سانحہ احمد پور شرقیہ،،،،،،،، ( پہلو ۔۔۔۔۔ صابر مغل ) ۔ پسماندگی ،جہالت ،محرومی اور بھوک کا شاخسانہ

پسماندگی ،غربت ،جاہلیت،نا خواندگی اور صدیوں کی بھوک ہو وہاں یہی کچھ ہوتا ہے جو عید سے ایک روز پہلے احمد پور شرقیہ کے قریب ہوا، عید سے پہلے دو دن پاکستانی تاریخ میں ایسے گذرے ہیں جن کی ماضی میں کوئی مثال نہیں ملتی ان دو دنوں میں 350سے زائد افراد لوتھڑوں میں تبدیل اور جل کر خاک کوئلہ بن گئے ،،25جولائی کو عید سے ایک روز پہلے ماہ شوال کے آخری سورج نے پاکستان کی مصروف ترین شاہراہ نیشنل ہائی وے پر احمد پور شرقیہ کے قریبی دیہات کو لوگوں کی موت کا سندیسہ لئے اپنی آنکھ کھولی ،پکا پل کے قریب ٹینکر ٹائر پھٹنے سے الٹا تو45منٹ تک پٹرول لیک ہوتا رہا جو دو ایکڑ رقبہ میں پھیل گیا،قریبی دیہات ماچھی والا،بستی نمبر دار ،بستی نذیر احمد،بستی کھوکھراں،بستی بھٹی ،محراب والا او ر بستی فیض جوئیہ جو اس شاہراہ کے بالکل قریب ہیں سمیت دیگر دیہات سے سینکڑوں مرد عورتیں بچے شاپر،واٹر کولر،گیلن،پتیلے ،بالٹیاں ،بوتلیں حتیٰ کہ کھانا پکانے والے برتن لے کر پٹرول اکٹھا کرنے جمع ہو گئے،موٹر وے پولیس کے بیٹ انچارج سید رضوان شاہ اور ڈرائیور نے انہیں منع کیا مگر کوئی باز نہ سب پر چند سو روپے کا پٹرول اکھٹا کرنے کا جنون سوار تھا پٹرول اکٹھا کرنے والے موبائلز فون پر دوسروں کو پٹرول کی نعمت ملنے کے لئے کالز کرتے رہے،ہائی وے پر سفر کرنے والے افراد بھی موٹر سائیکل اور گاڑیاں کھڑی کر کے تیل بھرنے لگے،، ایک عینی شاہد کے مطابق اس کے قریب کھڑے ایک شخص نے سگریٹ سلگائی اور ماجس کی تیلی نیچے پھینک دی بس وہی لمحہ قیامت کا روپ دھار گیا آگ کے شعلے اس قدر بلند ہوئے کہ جب اچانک آگ بھڑکی تو آگ اور خون کی اس جنگ میں کسی کو بھی وہاں سے بھاگنے کی مہلت نہ ملی آناً فاناً ہر چیز لپیٹ میں آگئی، الٹنے کے تقریباً 45منٹ بعد آئل ٹینکر پھٹا، آئل ٹینکر کے پھٹنے سے رہی کسر بھی پوری ہو گئی آس پاس کی ہر چیز پگھل گئی، آگ کے اس قیامت خیز منظر پر بستی کے لوگ چیخ و پکار کرتے دیوانہ وار موقع پر پہنچے تاہم ان کے پیارے ان کی آنکھوں کے سامنے ہی زندہ جلتے ہوئے کوئلوں میں تبدیل ہوتے رہے ان کی آہ و بکا کسی کام نہ آئی انہیں بچانے والا کوئی نہ تھا، بے بسی کے اس عالم میں کسی کا باپ،کسی کا شوہر،کسی کا لخت جگر اور کسی کی پھولوں جیسی بیٹی سب شعلوں کی نذر ہو تے ہوئے زندہ جل گئے،6.23پر ریسکیو ٹیم کے انچارج باقر حسین کے مطابق ان کو اس المناک حادثہ کی اطلاع ملی مگر تب تک سب تباہ و برباد ہو چکا تھامعمولی لالچ نے خاندان کے خاندان اجاڑ کر رکھ دیئے سینکڑوں افراد کے لقمہ اجل بن گئے جھلسنے والی لاشوں کی شناخت ناممکن ہو گئی،لمحوں کی خطازندگی بھر کی سزا بن گئی اس کے علاوہ 75موٹر سائیکلز 3گاڑیاں اورایک رکشہ بھی جل کر خاکستر ہوا،ہر طرف جلی ہوئی کوئلہ زدہ لاشیں ہی لاشیں بکھری ہوئی ہولناک منظر پیش کر رہی تھیں ان میں زیادہ تعداد چھوٹے بچوں کی تھی جن کے لئے عید کے نئے کپڑے گھروں میں پڑے تھے مرنے کے بعد شناخت بھی نہ رکھنے والے ان بیچاروں کی صدیوں کی بھوک آگ نے بجھائی آئی ٹینکر کیا الٹا ان بد نصیبوں کی عقل ہی الٹ گئی مال غنیمت لوٹنے والوں میں بیشتر تعداد ان افراد کی تھی جن کے پاس موٹر سائکل تو کجا سائیکل بھی نہیں تھی صدیوں کی بھوک جب اپنے اوپر جہالت ،پسماندگی اور لالچ کی چادر اوڑھ لیتی ہے تو یوں ان کی ہڈیاں سڑک کے کنارے پڑی ملتی ہیں جو ہوتی بھی ناقابل شناخت ہیں ،اس حادثہ میں زیادہ تر متاثرین کی تعداد قریبی بستی فیض جوئیہ سے تعلق رکھنے والوں کی تھی،احمد پور شرقیہ کی ریسکیو ٹیمیں اوربہاولپورکے فائر برگیڈ کی ٹیمیں چند منٹ میں موقع پر پہنچ گئیں ،آرمی چیف قمر جاوید باوجوہ کے حکم پر پاک فوج کے جوانوں اور امدادی ٹیموں کے اہلکاروں نے زخمیوں کو بہاولپور کے سب سے بڑے ہسپتال وکٹوریہ ،سول ہسپتال اور ملتان کے نشر ہسپتال پہنچایاآرمی سول ایوی ایشن ہیلی کاپٹرمریضوں کو ملتان شفٹ کرنے مصروف رہے،جائے حادثہ سے تقریباً سو کلومیٹر دور تک کسی بھی ہسپتال میں واحد برن یونٹ ہونے کی وجہ سے زخمیوں8 کو فوری طور مناسب علاج معالجہ کی سہولیات نہ مل سکیں،اس المناک حادثہ کی اطلاع پر وزیر اعلیٰ پناب شہباز شریف کور کمانڈر ملتا ن لیفٹیننٹ جنرل سرفراز ستار کے ہمرا ہ جائے حادثہ پر پہنچے،انہوں نے لاہور مریضوں کو لے جانے کے لئے سی ون 30کی مکمل نگرانی کی ،آرمی ہسپتالوں سمیت پنجاب بھر کے ہسپتالوں باا لخصوص برن یونٹس میں ایمر جنسی نافذ کر دی گئی وکٹوریہ ہسپتال میں مریضوں کے لئے جگہ کم پڑ گئی ایک ایک بیڈ پر تین تین مریض ،یہ بھی کیا ستم ہے کہ جنوبی پنجاب کی تین کروڑ سے زائد آبادی کے لئے صرف ایک نامکمل برن یونٹ ہے سابق وزیراعلیٰ پنجاب چودری پرویز الہٰی نے اس ماڈرن برن یونٹ کا سنگ بنیا رکھا تھا مگر ان کی حکومت کے خاتمہ کے ساتھ ہی یہ اہم ترین منصوبہ التوا کا شکار ہو گیا،اٹلی کی حکومت کے تعاون سے تقریباً 12سال بعد یہ منصوبہ پایہ تکمیل کے آخری مراحل میں داخل ہو رہا تھا یہ منصوبہ تاحال مکمل طور پر فنکشنل نہیں 67بستروں میں سے صرف40بیڈ مکمل ہیں ،یہ ایک بہت بڑا المیہ ہے کہ آج تک جنوبی پنجاب میں لاشوں کو فرانزک ٹیسٹ یاDNAکی سہولت موجود نہیں وکٹوریہ ہسپتال کے ترجمان ڈاکٹر عامر بخاری کے مطابق لاشوں کی شناخت میں 8سے10دن لگ سکتے ہیں اس سانحہ میں زیادہ تر زخمی80فیصد جھلس چکے تھے ماہرین کے مطابق25فیصد تک جھلسنے والوں کے بچنے کے امکانات بہت کم پڑ جاتے ہیں163 افراد ہلاک ہو چکے ہیں اتنے ہی زخمی جو موت اور زندگی کے درمیان ۔