جرمنی کے گاؤں میں کاشتکار فصلوں کو پانی دینے کے لئے ایک ایسا کام کرتے ہیں جو پاکستان میں کیا جائے تو انقلاب آجائے

برلن (راشد بلال سے) جرمنی کے دیہاتوں میں بھی جدید زرعی آلات جابجا دیکھنے کو ملتے ہیں۔زمین کو ہموار کرنے یا قابل کاشت بنانے کے لئے جہاں جدید ٹریکٹر خودکار مشینوں سے اپنا کام کرتے ہیں وہاں مصنوعی بارشوں سے زمین اور فصل کو پانی دیا جاتا ہے۔ پاکستان میں ھم زمین کو کاشت کی خاطر سیراب کرنے کے لئے بڑی محنت اور مشقت کر کے کھالیں بناتے ھیں اور پھر زمین اور فصل کو سیراب کیا جاتا ھے، اس کے باوجود آدھا پانی راستے میں کھال لیکج ھونے کی وجہ سے ضائع ھو جاتا ھے اور کھال کے ارد گرد ھر روز پانی کی وجہ سے کافی فصل خراب ھو جاتی ھے .
لیکن جرمنی میں نہ ہی تو کھال نکالنے کی ضرورت ہے اور نہ ہی پانی ضائع ھونے کا خدشہ. یوں تو جرمنی کا موسم ہی ایسا ہے کے تین چار دن کے اندر بارش ہو جاتی ہے لیکن کبھی کبھار جب بارش نھیں ھوتی تو جرمنی میں جب بھی کسی زمین یا فصل کو سیراب کیا جاتا ھے تو زمین کے اندر فوارے نما پائپ ڈال دئےے جاتے ھےں جن کے فوارے کا پریشر بہت زیادہ ھوتا ھے اور یہ فوارہ ایسے کام کرتا ھے جیسے آسمان سے بارش برس رہی ھو ۔پائپ لائن کو بہت پاور فل موٹر پانی سپلائی کرتی ھے ۔اس کا سب سے بڑا فائدہ یہ ھوتا ھے کہ اگر فصل پر کوئی کیڑا یا کوئی بیماری وغیرہ ھو تو فوارے کے پانی کے پریشر کی وجہ سے دور ھو جاتی اور فصل تروتازہ ھو جاتی ھے لیکن پاکستان میں اگر فصل کو کیڑا لگ جائے تو زہر آلود سپرے کا استعمال کیا جاتا ھے۔