یوم القدس اور یہودیت تاریخ کے آئینہ میں،،،،،میرافسر امان

مشرقی اُفق

فلسطین مسلمانوں کا ہے۔ اس میں مسلمانوں کا قبلہ اول ہے ۔مسجد اقصیٰ کا قرآن شریف میں بھی ذکر ہے۔ مسلمانوں کا اس پر حق ہے۔ مسلمانوں کے قبلہ اول ،مسلمانوں کو ملنا چاہیے ۔مسلمانوں کے قبلہ اول پر عالمی سازش کے ذریعے یہودی قابض ہیں۔ یہ سراسر ناانصافی ہے ۔ اسی لیے دنیا کے مسلمان ۱۹۷۹ء سے ہر سال رمضان کے آخری جمعہ کوروز یوم القدس مناتے ہیں۔ اس سال بھی یوم القدس شاندار طریقے سے منایا جائے گا۔ یہودی دو ہزار سال سے دنیا میں پروپیگنڈہ کر تے رہے ہیں کہ فلسطین ان کا آبائی وطن ہے۔ یہ بات بھی ہم سب کو معلوم ہونی چاہیے کہ فلسطین یہودیوں کا آبائی وطن نہیں ہے۔ تیرہ سو برس قبل مسیح میں بنی اسرائیل فلسطین میں داخل ہوئے تھے۔ اس وقت فلسطین کے اصل باشندے دوسرے لوگ تھے جن کا ذکر خود بائیبل میں تفصیل کے ساتھ موجود ہے۔بائیبل سے معلوم ہوتا ہے کہ یہودیوں نے فلسطین کے اصل باشندوں کو قتل کیا اوراس سر زمین پر قبضہ کیا تھا۔ اسرائیلیوں کا یہ دعویٰ تھا کہ خدا نے یہ ملک ان کو میراث میں دیا ہے۔ یہ اسی طرح ہے جیسے فرنگیوں نے سرخ ہندیوں(red indians )کو فنا کر کے امریکہ پر قبضہ کیا تھا۔ دسویں صدی قبل مسیح میں حضرت سیلمانؑ نے ہیکل سلیمانی تعمیر کرایا تھا۔آٹھویں صدی قبل مسیح اسیریا نے شمالی فلسطین پرقبضہ کر کے اسرائیلیوں کاقلع قمع کیا تھا اورعربی النسل قوموں کو آباد کیا تھا۔ چھٹی صدی قبل مسیح میں بابل کے بادشاہ بخت نصر نے جنوبی فلسطین پر قبضہ کر کے تمام یہودیوں کو جلاوطن کر دیا تھا۔طویل مدت کی جلاوطنی کے بعد ایرانیوں کے دور میں یہودیوں کو پھر جنوبی فلسطین میں آباد کا موقع ملا۔ ۷۰ ؁ء میں یہودیوں نے رومی سلطنت کے خلاف بغاوت کی، جس کی پاداش میں رومیوں نے ہیکل سلیمانی کو مسمار کر کے کھنڈرات میں تبدیل کردیا۔ ۱۳۵ ؁ء میں رومیوں (عیسایوں)نے پورے فلسطین سے یہودیوں کونکال دیا۔ پھر فلسطین میں عربی النسل لوگ آباد ہو گئے۔ جیسے وہ آٹھ سو برس پہلے آباد ہوئے تھے۔اسلام کے آنے سے پہلے فلسطین میںیہی عربی قبائل آباد تھے۔ فلسطین میںیہودیوں کی آبادی قریب قریب بالکل نا پید تھی۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ایک تو یہودی ابتدا میں نسل کُشی کر کے فلسطین میں زبردستی آباد ہوئے تھے دوم شمالی فلسطین میں چار سو برس اور جنوبی فلسطین میں آٹھ سو برس رہے۔ جبکہ عرب شمالی فلسطین میں ڈھائی ہزار سال اور جنوبی فلسطین میں دو ہزار سال سے آباد چلے آ رہے ہیں ۔ اس کے باوجود یہودی کہتے ہیں کہ فلسطین ان کے باپ داد کی میراث ہے جبکہ یہ تاریخی فراڈ ہے۔ یہودی کہتے ہیں ان کو حق ہے کہ فلسطین کے قدیم باشندوں کو اسی طرح نکال باہر کریں اور خود ان کی جگہ پر بس جائیں جس طرح تیرہ سو برس قبل مسیح میں انہوں نے کیا تھا۔ یعنی قدیم باشندوں کو فلسطین سے زبردستی نکال دیا تھا۔صاحبو !یہ حقیقت ہے کہ فلسطین کے اصل باشندے عرب ہیں نہ کہ یہودی۔ اللہ نے اسرائیلیوں پر بڑی مہربانیاں کی تھیں۔ قرآن ان مہربانیوں سے بھرا پڑا ہے۔اللہ نے بنی اسرائیل سے پہاڑ اُوپر اٹھا کر سخت عہد لہا تھا کہ وہ اللہ کے بندے بن کر رہیں گے ظلم زیادتی نہیں کریں نا حق لوگوں کو قتل نہیں کریں گے۔ فرعون سے ان کو نجات دلائی۔ ان کے لیے من و سلویٰ آسمان سے اُترا۔ بادلوں سے ان پر سایہ کیا۔ ان کو دنیا کی قوموں پر فضلیت دی، مگر بنی اسرائیل نے اللہ سے پختہ عہد توڑ ڈالا۔ اللہ نے ان کو سزا دینے کے بعد پھر معاف کر دیا اور کہا کہ بنی اسرائیل تم دنیا میں دو مرتبہ فساد بر پا کرو گے۔ بنی اسرائیل نے اس دنیا میں دو مرتبہ فساد بر پا کیا۔ اللہ نے بھی دو مرتبہ ان کو اسیریا اور بخت نصر سے سزا دلوائی اور کئی سالوں سے وہ دنیا میں تتربتر تھے ۔ بنی اسرائیل اللہ کی نافرمان ترین قوم ہے۔ قرآن شریف بنی اسرائیلکی بداعمالیوں کی وجہ چاج شیٹ سے بھی بھرا پڑا ہے۔ یہودی دنیا میں تمام خرابیوں کے موجد ہیں۔ خدا خوفی، اللہ سے کھلی بغاوت پر کیمونزم نظام کاقیام، سودی نظام، فحاشی ،بے حیائی،وعدہ خلافی، احسان فراموشی اور فلسطین میں موجودہ مظالم جن میں ۴۰۰ ا فلسطینی شہید ہو چکے ہیں ن کے کارنامے ہیں۔ دو ہزار برس سے یہودی دنیا بھر میں ہفتے میں چار مرتبہ یہ دعائیں مانگتے رہے ہیں کہ بیت المقدس پھر ان کے قبضے میں آ جائے اور ہم ہیکل سلیمانی کو پھر سے تعمیر کریں ۔ فلسطین میں زور،زبردستی اور عالمی سازش کاروں کی مدد سے پھر فلسطین میں آباد ہو جائیں۔ یہودی گھروں میں مذہبی تقریبات کے موقع پر اس تاریخ کا پورا ڈرامہ کھیلا جاتا رہا ہے کہ ہم کس طرح فرعون کے دور میں مصر سے نکلے اورفلسطین میں آباد ہوئے،کس طرح اسیریا، بخت نصر اور رومیوں نے ہمیں فلسطین سے نکال کر تتر بتتر کیا۔ یہ بات یہودیوں کے بچے بچے کے ذہن میں بٹھائی جاتی رہی ہے کہ تم نے بیت المقدس میں ہیکل سلیمانی کو پھر سے تعمیر کرنا ہے۔ اس پالیسی کے تحت یہودیوں کی مدد کرتے ہوئے دنیا کی بڑی طاقتوں نے یہودیوں کو عالمی سازش کے ذریعے فلسطین میں ذبردستی قبضہ دلایا۔ تاریخی طور پر ثابت ہے کہ رومیوں کے زمانے میں فلسطین یہودیوں سے خالی کرا لیا گیا تھا بیت المقدس میں ان کا داخلہ ممنوع تھا۔مسلمانوں نے ان کو فلسطین میں رہنے اور بسنے کی اجازت دی تھی پچھلی چودہ صدیوں میں یہودیوں کوصرف مسلمان حکومتوں میں امن نصیب ہوا ہے۔ دنیا میں جہاں بھی عیسائی حکومتیں تھیں وہاںیہودی اپنی بد اعمالیوں کی وجہ ظلم و ستم کا نشانہ بنتے رہے۔یہودی مورخین

۲
لکھتے ہیں کہ ان کو اندلس میں مسلمانوں کی رعایا کی حیثیت سے رہنے کا دور تاریخ کا سب سے زیادہ شاندار زمانہ تھا۔ یکم جولائی ۱۹۶۷ ؁ء نیوز فرام اسرائیل بمبئی سرکاری بلیٹن کی اشاعت کے مطابق سولہوی صدی میں ترکی سلطان سیلم عثمانی نے دیورا گریا کو کوڑے کرکٹ میں سے ڈھونڈ کر یہودیوں کو زیارت کی اجازت دی۔لیکن یہودی احسان فراموش قوم ہے وہ مسلمانوں کی شرافت اور فیاضی اور حسن سلوک کا بدلہ موجودہ ظلم کی شکل میں دے رہی ہے۔ یہ اتنی ڈھیٹ اور سازشی قوم ہے کہ اس نے ۱۸۸۰ ؁ء سے دنیا بھر سے ہجرت شروع کی اور فلسطین جا کر زمیں خریدنی شروع کیں۔۱۸۹۷ ؁ء یہودی لیڈر ہرتزل نے صہیونی تحریک کا آغاز کیا گیا(zionist movement)۔ اس میں اس بات کا مقصود قرار دیا گیا کی فلسطین پر دوربارہ قبضہ حاصل کیا جائے ہیکل سلیمانی تعمیر کیا جائے۔یہودی سرمایہ داروں نے اس غرض کے لیے بڑے پیمانے پر مال فراہم کیا کہ یہودی فلسطین منتقل ہوں اور زمینیں خریدیں اور منظم طریقے سے اپنی بستیاں بسائیں۔ ۱۹۰۱ ؁ء میں اسی ہرتزل نے سلطان ترکی عبدالحمید خان کو پیغام بھجوایا کہ یہودی ترکی کے تمام قرضے ادا کرنے کو تیار ہیں اگر فلسطین کو یہودیوں کا قومی وطن بنانے کی اجازت دے دیں۔مگر سلطان نے اس پیغام کو حقارت سے ٹھکرا دیا اور کہا میں تمہاری دولت پر تھوکتا ہوں کہ فلسطین تمہارے حوالے نہیں کروں گا۔جس شخص کے نام پیغام بھیجا گیا تھا اس کا نام حا خام قرہ صو آفندی تھا۔ اس نے سلطان کو ہرتزل کی طرف سے دھمکی دی تھی اور اس کے بعد سلطان کی حکومت کو الٹنے کی سازش شروع ہوئی اس سازش کے پیچھے فری میسن،دونمہ اور وہ ترک نوجوان مسلمان تھے ۔ جو مغربی تعلیم کے زیر اثر آکر ترکی میں قوم پرستی کے علمبردار بن گئے تھے۔ دونمہ وہ یہودی تھے جنہوں نے ریاکارانہ اسلام قبول کر رکھا تھا ۔ ترک ان کو دونمہ کہتے ہیں۔جب ترکی میں حالات بہت زیادہ خراب کر دیے گئے تو ۱۹۰۸ء میں جو تین آدمی سلطان کی معزولی کا پروانہ لیکر گئے تھے ان میں ایک یہی حاخام قر ہ صوآفندی تھا۔ مسلمانوں کی بے غیرتی کا اس سے اندازہ کیجیے کہ سلطان کی معزولی کا پروانہ بھیجتے بھی ہیں تو ایک ایسے یہودی کے ہاتھ جو سات برس پہلے اسی سلطان کے پاس فلسطین کی حوالگی کامطالبہ لے کر گیا تھا اور سخت جواب سن کر آیا تھا۔ اس وقت مسلمانوں8 کے خیرخواہ ترکی سلطان پر کیا گزری ہو گی جب یہی یہودی ان کی معزولی کا پروانہ لیے ہوئے ان کے سامنے کھڑا تھا۔قارئین! جس قوم کے یہ عزائم ہوں اورجسے اللہ نے دھتکار بھی دیا ہو۔ جو تاریخی طور پر مکار مشہور ہو۔ جو دنیا میں ہر تباہی کی ذمہ دار بھی ہو۔ جس سے کسی نیکی امید بھی نہ ہو۔ جس نے دولت کے بل بوتے پر دنیا کی تمام طاقتوں پر بلواسطہ قبضہ بھی کر رکھا ہو۔ جس سے کسی بھی خیر کی تواقع بھی نہ ہو۔اُس سے فلسطین کے موجودہ ظلم ختم کرنے کی اپیل کرنا بے سود ہے۔اس کا واحد حل مسلمانوں کے اتحاد میں پوشیدہ ہے۔ اپنی اصل یعنی اسلامی نظامِ حکومت کی طرف لوٹنا ہے جس کی وجہ سے ہمارے اسلاف نے اُس وقت کے چار براعظموں پر اسلامی حکومت قائم کی تھی جس پر ہم آج تک فخر کرتے ہیں اب بھی دنیا میں باوقار زندگی گزرانا اسی نظامِ اسلامی میں پوشیدہ ہے ۔ موجودہ اقوام متحدہ عیسائیوں ملکوں کے مفادات کی لونڈی بنی ہوئی ہے۔مسلمان اپنی’’مسلم نیشنز اقوام متحدہ‘‘ بنائیں۔ جو مسلم ملکوں کے مفادات کی پشتیبانی کرے۔ ہم اپنے وسائل مجتمع کریں ان کو عالمی سیاست میں استعمال کریں جیسے تیل اور دولت کے وسائل ہیں۔ پاکستان جو واحد مسلم ایٹمی قوت ہے اس کو سب مل کر مضبوط کریں۔اپنی دولت سے جدید اسلحہ کے کارخانے لگائیں۔اپنی دولت کو یہود، نصارا کے بنکوں میں سودی نظام کا سہارا بننے کے بجائے اس دولت سے تجارت کریں۔ مسلم ملکوں میں امریکی پٹھو حکمرانوں کے بجائے عوام کی حقیقی لیڈر شپ پیدا کریں جو مسلم مفادات کی نگرانی کے اہل ہوں۔ یہ عملی اقدامات کر کے اللہ کے بھروصہ پر نئے جہادی دور کا آغاز کریں۔ اسی طریقے سے القدس کو یہودیوں سے چھڑایا جا سکتا ہے۔ جب تک قبلہ اول آزاد نہیں ہوتا یوم القدس شاندار طریقے سے مسلم کو منانا چاہیے۔ اللہ نے ہمیشہ اُن کی مدد کی ہے جو اپنی مدد آپ کرتے ہیں۔ اللہ ہمارا حامی و ناصر ہو آمین۔