زراعت اورشرمپ فارمنگ سے مینگرووز خاتمے کے قریب

ملبورن، آسٹریلیا: تمر (مینگرووز) کے جنگلات دنیا بھر کے ساحلوں کے لیے اہمیت رکھتے ہیں لیکن اب یہاں سمندری فارمنگ (ایکواکلچر) اور کھیتی باڑی سے ان کی بقا کو شدید خطرات لاحق ہیں بلکہ کئی مقامات پر تمر کے جنگلات خاتمے کے قریب پہنچ گئے ہیں۔
دنیا بھر میں مینگرووز پر نظر رکھنے والی عالمی تنظیم ’گلوبل مینگرووز واچ‘ (جی ایم ڈبلیو) نے سیٹلائٹ تصاویر اور دیگر سہولیات کی مدد سے 1996 سے 2010 تک شمالی، وسطی، جنوبی امریکا، افریقہ، مشرقِ وسطیٰ، بھارت اور جنوب مشرقی ایشیا میں مینگرووز سے بھرپور 1168 مقامات کا جائزہ لیا ہے۔
اس رپورٹ کے مرکزی مصنف ناتھن تھامس لکھتے ہیں کہ اس عرصے میں جن علاقوں کا جائزہ لیا گیا وہاں 38 فیصد مینگرووز متاثر ہوئے ہیں۔ ان میں سے جنوب مشرقی ایشیا مینگرووز سے مالامال ہے جہاں دنیا بھر کے 34 فیصد مینگرووز ہیں لیکن دنیا کی 90 فیصد ایکواکلچر سرگرمیاں بھی یہیں ہوتی ہیں یعنی یہاں مچھلیوں اور شرمپ کے تالاب بنائے گئے ہیں جو سمندر کنارے موجود ہیں اور انہیں بنانے کے لیے لامحالہ مینگرووز کو صاف کیا جا رہا ہے۔ اب حال یہ ہے کہ اس علاقے کے آدھے مینگرووز تباہی کے دہانے پر پہنچ چکے ہیں۔
تھامس کیلیفورنیا انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی سے وابستہ ہیں اور وہ کہتے ہیں کہ ساحلی آبادی بڑھنے سے لوگ مچھلیوں اور شرمپ فارمنگ کا کام کر رہے ہیں یا پھر چاول اور پام کے درخت کاشت کر رہے ہیں جس سے مینگرووز کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے۔
انڈونیشیا میں مینگرووز کے ماہر سیسپ کوسمانا کہتے ہیں کہ اس ملک میں 37 لاکھ ہیکٹر پر مینگرووز تھے جن کی 70 فیصد تعداد انسانی آبادی، عمارتوں، زراعت اور دیگر سرگرمیوں سے ختم ہو چکی ہیں۔
پاکستان میں بھی مینگرووز کی بقا کو سخت خطرات لاحق ہیں۔ واضح رہے کہ مینگرووز سمندری کنارے پر آسانی سے کاشت ہو جاتے ہیں۔ ان کی جڑیں زمین کو گھل کر ختم ہونے سے بچاتی ہیں۔ یہاں سمندری جاندار اور شرمپ وغیرہ پروان چڑھتے ہیں۔ سمندری طوفان کی صورت میں یہ ان کی شدت کو کم کرتے ہیں۔