دہشت گردی کے تازہ واقعات سانحہ بہاول پور اور پاکستان،،،،،،،،،میر افسر امان،کالمسٹ

مشرقی اُفق

کرم ایجنسی کے صدر مقام پارہ چنار کے مصروف ترین بازار اور کوئٹہ آئی جی آفس کے قریب دہشت گردوں نے دہشت گردی کر کے بے گناہ پاکستانیوں کو شہید کیا۔ پارہ چنار اکبر مارکیٹ میں پے در پے دو دھماکے ہوئے اور ۳۰ سے زائد پاکستانی شہید ہو گئے ۱۱۰؍ سے کہیں زیادہ زخمی ہوئے۔ دھماکوں سے آگ بھڑک اُٹھی اور کئی دکانوں کو جلا کر رکھ دیا۔ لوگ مدد کے لیے پہنچے اور جتنا ممکن ہو سکا لوگوں کو بچانے کی کوشش کی۔ کوئٹہ میں شاہراہ گلستان پر واقع آئی جی آفس کے باہر خود کش بمبار کار پر سوار تھا خود کو اُڑا دیا۔ آئی جی آفس کے قریب ہی پولیس چوکی کے اہل کاروں کو شک ہوا اور کار میں سوار خود کش بمبار کو روکنے کی کوشش کی تو اس نے دھماکہ کر کے اپنے سمیت گاڑی کو اُڑا دیا جس سے سات پولیس اہلکاروں سمیت تیرا افراد شہید ہو گئے۔ گاڑی میں پچھتر کلو گرام بارود تھا۔ کار سوارخود کش بمبار آئی جی آفس کو اُڑانا چاہتا تھا۔ اللہ نے اس کے ارداے کو مکمل نہیں ہونے دیا اورآئی جی آفس بڑے دہشت گردی کی کاروائی سے بچ گیا۔ اس کے بعد اللہ کی طرف سے ایک حادثہ بہاولپور کے قریب احمد پور شرقیہ میں جی ٹی روڈ پر پیش آیا ۔ پٹرول سے بھرا ٹینکر جو کراچی سے اندرون پاکستان آ رہا تھا سڑک پر الٹ گیا۔ٹینکر میں سے پٹرول باہر نکل کر سڑک کے کنارے کھیتوں میں پھیل گیا۔ بجائے کہ لوگ الٹنے والے ٹینکر کی مدد کے لیے پہنچتے ،دہاتیوں نے لالچ میں آکر پٹرول اپنے بالٹیوں اور برتنوں میں بھرنا شروع کر دیا۔ وہ یہ کام کرنے میں بے خبر مصروف تھے کہ اس دوران ٹینکر میں آگ بھڑک اُٹھی ۔قریب چلنے والی اور کھڑی گاڑیوں کو آگ نے اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ آناً فاناً۷۵ سے زائد موٹر سائیکل ، کئی گاڑیاں اور پٹرول جمع کرنے والے ۱۶۰؍سادہ لو دیاتیوں کو جلا کر خاکستر کر دیا۔ اے کاش کہ حکومت کی طرف سے کوئی فورس الٹنے والے پٹرول ٹینکر کو گھیرے میں لے لیتے اور کسی کو بھی قریب نہ آنے دیتی تو لوگوں کی جانیں بچ سکتی تھیں۔ان علاقوں میں حکومت کی طرف سے ہسپتالوں میں برن یونٹ نہ ہونے کی وجہ سے بھی جانی نقصان ہوا۔ جہاں تک پاکستان میں جاری دہشت گردی کا تعلق ہے توصاحبو! ڈکٹیٹر پرویز مشرف سے پہلے ہمارے ملکِ پاکستان میں اللہ کے فضل و کرم سے ہر طرف امن و امان تھا۔ کہیں بھی خود کش بمبار حملے نہیں کررہے تھے۔ ہمارے پڑوسی مسلمان ملک افغانستان میں روس کے قبضے سے نجات کے بعد طالبان کی اسلامی حکومت قائم تھی جسے پاکستان اور سعودی عرب نے تسلیم کیا ہوا تھا۔ طالبان نے افغانستان میں وار لارڈ سے اسلحہ واپس لے کر ملک میں امن وامان قائم کر دیا تھا۔ افیون کی کاشت پرپابندی لگا دی تھی۔ ملا عمر کو اپنا امیر تسلیم کر لیا تھا۔ملک میں8 فقیر مشن ملا عمر نے اسلامی عدالتیں قائم کر دی تھیں۔ یہ عدالتیں افغانیوں کے فیصلے اسلامی شہریت کے مطابق کر رہی تھیں۔ پورے افغانستان میں کہیں بھی ڈاکے نہیں پڑھ رہے تھے۔ راستے محفوظ بنا دیے گئے تھے۔ طالبان نے کسی بھی بیرون ملک میں دہشت گرد کاروائی نہیں کی تھی۔ طالبان خواتین کے ساتھ بھی اعلی اخلاق کا مظاہرہ دنیا کو دکھا چکے تھے۔ برطانیہ کی خاتون صحافی مریم ریڈلے جو غیر قانونی طور پر افغانستان میں طالبان کی جاسوسی کے لیے داخل ہوئی تھی۔ اس کو طالبان نے گرفتار کر کے جیل میں ڈال دیا تھابعد میں طالبان نے اُسے رہا کر دیا۔ برطانوی صحافی مریم ریڈلے سے قید کے دوران طالبان کے خواتین کے ساتھ اسلام کے عائد کردہ حسن اخلاق سے متاثر ہو عیسایت سے تائب ہو کر اسلام قبول کر لیا تھا۔ اس نے پوری عیسائی دنیا میں طوفان بر پاہ کر دیا۔ صاحبو! جب ۱۹۲۴ء میں صلیبیوں نے ترکی کی خلافت کو ختم کر کے وہاں اسلامی حکومت کے برخلاف سیکولر حکومت قائم کی تھی اور اس کے ساتھ ساتھ یہ تاریخی اعلان بھی کیا تھا کی اس کے بعد دنیا میں کہیں بھی اسلامی سیاسی حکومت قائم نہیں ہونے دیں گے۔ اسی پالیسی پر عمل کرتے ہوئے، دنیا میں ورلڈ آڈر چلانے والے صلیبیوں کے سرخیل شیطان کبیر امریکا نے افغانستان کی اسلامی حکومت کے خلاف حملہ کرنے اور اسے ختم کرنے کی سازش تیار کی۔ اس وقت خیبر پختونخواہ میں پیپلز پارٹی اور نیشنل عوامی پارٹی کی حکومت تھی۔اسفند یار ولی نے امریکا کا دورہ کیا تھا اس میں کیا طے ہوا وہ آج تک باہر نہیں آیا۔ البتہ بیگم نسیم ولی خان نے اسفند یار ولی پر پریس کانفرنس کر کے اعلانیہ الزام لگایا کہ اس نے پارٹی کی پالیسیوں سے انحراف کر کے پختون قوم کا ڈالروں کے عوض سودا کیا ہے۔ اندر کا حال آج تک سامنے نہیں آسکا۔اس سازش کی تیاری کے دوران جب کانگریس نے امریکی محکمہ دفاع کے حکام کو بلا کر سوال کیا کہ آپ کو معلوم ہے کہ افغانیوں نے اس سے پہلے اُس وقت دنیا کی سپر پاور برطانیہ کوشکست دی تھی۔ اس کے بعد ایک اور سپر پاور روس کو بھی شکست سے دوچار کیا تھا۔ اس پر امریکا کے وزیر دفاع نے کہا تھا کہ ہم نے اس کا انتظام پہلے سے کر رکھا ہے۔ کیا یہ انتظام نیشنل عوامی پارٹی کے لیڈر اسفند یار ولی خان اور قوم پرست پشتونستان کے پرستار کارکنوں کو ایک بار پھر امریکا نے سبز باغ دکھا کر پشتونستان بنانے کا کہیں وعدہ تو نہیں کیا تھا جس پر اب عمل ہو رہا ہے؟ اس سازش کو پایا تکمیل تک پہنچانے کے لیے امریکا نے قوم پرست پشتونوں کو پاکستانی طالبان کے روپ میں بھارت کی شمولیت کے ساتھ فاٹا میں دہشت گردی کی ٹرنینگ دی تھی اور ان کی برین واشنگ بھی کی تھی تاکہ افغانستان میں طالبان کی ا

