نہ ہم غریب نہ ہمارے حکمران ،،،،،،،تحریر عقیل خان

سنتے آرہے ہیں کہ پاکستان ایک غریب ملک ہے۔ قیا م پاکستان کے وقت ہمارے پاس کچھ نہیں تھا۔قائداعظم نے گورجنرل بننے کے بعد تنخواہ تک نہیں لی۔ پاکستان کابینہ کو سرکاری فنڈ سے چائے تک پینے کی اجازت نہیں تھی۔ پاکستانی عوام روکھی سوکھی روٹی کھا کر گزارا کررہی تھی۔ پھر آہستہ آہستہ وقت گزرتا گیا۔ پاکستان کے بھی حالات تبدیل ہونے لگے۔
پاکستان بننے سے لیکرتاحال بہت سے حکمرانوں نے حکمرانی کی جن کی تفصیل کچھ یوں ہے۔ قائداعظم کی وفات کے بعد پاکستان میں سیاسی اور فوجی حکمران آنا شروع ہوگئے۔ قیام پاکستان سے لیکر 1956 تک مسلم لیگ برسراقتدار رہی اس کے بعد1957تا1958 عوامی لیگ اور ری پبلکن پارٹی کی حکومت رہی ۔ 1958سے 1971 تک پاکستان پر فوج کی حکمرانی ر ہی۔ 1973 سے 1977 تک پیپلزپارٹی نے حکومت کے مزے چکھے۔ اس دوران ادھر تم ادھر ہم کا نعرہ بلند ہوا اور پاکستان کے دوٹکڑے ہوئے اور پاکستان کا مشرقی بازو الگ ہوکر بنگلہ دیش بن گیا۔ 1978 سے 1988 تک ایک با ر پھر فوج نے حکومت پر قبضہ کیا اور تقریباًدس سال ضیاالحق نے حکومت کی۔ 1988 میں ضیاالحق کی حادثاتی موت کے بعد پیپلز پارٹی بے نظیر بھٹو کی قیادت میں اقتدار میں آئی۔ 90 کی دہائی میں تو حکومت کا آنا جانا لگا رہا ہے۔ 1990 میں نوازشریف نے اقتدار کا سنگھاسن سنبھالااور 1993 میں نوازشریف کو برطرف کرکے ایک بار پھر حکمرانی کا تاج پیپلز پارٹی کے سر پر سجا۔ 1996 میں بے نظیر کو چلتا کرکے پھر نوازشریف کے سپرد پاکستان کا تخت کردیا ۔ یہ اقتدار بھی زیادہ عرصہ نہ چل سکا اور پھر 1999 میں ایک بار پھر فوج نے تخت پاکستان پر قبضہ کر لیا۔
مشرف مختلف سیاستدانوں سے مل کر 2008 تک اقتدار کے مزے لوٹتا رہا ۔ اس کے بعد ملکی سیاست میں جمہوریت کے نام ایک بار پھر حکمرانی کا قرعہ پیپلز پارٹی کے نام کا نکلا اور یہ پہلا موقع تھا جب کسی سیاسی جماعت نے اپنی مدت معیاد پوری کی ہو۔اس کے بعد 2013سے تاحال مسلم لیگ کی حکومت ہے۔
قیام پاکستان سے اب تک جمہوریت کی شکل میں زیادہ تر مسلم لیگ کی حکومت رہی ہے خواہ وہ بعد میں ’’ن ‘‘ ،’’ج‘‘یا ’’ق‘‘بنتی رہی ہوں ۔یہ الگ بات ہے کہ پاکستان پر زیادہ تر فوجی حکمرانوں کا قبضہ رہا مگر اس کے بعد سیاسی حکمرانی مسلم لیگ کے پاس رہی ہے۔دوسرے نمبر پر پیپلز پارٹی ہے جس نے اقتدار کا مزا چکھا ہے۔تحریک انصاف اقتدار کا مزا لوٹنے کے لیے جدوجہد کررہی ۔وہ حکمران جو اپنے آپ کو عوام کا غمگسارضرور سمجھتے تھے مگر اسی عوام کو قرضوں کے تلے دھکیلتے ہوئے اپنے اثاثے بناتے رہے۔ ان حکمرانوں نے پاکستان کو خود کفیل بنانے کے نام پر بیرونی امداد پر ہاتھ باندھ لیا۔ پاکستانی عوام مقروض ہوتی گئی اور ہمارے حکمران امیر سے امیر تر بنتے گئے۔
حال ہی میں الیکشن کمیشن آف پاکستان نے ارکان پارلیمنٹ کے اثاثے ظاہر کیے ہیں جنہیں دیکھ کر بخوبی اندازہ ہوجاتا ہے کہ پاکستان واقعی ایک غریب ملک ہے؟ ہمارے وزیراعظم نے اپنی جائیداد کی قیمت 25 کروڑ 40 لاکھ روپے ظاہر کی ہے۔ ان کے پاس 70 لاکھ روپے کا فرنیچر، 50 لاکھ روپے مالیت کے جانور اور پرندے ہیں۔ وزیراعظم نے اپنی اہلیہ کلثوم نواز کے زیورات کی مالیت 15 لاکھ روپے ظاہر کی ہے۔ وزیراعظم نوازشریف تین گاڑیوں اور دو ٹریکٹرز کے مالک بھی ہیں۔حمزہ شہباز کے اثاثوں کی کل مالیت 35 کروڑ روپے سے زائد ہے ۔ وزیراعظم نواز شریف کے داماد کیپٹن (ر) صفدر 1 کروڑ 42 لاکھ روپے سے زائد اثاثوں کے مالک ہیں، کیپٹن صفدر نے اہلیہ مریم نواز کو 60 لاکھ روپے مالیت کی یو اے ای سے ملنے والی گاڑی بھی اثاثوں میں ظاہر کی ہے جبکہ انھوں نے سعودی عرب میں اپنی گاڑی کی فروخت کی قیمت 20 لاکھ روپے ظاہر کی ہے۔
