سیوریج کے پرائیویٹ ڈاکٹرز اور عوامی مجبوری،،،،،،،،،تحریر ؛ ڈاکٹر ایم ایچ بابر

مقامی حکومتوں سے لے کر قومی اور صوبائی حکومتوں تک کارکردگی کے بلند و بانگ دعوے صرف دعووں کی حد تک تو بہت دلکش لگتے ہیں مگر حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے رفتہ رفتہ عوامی خدمت کے نعرے عوامی زحمت کے ہرکارے بنتے جا رہے ہیں ۔میں آج جس موضوع پر لکھنے کی جسارت کر رہا ہوں وہ ہے ہماری مقامی گورنمنٹ کے زیر سایہ چلنے والا ڈسپوزل ڈیپارٹمنٹ جس کے ذمے شہر بھر کا نکاسئی آب کا معاملہ ہے کہ وہ سیوریج کے نظام کو بحال رکھے جہاں کہیں بھی سیوریج کے نظام میں خلل کی کوئی شکائت سامنے آئے تو فوری طور پر اس ڈیپارٹمنٹ کا عملہ وہاں پہنچ کر ہنگامی بنیادوں پر مسئلے کو حل کرے ۔ شہر شیخوپورہ کا المیہ یہ ہے کہ لاکھوں نفوس کی آبادی پر مشتمل اس شہر میں سیوریج کی بحالی کے لیئے صرف اٹھارہ ملازمین ہیں جن کو پورے شہر میں کام کرنا ہوتا ہے جو وہ کر ہی نہیں پاتے ۔ مقام حیرت ہے کہ اس شہر کی صفائی کے لیئے جھاڑو دینے والے چار سو سے زائد اہلکار تعینات ہیں مگر سیوریج کے لئے فقط اٹھارہ ورکرز ۔ اہلکاروں کی کمی کے باعث بغیر بارش کے ہی بہت سے شہری علاقوں میں اکثر گٹر بند ہو جانے سے گلیاں کسی نہر یا ندی نالے کا منظر پیش کر رہی ہوتی ہیں اور جو گھر پرانے بنے ہوئے ہیں یا گلیوں سے نیچے یعنی نشیبی ہو چکے ہیں ان کے اندر تک پانی چلا جاتا ہے جو کئی کئی دن تک وبال جان بنا رہتا ہے اور اگر بارش وغیرہ ہو جائے تو پھر اللہ ہی حافظ ہے اس شہر کا ۔آج میں نے اپنے ایک دوست کو کچھ پریشان دیکھا تو پوچھ ہی بیٹھا کہ جناب اس پریشانی کا آخر سبب کیا ہے ؟وہ تو جیسے پھٹ ہی پڑے اور لگے کوسنے دینے مقامی حکومت اور اس کے اہلکاروں کو ۔ کہنے لگے کہ آج تیسرا دن ہے میں نے ڈسپوزل پہ جا کہ شکائت درج کروائی تھی کہ گلی کے گٹر بند ہیں برائے کرم انہیں کھول دیں مگر مسلسل تین دن تک بے تابانہ انظار کرنے کہ باوجود کسی اہلکار کی زیارت کے شرف سے تا حال محروم ہوں میرے وہ محترم دوست شہر کے پوش ایریا گھنگ روڈ گلی نمبر تین میں رہائش پزیر ہیں اور اس گلی کے گٹر گزشتہ تین یوم سے بند ہیں جس کی وجہ سے پوری گلی میں پانی کھڑا ہے اور میرے موصوف دوست کا گھر بھی نشیبی ہے لہذٰا پانی اپنی پوری آب و تاب کیساتھ ان کے گھر کے اندر تک گھس چکا ہے ۔