جرمن گائے کی گیس سے گھر اور فیکٹری میں ایندھن کا کام لیا جانے لگا

لاہور( نظام الدولہ)خود کفیل قومیں علم کی بنیاد پر ٹیکنالوجی استعمال کرکے اپنی آلودگی اور فضلہ بھی کارآمد بنا لیتیں اورکہاں سے کہاں پہنچ گئی ہیں۔ ایک ہم ہیں جواپنی بھینس اور گائے کی ایک ایسی بیماری کا ڈاکٹروں سے علاج کراتے پھرتے ہیں جو قدرتی طور پر جانوروں کے پیٹ میں جمع ہوتی ہے تو گیس کی صورت خارج ہوجاتی ہے۔حالانکہ یہ گیس بڑی کارآمد ہے۔پاکستان کی حکومت جو انرجی کرائسز کے لئے دنیا بھر میں بھیک مانگ رہی ہے اسے لائیوسٹاک محکمہ کو یہ ٹاسک دے دینا چاہئے تاکہ گائے بھینسوں کی گیس سے انرجی کا متبادل کام لیا جاسکے۔
یہ مذاق نہیں حقیقت ہے کہ جرمنی کی گائے دودھ تو دیتی ہے مگر اس سے روزانہ تین سو لٹر تک میتھین گیس بھی حاصل کی جاتی ہے۔پاکستان میں گائے بھینس کے گوبر سے اُپلے بنا کر آگ جلائی جاتی تھی یا حقہ گرم کیا جاتا رہا ہے لیکن جرمن گائے اپنی گیس سے گھر اور فیکٹری کا نظام بھی چلاتی ہے۔حالانکہ ناسا میتھین گیس کی تلاش میں مریخ تک پہنچ گیا ہے مگر وہ بھی گائے کے اس قدرتی وسیلہ کو نہیں اپنا سکا ۔
رپورٹ کے مطابق گائے کی کمر پر ایک بیگ اور ڈیوائس لگا دی جاتی ہے اور گائے جب گیس خارج کرتی ہے تو اس بیگ میں اکٹھی ہوتی رہتی ہے ۔میتھین گیس موجودہ دور کی سب سے بہترین ماحول دوست گیس ہے جس پر دنیا بھر میں کام ہورہا ہے کہ کرہ ارض کو بچانے کے لئے کاربن ڈائی اکسائیڈ کی بجائے میتھین کو بروئے کار لایا جائے۔حالیہ تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ گائے کے نظام ہضم کے دوران ایسے کیمیکل پیدا ہوتے ہیں جو گیس کی صورت خارج ہوتے ہیں تو ان میں میتھین گیس کی شرح کافی زیادہ ہوتی ہے۔