زرعی یونیورسٹی اورWhat is Media ( پہلو ۔۔۔۔۔۔۔ صابر مغل )

فیصل آباد پاکستان کا تیسرا بڑا شہر ہے جہاں اندرون شہر وسیع ترین رقبہ پر پاکستان کی قدیم یونیورسٹی اور ایشیاء کی سب سے بڑی زرعی یونیورسٹی ہے 1906میں قائم ہونے والی اس یونیورٹی میں اس وقت25ہزار کے قریب طلباء و طالبات مین کیمپس اور علاقائی کیمپس میں زیر تعلیم ہیں،10جون کو یونیورسٹی کی ڈسپلنری مشاورتی کمیٹی کے ایک اعلامیہ کے مطابق ایم ایس سی کے طالب علموں محمد اسفند یار،زبیر اقبال،عمر بلال اور مینجمنٹ سائنسز میں ایم ایس کرنے والے غلام جیلانی کو سوشل میڈیا پر زرعی یونیورسٹی انظامیہ پر تنقید کرنے پر یونیورسٹی سے فارغ کرتے ہوئے فوری طور پر ہاسٹل خاری کرنے کا بھی حکم دیا گیا،یہ اس یونیورسٹی کا پہلا کارنامہ نہیں اس سے پہلے5جنوری کو زرعی یونیورسٹی میں ہونے والے کسان میلے پر تنقید کرتے ہوئے ایگریکلچرل ایکسٹینشن میں ڈاکٹریٹ PHDکے طالب علم شان حیدر کو نکال دیا گیا تھا،بی ایس آنر میں ٹاپ اور ماسٹر میں سلور میڈل حاصل کرنے والے شان حیدر اس وقت پچھلے سات سال سے اس یونیورسٹی کے سٹوڈنٹ تھے،دن روز قبل یونورسٹی سے نکالے گئے چار طالب علموں کی معاملے کی کوریج کرنے کے لئے نجی چینلز اور اخبرات کے نمائندے وہاں پہنچے تو سیکورٹی گارڈز نے صحافیوں کو اندر داخل ہونے کی اجازت نہ دی ،صحافی گیٹ کے باہر کوریج کرنے لگے تو گارڈزسیکیورٹی مینجر لطیف اللہ نیازی کی قیادت میں وہاں پہنچ کر صحافیوں کو دھمکیاں دینے کے بعد دھکے دینے لگے ،صحافیوں نے پیچھے ہٹنے سے انکار کیا تو سیکیورٹی مینجر آپے سے باہر ہو گیا اس کی دھمکی آمیز اس بات پرسبھی حیران ہیں کہ اس کے پیچھے آخر کون سی طاقت ہے جو روشنی بکھیرنے والی درسگاہ میں تعینات ہونے کے باوجو بد اخلاقی کی تمام حدیں پار کئے جا رہا ہے،ایک عام سیکیورٹی مینجر کی فرعونیت کا عالم یہ تھا کہ وہ بار بار یہ کہتا رہا۔What is Media۔کوئی بھی ذی شعور اور وہ بھی کسی اعلیٰ ترین درسگاہ میں ملازم شخص ایسا نہیں کر سکتا مگر اخلاقیات سے بہت دور یہ شخص اپنی گھٹیا روش سے باز نہ آیا اور دو درجن کےْ قریب گارڈز کے ساتھ صحافیوں پر بل پڑا،ان کے اس اچانک حملے کے نتیجہ میں صاحافی سیف چیمہ،رضوان ،مبین جاوید،راحیل اصغر،وقاس شیراز ،قدیر عبدالرحمان،وقار حیدر،عمیر ارشد،مدثر قدیر،محمد عثمان ،حیدر علی،شان،شہروز عباد،محمد شاہد ،عامر،محمد جنیداور ارشاد اعظمی کے علاوہ ڈرائیور اور انجینئرز بھی شدید زخمی ہو گئیموقع پر پولیس خاموش تماشائی بنی رہی حالات کو کنٹرول کرنے کی بجائے الٹا صحافیوں کو روکتے رہے جس سے وہ مزید زخمی ہو گئے ،حملہ کرنے والے گارڈز نہ صحافیوں کو زخمی کرنے کے ساتھ ان کی گاڑیوں جن میں ڈی ایس این جی کو بھی تباہ کر دیاصحافیوں سے قیمتی کیمرے اور موبائلز چھین لئے گئے، نجی ٹی وی چینل کے رپورٹر یوسف چیمہ کی درخواست پر تھانہ سول لائن نے ابھی تک کوئی کاروائی نہیں کی ،سینئر پولیس آفیسر احتجاج کرنے والیصحافیوں کو رائے دیتے رہے کہ ۔