہیں، یہی سوچ اور یہی جذبہ کشمیری قوم کو پاکستان کا حصہ بناتا ہے

چیمپئنز ٹرافی میں پاکستان کرکٹ ٹیم کی بھارت کیخلاف شاندار فتح نے مقبوضہ کشمیرمیں بدترین ریاستی دہشتگردی کے شکارلوگوں کوبھی نہال کردیا، پے درپے بے گناہ شہادتوں سے افسردہ دل خوشی سے جھوم اٹھے اورہزاروں کشمیریوں نے سخت ترین پابندیوں کے باوجود سڑکوں پرنکل کرپاکستانی جیت کا بھرپورجشن منایا،نوجوانوں نے پٹاخے چلائے ،ہارن بجائے اورفلک شگاف نعرے لگائے جبکہ غاصب انڈین فورسزنے سیخ پا ہو کر جشن منانے والوں کو بہیمانہ تشددکانشانہ بنایا۔سری نگر میں جشن کو روکنے کے لیے قابض فورسز نے کرفیو نافذ کردیا اور انٹرنیٹ سروس بند کر دی۔ کشمیری نوجوان جیوے جیوے پاکستان کے نعرے لگاتے مستانہ وارجھومتے رہے جبکہ جگہ جگہ پاکستان کاسبزہلالی پرچم لہراتانظرآیا، جشن مناتے ایک کشمیری نوجوان عامرنے کہا کہ یہ وہی موقع ہے جس کا ہمیں بہت عرصے سے انتظار تھا۔ یہ ہمارے خوابوں کی تعبیر ہے۔ کشمیری شہریوں کی جانب سے سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر شیئر کی گئی تصاویر میں کشمیریوں کو آتش بازی کرتے اور بھنگڑے ڈالتے دیکھا جا سکتا ہے تاہم بھارتی فورسزنے آگ بگولہ ہوکرجشن منانے والوں پردھاوابول دیا،انہیں منتشرکرنے کیلئے آنسوگیس کے گولے داغے اور پیلٹ گن کابھی بے دریغ استعمال کیا،نتیجے میں کئی افراد زخمی بھی ہوئے جبکہ کٹھ پتلی انتظامیہ نے سرینگرسمیت کئی علاقوں میں کرفیونافذکردیا۔حریت رہنما میر واعظ عمر فاروق نے پاکستانی ٹیم کو مبارکباد دیتے ہوئے لکھا کہ ہر طرف آتش بازی ہو رہی ہے ، یوں لگتا ہے کہ عید سے پہلے عید آ گئی۔ مقبوضہ کشمیر میں کل جماعتی حریت کانفرنس کے چےئرمین سید علی گیلانی ، میرواعظ عمرفاروق ،یاسین ملک،سیدہ آسیہ اندرابی اور دیگر حریت پسند رہنماؤں نے بھارت کو شکست دیکر چمپئنز ٹرافی جیتنے پر پاکستانی عوام اور اس کی ٹیم کو مبارکباد دی ہے۔ بہت سے کشمیریوں نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پراپنی خوشی کااظہارکیا جبکہ ایک نوجوان مومن احمد نے ٹوئٹ کیا کہ میں نے فخر زمان کی سنچری پر خوشی ٹوئٹر کے بجائے کشمیر کی گلیوں میں بھارتی سیکیورٹی اہلکاروں کے سامنے منائی۔میر واعظ عمرفاروق نے نگین سرینگر میں اپنی رہائشگاہ کے باہر نوجوانوں کے ایک اجتماع سے خطاب کیا جو پاکستان کی جیت کا جشن منانے کے لیے وہاں جمع ہوئے تھے۔ نوجوان راجوری کدل سے پاکستان کے حق میں نعرے لگاتے ہوئے آئے تھے اور پٹاخے چلارہے تھے۔ اتوار کی رات سرینگر، بارہمولہ ، اسلام آباد، کولگام، شوپیان ، پلوامہ ، بڈگام، بانڈی پورہ اور گاندربل اضلاع میں نوجوانوں نے سڑکوں پر نکل کر پاکستان کی جیت کا جشن منایا اوربے شمار پٹاخے چھوڑے۔ میچ کے دوران جب بھارتی بیٹنگ ناکام ہونا شروع ہوئی تو وادی کشمیر پٹاخوں سے گونج اٹھی۔سرینگرشہر کے پرانے علاقے میں سینکڑوں نوجوان جامع مسجد کے سامنے جمع ہوئے اور نعروں اور پٹاخوں کی گونج میں نماز ادا کی ۔ کشمیر یونیورسٹی کے ہوسٹلز میں لڑکے باہر آئے اور ترانے بجانا اور ناچنا شروع کیا۔ مساجد میں پاکستان کے حق میں اور بھارت کے خلاف نعرے لگائے گئے۔ بہت سی جگہوں پر پاکستان کا قومی ترانہ بجایا گیا۔ بھارتی فوجیوں نے سرینگر کے پرانے علاقے میں جشن منانے والے نوجوانوں پر پیلٹ فائر کرکے دو افراد کو زخمی کردیا۔بھارتی فوج نے چیمپیئنز ٹرافی میں پاکستانی ٹیم کے میچ جیتنے کا جشن منانے کا غصہ نکالنے کیلئے شالیمار سری نگر میں واقع کشمیریوں کی دوکانوں وگھروں پر دھاوابول دیااورتوڑ پھوڑ کرتے ہوئے کروڑوں روپے مالیت کا نقصان پہنچایا گیا ہے۔ بھارتی فورسز اہلکاروں نے بانڈی پورہ میں جامع مسجد شریف کے شیشے بھی توڑ ڈالے اور کئی گاڑیوں کی طرح دوکانوں اور مکانات میں گھس کر قیمتی سامان کی توڑ پھوڑ کی گئی ہے۔حریت کانفرنس نے بھارتی فورسز کی ان حرکتوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارتی فوج میچ کا جشن منانے پر ابھی تک مختلف علاقوں میں انتقامی کاروائیاں کر رہی ہے۔ شالیمار سری نگر کے مقامی رہائشیوں کا کہنا ہے کہ مقبوضہ کشمیر کے دیگر علاقوں کی طرح یہاں کے لوگوں نے بھی پاکستان کی فتح کا جشن منایا تاہم یہاں قریب فوجی کیمپ میں موجود اہلکاروں کو ان کا سخت غصہ تھا ۔ مقامی رہائشیوں نے حریت ترجمان ایاز اکبر کو بتایا کہ مذکورہ کیمپ کے فوجی اہلکاروں نے گذشتہ رات اچانک شور شرابہ کیا اور پھرسوچے سمجھے منصوبہ کے تحت ان کی دوکانوں و گھروں پر ہلہ بول دیا۔ اس دوران وہ غلیظ گالیاں دیتے رہے اور گاڑیوں کے ساتھ ساتھ دوکانوں و گھروں میں موجود قیمتی سامان کو بری طرح الٹ پلٹ کرتے ہوئے توڑ پھوڑ کی گئی جس سے کروڑوں روپے مالیت نقصان ہوا ہے۔ بانڈی پورہ میں بھی ہندوستانی فورسز کی جانب سے شہریوں کی زبردست مارپیٹ کی گئی ، انہیں تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور گاڑیوں کی توڑ پھوڑ کی گئی ہے۔ حریت کانفرنس (گ) کے ترجمان ایاز اکبر کا کہناہے کہ کسی ملک کے ساتھ محبت کرنے کو اگرچہ دنیا کے کسی بھی آئین میں منع نہیں کیا گیا ہے، البتہ پاکستان سے محبت کرنا کشمیریوں کے لیے جْرم بن گیا ہے اور بھارتی فورسز انہیں اس کی بھرپور سزا دے رہی ہیں۔ انہوں نے شالیمار سری نگر میں آتشزدگی اور توڑ پھوڑکے واقعات کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کرانے اور مجرموں کو کیفر کردار تک پہنچانے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ یہاں کروڑوں کی مالیت کا نقصان کیا گیا ہے اور یہ تمام دوکانیں ان لوگوں کی ہیں، جو دن بھر کمائی کرکے اپنے اور اپنے اہل وعیال کا پیٹ پالتے ہیں۔کہ بھارتی فوجیوں نے توڑ پھوڑ کے ساتھ ساتھ دوکانوں میں موجود سامان کو آگ بھی لگائی جس سے کروڑوں کی مالیت کا نقصان ہوا ہے۔ بانڈی پورہ میں جا مع مسجد شریف کے شیشے بھی توڑے گئے ہیں۔ پاکستانی پرچم تھامے کشمیریوں کے’’جیوے پاکستان‘‘کے نعرے اورآتش بازی ہندوستانی فوج سے برداشت نہ ہوئی اور اس نے ایک مرتبہ پھر وادی میں ریاستی ظلم وجبر اور مظالم کی انتہاکردی ہے۔بھارتی فوج کی جانب سے وحشیانہ کاروائی تشویش ناک ہے۔ انڈیا کبھی کشمیریوں کے دلوں سے پاکستان کی محبت ختم نہیں کرسکتا۔کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے اور پاکستانی قوم کشمیریوں کی اخلاقی وسفارتی حمایت جاری رکھے گی۔اقوام متحدہ کی قراردادوں پر من وعن عمل درآمد کرتے ہوئے مقبوضہ کشمیر کے تین کروڑ عوام کو حق خود ارادیت دیاجائے۔ آج بھی مقبوضہ کشمیر کے عوام’’گوانڈیاگو بیک،ہم کیا چاہتے آزادی اور کشمیر بنے گا پاکستان‘‘ کے نعرے لگارہے ہیں اور کشمیری شہداء کو پاکستانی پرچموں میں دفنایاجاناپسند اور اپنے لیے ایک اعزاز سمجھتے ہیں۔ آئی سی سی چیمپئنزٹرافی کے فائنل میچ میں پاکستانی ٹیم کے ہاتھوں بھارت کوعبرت ناک شکست اور قومی کرکٹ ٹیم کی تاریخی کامیابی اور25سال بعد رمضان المبارک میں ہی دوسری بڑی جیت کاتحفہ ہے۔ امید ہے کہ پاکستانی کرکٹ ٹیم یونہی فتوحات کے جھنڈے گاڑھتے رہے گی۔ٹیم نے محنت،حوصلہ اور غیر متزلزل عزم سے شاندار کامیابی حاصل کی ہے۔بھارت کے خلاف شاندار کارکردگی پر پوری ٹیم،مینجمنٹ،پی سی بی مبارک باد کی مستحق ہے۔یہ جیت اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ پاکستانی قوم ڈٹ کرمقابلہ کرنے والی قوم ہے۔ قومی کرکٹ ٹیم کے کھلاڑی خصوصاً سرفراز احمد کی کپتانی ، نوجوان فخر زمان ، حسن علی شاداب اور تجربہ کار کھلاڑی محمد حفیظ ، اظہر علی اور محمد عامر نے خوب رنگ جمایا ہے ۔ کسی کو توقع نہیں تھی کہ قومی کرکٹ ٹیم اوول میں چیمپئنز ٹرافی اس طریقے سے جیتے گی اور بھارتی ٹیم بری طرح ہار ے گی ۔ نوجوان کھلاڑی ٹیم ورک اور خوب محنت سے جیتے اس جیت سے پاکستان میں بین الاقوامی کرکٹ کا دروازہ کھل جاناچاہیے ۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارت نواز سیاسی جماعتیں اور سیاستدان کشمیریوں کی نسل کشی اور انسانیت کے خلاف جرائم میں بھارتی فوج کے سہولت کار بنے ہوئے ہیں،فاروق عبداللہ ، محبوبہ مفتی ، اور ان کے ساتھی کشمیری قوم کے مجرم ہیں جو اپنے کشمیری بھائیوں کو بھارتی فوجیوں کے ہاتھوں قتل ہوتا دیکھ کر خاموش تماشائی بنے رہتے ہیں اور اس ظلم کے خلاف آواز بلند نہیں کرتے ۔ مقبوضہ کشمیر میں اس وقت کشمیری قوم کے حقیقی لیڈر اور نمائندے حریت رہنما ہیں جن کی ایک کال پر لاکھوں لوگ سڑکوں پر نکل آتے ہیں۔ حریت کانفرنس کے قائدین کشمیری قوم کی نمائندگی کرتے ہوئے قابض فوج کے عتاب کا نشانہ بنتے ہیں۔ اپنے بھائیوں کے جنازوں کو کندھا دیتے اور غمزدہ خاندانوں کی غمگساری کرتے ہیں۔ بد قسمتی سے بھارتی حکمران کشمیریوں کو مسئلہ کشمیر کا فریق ہی نہیں سمجھتے ۔ حالانکہ پاکستان بھارت سے دو طرفہ مذاکرات سے قبل ہمیشہ کشمیری قیادت کو اعتماد میں لیتا رہا ہے ۔ لیکن بھارت کشمیریوں کے ساتھ کسی قسم کی سیاسی گفتگو کرنے کا روادار نہیں ہے ۔ جمہوری ملک ہونے کا دعویدار بھارت جمہوری اُصولوں کے بر عکس سیاسی مذاکرات اور بات چیت سے انکاری ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ گزشتہ 70 برس سے مسئلہ کشمیر کا کوئی قابل قبول حل نہیں نکل سکا ۔ بھارت تمام تر حربوں کے باوجود کشمیریوں کو بھارت کا حصہ بننے پر آمادہ نہیں کر سکا ۔ آئندہ بھی کشمیری بھارت کے ساتھ رہنے کا سوچ بھی نہیں سکتے ۔ رمضان المبارک کے مقدس مہینے میں مقبوضہ کشمیر کے مظلوم عوام کی دعائیں رنگ لائیں ہیں۔ ٹیم پاکستان نے ٹرافی جیت کر پوری قوم کو سر خرو کیا ہے ۔ سرینگر میں جشن کا سماں اس کا ثبوت ہے کہ پاکستان اور کشمیریوں کا ہر غم اور خوشی سانجھی ہے ۔ قومی کرکٹ ٹیم کی خوشی مناتے کشمیریوں کے خلاف قابض فوج کا کریک ڈاؤن قابل مذمت ہے ۔ مقبوضہ کشمیر کے عوام پاکستانی کرکٹ ٹیم کو اپنی ٹیم سمجھتے ہیں۔ یہی سوچ اور یہی جذبہ کشمیری قوم کو پاکستان کا حصہ بناتا ہے ۔ اس لئے قائداعظم نے کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ قرار دیا تھا۔
بھارتی وزارت داخلہ نے دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کیلئے مقبوضہ کشمیر میں پیلٹ گن ختم کرنے کے نام پر متبادل کے طور پر ہزاروں مرچی پاوا شیل اور ایک لاکھ پلاسٹک کی گولیاں ہندوستانی فورسز کو فراہم کر دی ہیں۔نئے رہنماخطوط یا گائیڈ لائینزکے تحت پہلے فورسز اہلکارمظاہرین کومنتشرکرنے کیلئے لاٹھی چارج ،پھرآنسوگیس شلنگ ،بعد میں پاوا شیلنگ اور،پھرپلاسٹک اور ربڑکی گولیوں کااستعمال کیا جائے گا۔اس دوران اگر ان تمام اقدامات کے باوجود مظاہرین منتشر نہیں ہوتے تو بھارتی فورسز اہلکار فائرنگ بھی کر سکتے ہیں۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل اور ایشیا واچ سمیت دنیا بھرکے مختلف ملکوں و اداروں کی جانب سے پیلٹ گن کے استعمال پر کی جانے والی تنقید کے بعد ہندوستانی وزار ت داخلہ نیا ڈرامہ رچا رہی ہے۔ پلاسٹک کی گولیاں، پیلٹ فائرنگ یاچھروں سے کم مہلک ہوتی ہیں تاہم ماہرین نے خبردارکیاہے کہ اگرپلاسٹک کی گولیاں ایک ایک کے بجائے ایک ساتھ چلائی جائیں تواس سے بھی جانی نقصان کااحتمال رہے گا۔ہندوستانی وزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ کشمیروادی میں مظاہروں پرقابوپانے یامظاہرین کومنتشرکرنے کیلئے ایک نئی حکمت عملی اپنانے کی منظوری دی گئی ہے ،جس کے تحت مظاہرین کیخلاف اب پیلٹ گن کااستعمال بتدریج ختم کر دیا جائے گا۔مقبوضہ کشمیر میں تعینات ہندوستانی پولیس فورس بشمول سی آرپی ایف ،آئی ٹی بی پی ،شاستریہ سیمابل وغیرہ کومظاہرین سے نمٹنے کے جورہنماخطوط یاگائیڈلائن دی گئی ہے ،اْسکے تحت اْنھیں گولی والے بندوق کوآخری ہتھیارکے طوراستعمال کرنے کی اجازت ہوگی۔ احتجاجی مظاہروں پرقابوپانے کی نئی حکمت عملی کے تحت کشمیر میں تعینات فورسزاہلکاروں کوابتدائی طور پر پلاسٹک کی ایک لاکھ گولیاں اورمرچی والے ہزاروں پاؤاشل فراہم کئے گئے ہیں۔ برہان وانی کی شہادت کے بعد پیلٹ گن کے چھرے لگنے سے ہزاروں افراد زخمی ہوئے اور سینکڑوں کشمیری بچوں، لڑکیوں اور نوجوانوں کی بینائی چلی گئی۔کشمیر میں پیلٹ گن کی جگہ پاوا شیل اور ربڑ کی گولیاں استعمال کرنے کی منظوری ہندوستانی وزارت داخلہ کی جانب سے قائم کی گئی کمیٹی کی سفارشات پر عمل درآمد کرتے ہوئے دی گئی ہے۔