عید کے موقع پر سیاحوں نے نمک کی کان کا رخ کر لیا

کھیوڑہ (راجہ فیاض الحسن) عید کے موقع پر سیاحوں نے نمک کی کان کا رخ کر لیا۔دو روز میں سترہزار سیاحوں نے کان کی یاتراکی۔ تفصیلات کے مطابق ملک میں سیاحت کے فروغ میں کھیوڑہ کی نمک کی کان کا بہت بڑا کردار ہے۔ ہر سال 14 اگست، عید الفطر اور عید الاضحی کی چھٹیوں میں کھیوڑہ میں واقع دنیا کی سب سے بڑی خوردنی معدنی نمک کی کان کی سیاحت کے لئے ہزاروں کی تعداد میں مہمان اس شہر میں آتے ہیں۔ اسی روائت کے مطابق اس برس بھی عید کے دوسرے اور تیسرے روز سترہزار سیلانیوں نے کھیوڑہ کی نمک کی کان کی سیاحت کی۔ یہاں آنے والوں میں دنیا کی ہر قوم کے افراد ہوتے ہیں۔ اس کان کی سیاحت کو آنے والوں کی گاڑیوں کی پارکنگ ایک کلو میٹر طویل ہو گئی تھی۔ نمک کی کان کا منتظم ادارہ پاکستان معدنی ترقیاتی کارپوریشن کو سیاحوں کو فروخت کیے گئے ٹکٹوں سے ایک کروڑ روپوں کی آمدن ہوئی۔ کا رپوریشن کو پارکنگ فیس اور ریستوران سے حاصل ہونے والی آمدن اس کے علاوہ تھی۔مزید برآں شہر میں آنے والے سیاحوں نے کارپوریشن کے اسٹور اور شہر کے دکان داروں سے پہاڑی نمک کی بنی ہوئی لاکھوں روپوں کی سوغاتیں بھی خریدیں ۔یوں شہر کے دکان داروں کی بھی چاندی ہو گئی۔ مزید برآں شہر کے جنرل اسٹور، ریسٹوران اور ہوٹلوں سے سیاحوں نے لاکھوں کی خوردنی اشیا کی خریداری کی ۔ یوں تو کارپوریشن سیاحوں کی تفریح کے لئے سارا سال کان کے اندر بجلی سے چلنے والی ریل چلاتی ہے۔ سیاح ٹکٹ خرید کے اس ریل کی سواری کرتے ہیں۔یوں پاکستان معدنی ترقیاتی کارپوریشن کواس مد میں بھی کثیر سرمایہ حاصل ہوتا ہے۔ تاہم 14 اگست، عید الفطر اور عید الاضحی کی چھٹیوں میں کان کے اندر سیاحوں کا اس قدر رش ہوتا ہے کہ کارپوریشن کو مجبوراً ٹرین کی سروس بند کرنا پڑ جاتی ہے۔ گذشتہ سال کی مانند اس سال بھی پی ایم ڈی سی کی اعلیٰ انتظامیہ پراجیکٹ مینیجر سمیت سرکاری تعطیلات کے باوجو دونوں دن سیاحوں کی خدمت کے لئے کان کے اندر موجود رہی۔سیکیورٹی کا انتظام شاندار تھا۔شہر کی پولیس اور کارپوریشن کی سیکیورٹی نے تین روز کے لئے سیکیورٹی کے خصوصی انتظامات کئے تھے۔سیاحوں کی شہر میں آمد کا سلسلہ تا حال جاری ہے۔ امید ہے کہ حسبِ سابق ان زواروں سے حاصل ہونے والا فیوض کا سلسلہ چند روز مزید جاری رہے گا۔