آصف زرداری اور بلاول بھٹو پارلیمینٹ کے ممبر نہیں اس لیے ان کے اثاثے ظاہر نہیں کیے ورنہ وہ بھی کسی سے پیچھے نہ ہوتے ۔ عمران خان نے بنی گالہ اراضی کو تحفہ ظاہر کرتے ہوئے اس کی موجودہ مالیت 75 کروڑ روپے ظاہر کی ہے۔ عمران خان نے خان ہاؤس میں دفتر کی مالیت 59 لاکھ روپے جبکہ بنی گالہ کے گرد باؤنڈری وال کی مالیت 69 لاکھ روپے ظاہر کی ہے۔ عمران خان نے وراثت میں ملنے والے زمان پارک گھر کی مالیت 29 کروڑ 60 لاکھ روپے ظاہر کی ہے۔ گوشواروں کے مطابق عمران خان نے 4 کروڑ 87 لاکھ روپے سے زائد کی سرمایہ کاری کر رکھی ہے ان کے پاس 6 لاکھ روپے کا فرنیچر اور 2 لاکھ روپے مالیت کی چار بکریاں بھی ہیں، عمران خان کے استعمال میں ذاتی کوئی گاڑی نہیں۔عمران خان نے بھی بیرون ملک کوئی اثاثہ ظاہر نہیں کیا۔
شیخ رشید 4 کروڑ 75 لاکھ روپے کے اثاثوں کے اور مولانا فضل الرحمن 64 لاکھ روپے سے زائد اثاثوں کے مالک ہیں۔ اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کو 19 کروڑ روپے، پی ٹی آئی کے شاہ محمود قریشی 50 کروڑ روپے، جہانگیر ترین 78 کروڑ روپے سے زائد اثاثوں کے مالک ہیں تاہم جہانگیر خان ترین نے اپنے گوشوارے میں ہیلی کاپٹر یا جہاز کا ذکر نہیں کیا ان کے استعمال میں پانچ گاڑیاں ہیں۔قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ 3 کروڑ روپے، وزیر خزانہ اسحاق ڈار 58 کروڑ روپے سے زائد اثاثوں کے مالک ہیں،۔جس میں انہوں نے 23 ہزار 825 روپے کااسلحہ بھی ظاہر کیا ہے تاہم انھوں نے بھی بیرون ملک کسی جائیداد کا ذکر نہیں کیا۔ الیکشن کمیشن کے مطابق سینیٹر اعتزاز احسن 10 کروڑ روپے سے زائد اثاثوں کے مالک ہیں۔اگر میں اسی طرح موجودہ قومی و صوبائی اور سینٹ کے ممبران کی جائیدادوں کا ذکر کرنا شروع کردوں کالم نہیں بلکہ کتاب لکھی جاسکتی ہے۔
حکمران تو حکمران بیوروکریٹ بھی ان سیاستدانوں سے کم نہیں۔ اگر ان کے اثاثے جات دیکھے جائیں توبہت سے سیاستدانوں سے بیوروکریٹ زیادہ اثاثے جات کے مالک ہیں۔ملک ریاض سیاستدان نہیں مگر وہ پاکستان میں پراپرٹی کا بے تاج بادشاہ ہے جو حکمرانوں کو محل کے محل گفٹ میں دے دیتا ہے۔ اگرمیں عوامی سطح پر بات کروں تو یہ بھی غلط نہ ہوگی کہ ہماری عوام کے پاس بھی بہت دولت ہے۔ ایک سروے کے مطابق وہ عوام جو دوٹائم کی روٹی کے لیے ترستی ہے ا ن کے پاس روٹی ہو یا نہ ہو مگر موبائل ضرور ہوتا ہے۔ نوے فیصد دیہاتوں میں موٹر سائیکلوں کی بھرمار ہے۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جس ملک کی عوام کا بچہ بچہ مقروض ہو اس ملک کے حکمران اربوں کھربوں کے مالک کیسے بن گئے؟اس ملک کے بیوروکریٹ کے پاس اتنا سرمایہ کہاں سے آیا؟ اس عوام کے پاس اتنی رقم کہاں سے آئی کہ چھوٹے سے جائز کام کے لیے ہزاروں روپے رشوت دے ؟جوخودتو روٹی کو ترسے مگر موبائل کاپیٹ بھرنے کے لیے رقم تیار رکھے۔ ہم حکمرانوں پر تو تنقید کرلیتے ہیں مگر کبھی اپنے گریبان میں جھانک نہیں دیکھتے کہ ہم کونسے راستے پر چل رہے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ جس کا جہاں داؤ چلتا ہے وہ وہاں سے اپنا مفاد پورا کرلیتا ہے ۔ اگر ہم خود عہد کرلیں کہ آج کے بعدنہ خود کرپشن کریں گے نہ کرپشن کرنے والوں کا ساتھ دیں گے تو ہمارے ملک سے سوفیصد کرپشن سے چھٹکارا مل سکتا ہے۔ جب ہم خود ٹھیک ہونگے تو پھر نہ ہمارے بیوروکریٹ اور نہ ہی سیاستدان کرپشن کریں گے ۔