مقبوضہ کشمیر کے آزادی پسند قائدین سید علی گیلانی، میرواعظ عمر فاروق اور محمد یاسین ملک نے بھارتی تحقیقاتی ایجنسی این آئی اے کے ذریعے تاجر برادری کے کچھ افراد کی نئی دہلی میں مسلسل پوچھ گچھ اور ہراسانی کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارتی حکمران این آئی اے کو اگرچہ محدود ایجنڈے کے ساتھ ایک خودمختار باڈی قرار دیتے ہیں، البتہ کشمیر کے حوالے سے اس ادارے کو ایک سیاسی اور جنگی حربے کے طور استعمال کیا جا رہا ہے، اس کا مقصد کشمیری قیادت کو گن پوئینٹ پر سرینڈر کرانا اور ہماری مبنی بر حق جدوجہد پر مجرمانہ لیبل چسپاں کرانا ہے۔ بھارتی حکومت نے جس طرح این آئی اے کے ذریعے عالمی شہرت یافتہ اسلامی اسکالر ڈاکٹر ذاکر نائیک کے خلاف فرضی قصے کہانیاں کھڑی کرکے انہیں وطن بدر ہونے پر مجبور کر دیا۔ اسی طرح وہ کشمیری آزادی پسندوں کو جھوٹے اور بے بنیاد کیسوں میں پھنسا کر حقِ خودارادیت کے لئے جاری جدوجہد کو چوٹ پہنچانا چاہتے ہیں۔مزاحمتی قائدین نے خبردار کیا کہ این آئی اے کے ذریعے ہراسانی کا یہ سلسلہ بند نہیں کیا گیا تو اس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے، جن کی تمام تر ذمہ داری بھارتی حکومت پر عائد ہوگی۔ آزادی پسند قیادت اس سلسلے میں ایک جامع حکمتِ عملی پر غور کر رہی ہے اور اس سلسلے میں سماج کے تمام طبقوں کو اعتماد میں لیا جا رہا ہے۔ سرینگر میں چھاپوں کے دوران اگرچہ کسی بھی آزادی پسند لیڈر کے گھر سے کوئی حوالہ رقم یا قابل اعتراض مواد برآمد نہیں ہوا، البتہ این ائی اے اْس طرح سے ایک پلاٹ تیار کرکے انہیں پھنسانا چاہتی ہے، جس طرح سے اْس نے ڈاکٹر ذاکر نائیک کے کیس میں کیا تھا۔ این آئی اے کو غیر جانبدار اور خودمختار تحقیقاتی ادارہ نہیں ہے، بلکہ یہ محض ایک جنگی اور سیاسی حربہ ہے، جس کے ذریعے سے بھارتی حکومت ہر اس شخص، ادارے یا جماعت کو دبانا چاہتے ہیں، جو ان کے ہندو راشٹر بنانے کے پروگرام میں سدِّ راہ بن سکتا ہے یا جو اپنے بنیادی اور پیدائشی حق کے لئے آواز اٹھاتا ہے اور جدوجہد کرتا ہے۔ کشمیر ہمالیہ سے بڑی ایک مجسم حقیقت ہے، اس کو ماضی میں اوچھے ہتھکنڈوں کے ذریعے سے حل کیا جاسکا ہے اور نہ مستقبل میں اس طرح کی کوششوں سے کوئی نتیجہ برآمد ہونے کی امید ہے۔ بھارت کے پالیسی سازوں کو ہمارا مشورہ ہے کہ وہ این آئی اے اور دوسرے حربوں کو بیچ میں لانے کے بجائے کشمیریوں کی رائے کا احترام کریں۔ ان کے ساتھ کئے گئے وعدوں کو پورا کریں اور انہیں اپنے مستقبل کے تعین کا فیصلہ کرنے کا موقع فراہم کریں۔ یہ نہ صرف اس خطے میں جاری سیاسی غیر یقینیت کو ختم کرنے اور پائیدار امن لانے کی واحد سبیل ہے، بلکہ یہ خود بھارت اور اس کے کروڑوں عوام کے حق میں بہتر ثابت ہوگا، اس سے ان کی ترقی اور خوشحالی میں حائل رْکاوٹیں دْور ہوجائیں گی۔ کشمیری ایک امن پسند قوم ہے اور امن کے سب سے زیادہ خواہش مند لوگ ہیں، البتہ امن قائم کرانے کی کْنجی بھارتی حکمرانوں کے ہاتھ میں ہے۔ بھارت ضد اور ہٹ دھرمی ترک کرکے حقائق کو قبول کرنے کے لئے تیار ہوجائیں تو پورے برصغیر میں ایک نئی صبح کا آغاز ہوگا اور اس خطے کے لوگ چین و راحت کی زندگی گزارنے کی پوزیشن میں ہوں گے۔