جی ۔رہے ہیں عید اور ٹرو کے روز مزید14افراد تڑپتے تڑپتے جان کی بازی ہار گئے عید کے دوسرے روز ضلعی انتظامیہ نے125افراد کو اجتماعی طور پر سپر خاک کر دیاان کی قبروں پر نمبرز لگائے گئے تاکہ ڈی این اے ٹیسٹ کے بعد ان کے پیاروں کو بتایا جا سکے کہ کون سی قبر کس شخص کی ہے،اجتماعی نمازہ جنازہ میں ہزاروں افراد نے شرکت کی ان میں سے ایسے بھی تھے جن کے اپنے سامنے پڑے تھے ایک خاندان تو ایسا تھا جن کے دس افراد ان میتوں میں شامل تھے ،بہاولپورپاکستان کا 12واں بڑا شہر ہے جو ملتان سے 80کلومیٹر دوراور ماضی کی ریاست بہاولپورکا دارلحکومت ہے یہ پہلی ریاست ہے جس نے پاکستان کے ساتھ الحاق کا اعلان کیا تھاکاش اسی بات کو مد نظررکھ کرہمارے اکابرین اس شہر کی جدید تقاضوں کے مطابق ترقی کا سوچ لیتے احمد پور شرقیہ اس کی سب سے بڑی تحصیل اور آبادی کے لحاظ سے بھی پنجاب کی سب بڑی تحصیل ہے مگر اس کے باجود بہتری نہ آ سکی اس خطہ زمین پر،شہباز شریف وکٹوریہ ہسپتال پہنچنے تومیلے کچیلے کپڑوں میں ملبوس لواحقین جن کا حلیہ ہی اس کی پسماندگی اور غربت کا عکاس تھا انہیں نکال باہر کیا گیا،وزیر اعلیٰ کی ہسپتال آمد سے قبل کتوں کے ساتھ مکمل سرچ آپریشن کیا گیا،متاثرین کی مشکلات کم کرنے کے لئے مالی مدد کا اعلان اچھی بات ہے مگر یہ کسی انسانی جان کا نعم البدل نہیں ہو سکتا،وزیر اعظم پاکستان میاں نواز شریف کا لندن سے براہ راست بہاول پور پہنچنا بھی خوش آئند ہے ان کے مطابق متاثرین کے ورثاء کو نوکریاں دی جائیں گی،اسی سال28مارچ کو ہرن مینار شیخوپورہ کے قریب لاہور سے کراچی جانے والی شالیمار ایکسپریس ایک کھلے پھاٹک پر آئل ٹینکر سے ٹکرا گئی جس کے نتیجہ میں ٹرین ڈرائیور سمیت دو افراد ہلاک اور متعدد ذخمی ہوئے جبکہ چار بوگیوں میں اآگ بھڑک اٹھی،گذشتہ سال کراچی جانے والی ایک مسافر بس شکار پور کے قریب آئل ٹینکر سے ٹکرا گئی اس حادثہ میں 62افراد ہلاک ہوئے،دنیا کے دیگر ممالک میں بھی ایسے حادثات ہو چکے ہیں جن میں نائیجیریا سر فہرست ہے،26مارچ 2007کو نائیجیریامیں آئل ٹینکر میں لگنے والی آگ سے92افراد جھلس کر ہلاک ہوئے ،9اکتوبر2009نائیجیریا کے جنوب مشرقی ریاست۔انا مبرا۔