اب میں نے فیصلہ کیا کہ موصوف کے ساتھ چل کر ذرا معلوم تو کیا جائے کہ آخر وہ کونسی رکاوٹ ہے جو سرکاری اہلکاروں کو وہاں جانے سے روک رہی ہے کیونکہ نہ تو وہ شہر کا کوئی شورش زدہ علاقہ ہے اور نہ ہی وہاں کوئی کرفیو لگا ہوا ہے کہ اہلکار ادھر جانے سے ہچکچا رہے ہیں بحرحال ہم دونوں دوست سیدھے ڈسپوزل پہنچے تو وہاں نہ تو سپروائزر موجود تھا اور نہ ہی کوئی ایسا ورکر جسے کہا جا سکیکام کے بارے میں ہاں ایک پرانا اہلکار وہاں چارپائی پر لیٹا ہوا تھا جس ست میری بھی کافی پرانی یاد اللہ تھی میں نے ان سے کہا کہ بھائی آپ دیکھ لیں کہ آپ کا عملہ کس قدر تنگ کر رہا ہے آج تین دن ہو چکے ہیں شکائت درج کروائے ہوئے مگر اب تک کو نہیں پہنچا وہاں تو وہ کہنے لگا کہ ڈاکٹر صاحب میرا تو یہاں سے تین ماہ ہو گئے ہیں تبادلہ ہو چکا ہے آپ ایسا کریں کہ میں آپ کو ایک نمبر دیتا ہوں اسے فون کر لیں اس وقت وہ ویسے بھی آپ کے ایریا کے قریب ہی کام کر رہا ہے سو وہ وہاں سے فارغ ہو کر آپ کی طرف آجائے گا جب ہم نے اس کے دیئے ہوئے نمبر پر صغیر نامی اہلکار کو فون کیا تو اس نے کہا کہ جناب میرے پاس آپ کی کوئی شکائت ہے ہی نہیں اور نہ ہی آپ کا گھر میرے ایریا میں آتا ہے ۔ اسی اثناء میں وہاں دو ورکر آگئے میں نے ان سے کہا کہ آپ لوگ کام کیوں نہیں کرتے ہو جو کمپلینٹ درج کروائی جائے وہاں جاتے کیوں نہیں تو وہ بولا صاب جی ہم اب بھی کام کر کے ہی آرہے ہیں اور اگلی شکائت پر پھر کام ہی کی غرض سے جا رہے ہیں ہمیں تو سپروائزر جو شکائت اور پتہ لکھ کے دیتا ہے ہم وہاں کام کر کے آتے ہیں آپ کی کمپلینٹ ہمیں کسی نے دی ہی نہیں تو ہم وہاں کیسے جاتے ۔ میں نے جب ان سے پوچھا کہ آپ کا وہ رجسٹر کہاں ہے جس میں شکایات کا اندراج کیا جاتا ہے تو وہ کہنے لگا وہ تو جناب سپرو ائزر تالے میں رکھ کر جاتا ہے پھر ہم نے اس سے سپروائزر کا فون نمبر لیا اور لگے اسکو فون کرنے اس سپروائزر نے اپنے آپ کو سپر ہیرو سمجھتے ہوئے ہمارا فون اٹھانے کی زحمت ہی گوارا نہیں کی ہمارے بار بار نمبر ملانے سے تنگ آکر اس نے اپنا موبائل ہی بند کر دیا ۔ میرا دوست کیونکہ متواتر تین دن سے پریشانی میں مبتلا تھا ان دو ورکروں سے کہنے لگا کہ بھائی آپ جدھر جا رہے ہو وہاں سے فارغ ہو کر میرا کام بھی کر دینا یار تو وہ کہنے لگے کہ سر جی کیونکہ آپ کی کمپلینٹ ہمیں نہیں ملی اور ہمارا ڈیوٹی ٹائم بھی ختم ہو رہا ہے لہذٰا آپ کا کام پرائیویٹ کر دیں گے جس کی فیس لگے گی چار وناچار میرا دوست یہ سن کر کہنے لگا کہ بھائی کر دو اور فیس کتنی لو گے وہ کہنے لگے فیس کام دیکھ کر بتائیں گے میرا دوست خوش ہو کر کہنے لگا کہ ٹھیک ہے آپ آجاؤ میں آپ کو فیس ادا کر دونگا انہوں نے ہمارا فون نمبر لیا اپنا نمبر ہمیں دیا اور ایک گھنٹے کے اند ر اندر پہنچنے کا مژدہ سنا دیا ہم خوشی خوشی وہاں سے نکل آئے میرے دوست کی خوشی تو دیدنی تھی کیونکہ ایک گھنٹے بعد اسے ابلتے گٹر کے تعفن زدہ پانی سے نجات ملنے والی تھی ۔ ٹھیک ایک گھنٹے بعد وہ دونوں اہلکار یعنی سیوریج کے فزیشن صاحبان پہنچ گئے اور فوری طور پر مسئلہ حل کر دیا مگر کیونکہ وہ پرائیویٹ طور پر بحثیت کنسلٹنٹ آئے تھے لہذٰا انہیں مبلغ دو ہزار روپے بصد شکریہ ادا کئے گئے ۔