۲
سلامی حکومت کے خلاف لڑ سکیں۔ اس کا ذکر ’’یہ خاموشی کب تک‘‘ کتاب میں کوموجود ہے۔ یہ کتاب ڈکٹیٹر پرویز مشرف کے مارشل لا لگانے میں معاون (ر)جنرل شاہد عزیز نے لکھی ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ ہم نے اُس وقت پرویز مشرف کو بتایا کہ فاٹا میں امریکا اور بھارت شرپسندوں کو دہشت گردی کی ٹرینینگ دے رہا ہے۔ مگر پرویز مشرف نے اس پر بل لکل کان نہیں دھرا۔ صاحبو! ہمیں یہ تاریخ یاد رکنی چاہیے کہ قوم پرست۱فغانستان کسی بھی دور میں پاکستان کا دوست نہیں رہا۔ وہ ہمیشہ بھارت کا دوست رہا اور بھارت کے اُکسانے پر پاکستان میں مداخلت کرتا رہا ہے جیسے اب بھی کر رہا ہے۔افغانستان میں طالبان کی اسلامی حکومت کے دوران صرف پاکستان اور افغانستان کی سرحد محفوظ تھی۔ افغان طالبان حکومت پاکستان کی دوست حکومت تھی۔ اب پاکستان کادوست نما دشمن امریکا پاکستان کو افغان طالبان سے لڑانے کے احکامات دیتا رہتا ہے۔ ولی خان مرحوم کے دور میں قوم پرست سردار داؤد خان نے جب پاکستان کو بھارت نے دو ٹکڑے کیا تھا نیشنل عوامی پارٹی کے پختون زلمے کو فوجی ٹرنینگ دی تھی۔ ولی خان نے کہا تھا کہ اس وقت پاکستان کی فوج بھارت سے شکست کے بعد کمزور ہو گئی ہے۔ پاکستان کے مزید ٹکڑے کرکے پشتونستان بنانے کاا ب نادر موقعہ ہے۔ پھر سردار داؤد کی قوم پرست حکومت نے مرحوم ولی خان کی پارٹی کے پشتون زلمے اور علیحدگی پسند پاکستان کے باغی اور بھارت کی مدد سے پلنے والے بلوچوں کو افغانستان کے کیمپوں میں فوجی ٹرنینگ دی تھی۔ ان تربیت یافتہ دہشت گردوں نے لاہور میں واپڈا پر حملہ کرکے درجنوں پاکستانیوں کو شہید کیا۔ پورے پاکستان میں دہشت گردی کی پشاور میں پاکستان سے محبت کرنے والے حیات محمدشیرپاؤ کو قتل کیا۔بلوچستان میں بغاوت کا اعلان کر پاک فوج سے لڑائی کی۔ پاک فوج کی جوابی کاروائی سے ڈر کر پہاڑوں پر چڑھ گئے۔ بلا آخر مرحوم بھٹو نے نیشنل عوامی پارٹی پر بغاوت کا مقدمہ قائم کیا۔ بھٹو دشمنی میں ڈکٹیٹر ضیاء الحق نے اس پابندی کو ختم کیا۔ ڈکٹیٹر ضیا کایہ فیصلہ اور کراچی میں ایم کیو ایم کے بنانے کو پاکستانی قوم کبھی بھی نہیں بھولے گی۔ اس ساری داستان کو نیشل عوامی پارٹی کے کیمونسٹ قوم پرست کارکن جمعہ خان صونی نے اپنی کتاب ’’فریبِ ناتمام‘‘ میں بیان کیا ہے۔ حوالے کے لیے اس کامطالعہ کیا جا سکتا ہے۔ صاحبو! اب پھر امریکا نے افغانستان کی جائز اسلامی طالبان حکومت کو اپنے پرانی مستقل مسلمانوں کے خلاف پالیسی کے تحت چالیس ملکوں کی ناٹو اتحادیوں کی فوجوں کے ساتھ ملک ختم کیا۔ ہمارے بزدل ڈکٹیٹر پرویز مشرف نے امریکا کی ایک ٹیلیفون کال پر اپنی فوج سے مشورے کے بغیر امریکا کو لاجسٹک سپورٹ اور مغربی ایجنسیوں کو پاکستان میں کھلے عام کام کرنے اور امریکا کوڈرون حملے کرنے کی اجازت دی۔ جس سے پاکستان میں دہشت گردی شروع ہوئی۔ امریکااور بھارت کے دہشت گردوں نے افغانستان اور پاکستان کی اینٹ سے اینٹ بجا دی۔طالبان نے تو افغانستان میں بہادری سے مقابلہ کرتے ہوئے برطانیہ اور روس کی طرح امریکا اور چالیس نیٹو فوجوں کو بھی شکست دے دی ہے۔امریکا اپنی پرانی پالیسی کے تحت یہ جنگ پاکستان میں لے آیا ہے۔ بھارت کے ٹرینڈ کردہ دہشت گردوں نے پاکستان کے فوجی ہیڈ کواٹر،نیوی، ایئرفورس، آئی ایس آئی کے دفاتر، کمانڈو ٹرنینگ کی اہم جگہ، پولیس کے دفاتر، پاکستان کے ایئر پورٹس، مساجد، امام بارگاہوں ، چرچ، بازار، مزار، اسکول کے بچوں کی بسوں اور پشاور کے آرمی پبلک اسکول میں دہشت گردی کی انتہا کر دی گئی ہے۔ نیٹو سپلائی کی وجہ سے ہماری سڑکیں تباہ ہوئی۔ اربوں کا نقصان ہو گیا۔دفاعی تجزیہ نگار افغان جہاد کے ہیرواور امت مسلہ کا درد رکھنے والے جنرل (ر) حمید گل صاحب نے کیا صحیح کہا تھاکہ امریکہ اور ہمارے دشمنوں کا پروگرام ہے’’ بہانہ طالبان.ٹھکانہ افغانستان اور نشانہ پاکستان ‘‘ یہی رائے تمام محب وطن پاکستانیوں کی بھی ہے۔پاکستان کے دو ٹکڑے کرنے کے بعدبھارت کے دہشت گرد وزیر اعظم مودی نے اعلانیہ کہا ہے کہ گلگت اور بلوچستان کے علیحدگی پسند مجھ سے ٹیلیفون پر رابطہ کر مدد مانگ رہے ہیں۔بھارت کے وزیر داخلہ کہتا ہے پاکستان کے پہلے دو ٹکڑے کیے تھے ان دس ٹکڑے کریں گے۔ یہی حال بھارت کے دوسری سیاسی لیڈروں کا بھی ہے۔ بھارت میں پاکستان کے خلاف جنگ کا سامان پیدا کر دیا گیا۔کراچی جو پاکستان کو ستر فی صد کما کر دیتا ہے۔بھارت نے اپنے مقامی ایجنٹوں کے ذریعے مفلوج کر رکھ دیا تھا۔کلبھوشن یادیو بھارتی نیوی فوج کا حاضر سروس ملازم کراچی اور بلوچستان میں دہشت گردی کا اعتراف کر چکا ہے۔ اسلام آباد سے کئی بھارتی سفارت کاروں کو بھارت کا جاسوس قرار دے کر ملک سے نکال دیا گیا ہے۔ہمارے بہادر فوج نے ضرب عضب ، کراچی میں ٹارگیٹڈ آپریشن اور اس کے بعد ردلفساد کے وجہ سے دہشت گردی کافی حد تک ختم ہوئی ہے۔ مگر ہمارا ازلی دشمن بھارت پاکستان کو تنہا کرنے اور دہشت گرد ملک ثابت کرنے کی ایڑی چوٹی کا زورلگاتا رہتاہے۔ اب اس وقت افغانستان میں پھر سے امریکا، بھارت اور شمالی اتحاد کی سازش سے قوم پرستوں کی امریکی پٹھوحکومت قائم ہے۔ یہ حکومت بھارتی آشیر باد اور امریکی شہ پر پاکستان میں دہشت گردی میں ملوث ہے۔ آئے دن پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات ہو رہے ہیں۔ افغان طالبان اپنے ملک سے قابض امریکی فوج کو نکالنے کے لیے لڑ رہے ہیں جو اُن حق ہے۔ کیونکہ پاکستان امریکا سے کولیشن فنڈ لیتا ہے اس لیے امریکا پاکستان کوبار بار افغان طالبان سے لڑنے کا حکم دے رہا ہے۔ اس وقت پاکستان نے بڑی سوچ سمجھ کر افغان پالیسی ترتیب دی ہے اور امریکا کی چال سے بچنا چاہتا ہے۔ اسی میں پاکستان کی بقا بھی ہے۔امریکا جانے اور افغان طالبان جانیں ہمیں محتاط رہنا چاہیے۔ن لیگ کا ایک قوم پرست اتحادی کہتا ہے کہ اٹک تک افغانیہ صوبہ بننا چاہیے۔ دوسرا جو کشمیر کمیٹی کا سربراہ بھی ہے اور اس کے فنڈ مزے سے کھا رہا ہے اور کشمیر کے لیے کوئی قابل ذکر کام بھی نہیں کر رہا کہتا پھرتا ہے کہ فاٹا میں کشمیر سے زیادہ ظلم ہو رہا ہے۔ یہ دونوں فاٹا کے

۳
خیبرپختون خواہ حکومت میں شامل ہونے کے مخالف بھی ہیں۔ تیسرا قوم پرست نیشنل عوامی پارٹی کا سربراہ کہتا کہ میں اول آخر افغانی پٹھان ہوں۔یہ تینوں افغان قوم پرست امریکی پٹھو حکومت کی کسی نہ کسی طرح مدد کر رہے ہیں۔ خود نواز شریف نے دہشت گردمودی کی جارحانہ پالیسی کے سامنے معذرتانہ پالیسی اختیار کی ہوئی ہے۔پاکستان کے کٹر مخالف اسٹیل ٹائکون کے ساتھ ذاتی دوستی نبا رہا ہے۔ وہ پاکستان کی وزارت داخلہ کی اطلاع کے بغیر مری میں نواز شریف سے ملاقات کر کے نہ جانے دہشت گرد مودی کا کیا پیغام لایا ہے؟اب اس تناظر میں پارہ چنار اور کوئٹہ میں موجودہ دہشت گردی ہوئی ہے ۔احمد پور شرقیہ کا واقعہ تو ناگہانی آفت ہے۔ اس جیسے حادثات سے بچنے کے لیے ہمیں اللہ کے حضور اپنے گناہوں کی اجتماہی معافی ما نگنی چاہیے کہ اللہ ہمارے قوم کو محفوظ رکھے۔ ہم نے اپنے بساعت کے مطابق موجودہ دہشت گردی کے پیچھے چھپے، اندرونی اور بیرونی عناصر کو بے نقاب کر نے کے لیے قوم کے سامنے یہ تجزیہ رکھ کر اپنا فرض ادا کیا ہے۔بھارتی ایما اور امریکی شہ پر افغانستان کی طرف سے دہشت گردی پر پوری قوم کو الرٹ رہنا چاہیے اور دشمن کے عزائم سے باخبر رہنا چاہیے۔ پوری پاکستانی قوم کو سیسہ پلائی ہو ئی دیوار بن کر اپنی پاک فوج کا ساتھ دینا چاہیے۔ اللہ مثل مدینہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کا محافظ ہو آمین۔