میں آئل ٹینکر کی آگ نے80افراد کو موت کی نیند سلادیا تھا،2جولائی 2010میں کانگو میں آئل ٹینکر کے قریب آگ بھڑک اٹھی جس کی لپیٹ میں آکر292افراد لقمہ اجل بنے مرنے والوں میں زیادہ تعداد ان افراد کی تھی جو حادثہ کے شکار ہونے والے ٹینکر سے بہنے والا تیل اکٹھا کر رہے تھے،12جولائی2012کو نائیجیریا میں ہی آئل ٹینکر کو آگ لگنے سے104افراد ہلاک جبکہ50سے زائد زخمی ہوئے،16ستمبر2015کو جنوبی سویڈن میں حادثے کے بعد آئل ٹینکر سے بہنے والے تیل اکٹھا کرتے وقت آگ بھڑک اٹھی جے کے نتیجے میں203افراد ہلاک اور150سے زائد زخمی ہوئے انسانی اموات کے حوالے سے یہ سب سے بڑا حادثہ ہے،8مئی2016کو افغانستان میں آئل ٹینکر اور دو بسوں کے درمیان تصادم کے بعد آئل ٹینکر میں آگ لگ گئی جس نے73انسانی زندگیاں نگل لیں،اسی سال17نومبر کو موزمبیق میں آئل ٹینکر دھماکے میں تیل جمع کرنے والے92افراد جان کی بازی ہار گئے،اموات کے لحاظ سے سانحہ احمد پور شرقیہ دنیا بھر میں تیسرے نمبر پر ہے،ڈیڑھ کروڑ مالیت کے اس ٹینکر جس میں 36لاکھ سے زائد مالیت کا پٹرول تھااس کی ہر پہلو سے حکومت نے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے جن میں سب سے بڑا پہلو آئل ٹینکر وں کے ڈرائیوروں کی جانب سے ڈپو سے تیل چوری کر لئے جانے یا مکسنگ کے بعد گاڑی کو الٹا دینے کے واقعات اہم ہیں یعنی ٹینکر الٹایا گیا یا خود الٹا،مرنے والوں ،زخمیوں ،مکمل ریسکیو آپریشن اور وزیراعظم،وزیر اعلیٰ ،وزراء وغیرہ کی آمد پر کم از کم60کروڑ روپے خرچ ہو جائے گا،کیا ہی اچھا ہوتا یہ کروڑوں روپے لگا کر اس پسماندہ علاقہ کی پسماندگی دور کی جاتی ،تعلیم،صحت اور ان کی بھوک ننگ دور کی جاتی تو شاید یہاں کے لوگوں کو نماز عید کے نماز جنازہ نہ پڑنے پڑتے،شہباز شریف نے ٹھیک کہا تھا کہ پسماندگی کی اصل وجہ70سال میں ہونے والی کرپشن ہے،ان 70سالوں میں بڑے اور چھوٹے میاں صاحب کے اقتدار کے سال نکال دیں کہیں وہ برا نہ مان جائیں چینی صدر شی چن پنگ اور ایرانی حکومت نے پاکستان سے اس خوفناک حادثے پر اظہار افسوس کیا ہے،یہ صرف بہاولپور کی بات نہیں بلکہ 20کروڑ بھوکوں کے اسی ملک کے ہر گلی،ہر سڑک،ہر محلے میں فاقوں اور بھوک کا راج ہے ہماری عقل بھی مفقود کر دی گئی ہے جس کے لئے محض ایک دیا سلائی کے سلگنے کی ہی دیر ہے، تیل کا لالچ کرنے والوں کے گھروں میں سوگ کا عالم ہے فضا انتہائی سوگوار ہے ،سوختہ ہونے والے اپنوں کے لئے قبریں کھودی جا رہی ہیں،جس ملک فضا سے پھینکی خوراک اٹھانے کے لئے میلوں کا سفر کرں،تھر میں خوراک کی کمی کے باعث سینکڑوں لخت جگر منوں مٹی تلے چلے جائیں اسی ملک میں حاکموں کے ہاتھوں جاہل رہنے والے موت کے پھندے میں بخوشی چلے آئے۔ آؤ اپنی عقل پر ماتم کریں کیونکہ کرپشن تو ختم ہو گی نہیں جس کا اعتراف ہمارے حکمران خود کر رہے ہیں۔ صابر مغل۔۔۔اسلام آباد 0300 6969277