یہ مسئلہ تو حل ہو گیا مگر مجھے اک نئی سوچ کی پگڈنڈی پر ڈال گیا کہ یہاں سرکاری طور پر کام کرنے کو عار کیوں سمجھا جاتا ہے اور پرائیویٹ کام کرتے ہوئے ہمیں فخر کس بات کا محسوس ہوتا ہے ؟معاملہ صحت کا ہو تو سرکاری طور پر دیکھنا ڈاکٹر اپنی ہتک محسوس کرتا ہے اور پرائیویٹ طور پر وہی ڈاکٹر اپنے مریض کو ایسے دیکھ رہا ہوتا ہے جیسے ایک مہربان ماں اپنی اولاد کی دیکھ بھال کرتی ہے ۔ تعلیم کے میدان میں دیکھ لیں تو سرکاری سکول میں استاد پڑھاتا ہوا اپنی توہین سمجھ رہا ہوتا ہے اور پرائیویٹ طور پر اپنی اکیڈمی کی کامیابی کے لئے سر توڑ محنت کو اپنا طرۂ امتیاز سمجھتا ہے اور آج میں نے ایک اور منظر بھی دیکھ لیا کہ صفائی کے لئے سرکاری خزانے سے ماہانہ تنخواہ لینے والے بھی حیلے بہانے سے اپنا ڈیوٹی ٹائم ختم کر کے پرائیویٹ طور پر وہی کام جو وہ سرکاری طور پر ہفتوں میں بھی مکمل نہیں کرتا صرف چند منٹوں میں پایائے تکمیل کو پہنچ جاتا ہے۔ یہی تو المیہ ہے میری دھرتی کا کہ اپنے فرائض سے بڑھ کر ہمیں ہوس زر عزیز ہے ۔ فرائض میں غفلت کے مرتکب صرف یہی ملازمین نہیں ہیں بلکہ ان کے اوپر جو صاحبان اختیار بیٹھے ہیں انہیں بھی ادائیگئی فرض سے کچھ لینا دینا نہیں اور میں یہ سمجھتا ہوں کہ یہ صاحبان مسند سب کچھ جانتے ہیں کہ کہاں کیا ہو رہا ہے ؟ اور کون کیا کر رہا ہے ؟مگر یہ لوگ روکتے اس لئے نہیں کہ ان کے تو تمام کا بر وقت بلکہ قبل از وقت ہو جاتے ہیں لہٰذا وہ مکمل اطمینان سے چین کی بانسی بجا رہے ہیں یہی سبب ہے کہ راوی چین ہی چین لکھ رہا ہے ۔ اگر یہی حال رہا تو شہر بھر کے نشیبی علاقہ جات برسات میں راوی اور چناب بنیں گے اور ہر گھر کے صحن اور کمرے ہرن مینار کی بارہ دری اور تالاب کا پرتو لگیں گے ۔بہتری اسی میں ہے کہ عملہ صفائی جو صرف گلیوں سڑکوں اور بازاروں میں جھاڑو دینے پر مامور ہیں جس طرح ان کی تعداد چار سو سے زائد ہے اسی طرح ڈسپوزل پر سیور مینوں کی تعداد کو بھی بڑھایا جائے صرف اٹھارہ آدمی پورے شہر کی سیوریج کے لئے ناکافی ہیں۔اور پھر وقت پر اپنا کام سر انجام بھی نہیں دے سکتے ڈیوٹی ٹائم کے بعد کام کرنے کو اولیت دیں گے کیونکہ اس سے انہیں اچھی خاصی آمدنی ہو رہی ہے اور ٹنخواہ بطور وظیفہ مل رہی ہے ۔ لہٰذا سیوریج کے پرائیویٹ ڈاکٹرز کی پریکٹس کو بڑھوتری دینے کی بجائے گٹروں کے معالجین کی تعداد بڑھائیں اور انہیں بر وقت کام کا پابند بنائیں ورنہ ان کی پرائیویٹ پریکٹس دن دوگنی رات چوگنی ترقی کرتی رہے گی ۔ عوام کی تو مجبوری ہے کہ اسے یہ کام کروانے ہیں وہ سرکاری طور پر ہو جائیں یا پھر انہیں پرائیویٹ کروانے پڑیں انہیں گٹروں میں ڈبو کر اپنے بچے تو نہیں مروانے نا ؟