سرجری میں باریک رسولیاں تلاش کرنے والی خردبین ایجاد

واشنگٹن: سائنسدانوں کی ایک ٹیم نے ایک خاص قسم کی خردبین (مائیکرو اسکوپ) بنائی ہے جو کینسر سرجری کے دوران مزید سرطان زدہ رسولیوں کی نشاندہی کرکے سرجنوں کا کام آسان بناتی ہے اور اس طرح بار بار سرجری کی ضرورت کم ہو جاتی ہے۔
عام طور پر ایسا ہوتا ہے کہ کینسر کے خلیات دور کرتے ہوئے صحت مند خلیات اور حصے بھی نکل جاتے ہیں۔ اب اگر سرجن حضرات کو کسی حصے پر سرطان کا شبہ ہوتا ہے تو اس کی بایوپسی کی ضرورت پیش آتی ہے جس میں وقت لگ جاتا ہے اور بار بار آپریشن کی ضرورت پیش آتی ہے۔ یہ عمل مریض کے لیے تکلیف دہ ہوتا ہے۔
نئی خردبین ایک طاقتور روشنی جسم یا زخم پر ڈالتی ہے اور روشنی اندر تک اتر جاتی ہے جس سے آدھے گھنٹے تک مائیکرو اسکوپ اندر کی صورتحال دکھاتی ہے اور سرجن اچھی طرح اس کا جائزہ لے سکتے ہیں۔ اگر اس میں مزید کینسر نظر آجائے تو وہ بہ آسانی اسے نکال سکتے ہیں۔ مائیکرو اسکوپ کے نتائج نیچر بایومیڈیکل انجینیئرنگ میں شائع ہوئے ہیں۔

خردبین بہت تیزی سے ٹشو کی انتہائی تفصیلی تصاویر لیتی ہے اور فی سیکنڈ ہزاروں تصاویر کو جوڑ کر اسے تھری ڈی شکل دیتی ہے۔ اس طرح ایک تھری ڈی تصویر بن جاتی ہے۔

یہ خردبین فوری طور پر نتائج فراہم کرتی ہے اور خود سرجن اسےسمجھ سکتا ہے۔ فی الحال اسے بریسٹ کینسر پر آزمایا گیا ہے جبکہ ماہرین اسے مزید اقسام کی سرطانی جراحی میں آزمائیں گے۔ واضح رہے کہ دنیا بھر میں بریسٹ کینسر تیزی سے پھیل رہا ہے اور اس کی شکار خواتین کی 40 فیصد تعداد کو ایک سے زائد مرتبہ سرجری کے تکلیف دہ عمل سے گزرنا پڑتا ہے۔