وائس چانسکر رانا اقرار احمد صوبائی وزیر تعلیم رانا ثناء اللہ کے قریبی عزیز ہیں اس لئے ان کے خلاف کاروائی نہیں کر سکتے،رانا اقرار احمد 23فروری 2008میں بطور وائس چانسلرتعینات ہوئے اور نو سال سے وہ اس یونیورسٹی کے سیاہ و سفید کے مالک بنے بیٹھے ہیں ان کی ریٹائرمنٹ بھی ہو چکی ہے مگر ایکسٹینشن کی بدولت وہ یونیورسٹی پر قابض ہے،رانا اقرار احمد 9سال میں ساڑھے 6کروڑ روپے کی خطیر سرکاری رقم سے چار بر اعظموں کے 82دورے کر چکا ہے،وزیر اعظم پاکستان میاں نواز شریف ان سے صرف دو قدم آگے ہیں یعنی ان کے اب تک غیر ملکی دوروں کی تعداد84ہے،زرعی یونیورسٹی انتظامیہ کی اس بد ترین غنڈہ گردی سے آزادی صحافت کے چیتھڑے اڑا دئیے گئے ،سچ دکھانا اور بتانا ہی کسی بھی صحافی کی اصل ذمہ داری ہے ،آزادی صحافت اس حملہ پر اسلام آباد،لاہور،کراچی،کوئٹہ،پشاور،مظفر آباد،گوجرانوالا،حیدر آباد،سکھر،راولپنڈی ،ساہیوال،اوکاڑہ سمیت دیگر تمام چھوٹے بڑے شہروں اور قصبات میں صحافیوں نے شدید احتجاج کیا جو تا حال جاری ہے،زرعی یونیورسٹی گارڈز کی طرف سے صحافیوں پر وحشیانہ تشدد،ڈی ایس این جی گاڑیوں کی توڑ پھوڑ کرنے کا مقدمہ درج نہ کئے جانے کے خلاف صحافیوں نے RPOآفس کے باہر کئی گھنٹے تک مظاہرہ کیا کئی گھنٹے تک جاری رہنے والے اس احتجاج میں سیاسی رہنماؤں راجہ ریاض احمد،فردوس رائے،سلمان عارف،میاں اوضی،ذاہد زبیر،کونسل آف لوم اونرز میاں وحید خالق رامے ،چوہدری سعید اقبال،رانا نعیم دستگیر،عظیم رندھاوا،میاں اعجاز حسین اور عدنان خان کے علاوہ طلبائمزدور تنظیمیں،پاور ،وکلاء،سماجی شخصیات کی بھاری تعداد نے شرکت کی ،اس واقعہ کی وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف نے نوٹس تو لے لیا مگر تاحال کوئی ایکشن نہ ہو سکا حالانکہ اس غنڈہ گردی کی فوٹیج واضح ہے اس کے باوجود ایکشن لینے والے بے بس ہیں ،اسلام آباد میں PFUJکے صدر افضل بٹ نے بھی نیشنل پریس کلب کے باہر احتجاج کرتے ہوئے کاروائی کے لئے ایک دن کی مہلت دی ہے ،صحافی تنظیموں نے اعلان کیا ہے کہ ان کے ساتھیوں پر ظالمانہ تشدد کروانے والے بااثر وائس چانسلر اقرار احمد خان اور اس کے حواریوں کے کلاف مقدمہ درج نہ ہونے تک احتجاج کا سلسلہ ملک بھر میں جاری رہے گا،ایک اور اطلاع کے مطابق شہر اقتدار میں بھی ایک نجی ٹی وی کے عملہ پر مدرسہ حقانیہ کے طالب علموں نے تشدد کیا ہے یہاں صحافی بجلی چوری کرنے کی فوٹیج بنارہے تھے اس واقعہ کا مقدمہ تو تھانہ مارگلہ پولیس نے فریقین کا مؤقف سننے کے بعد مدرسہ انتظامیہ کے خلاد ایف آئی آر درج کر لی ہے،آزادی صحافت کی دعویدار حکومت صحافیوں کی حفاظت کو یقینی بنائے ،انہیں ہر قسم کا تحفظ فراہم کیا جائے اور ان کے ساتھ غنڈہ گردی کرنے والے اور ملک کی بدنامی کا باعث بننے والے عناصر کو لگام ڈالے،