انٹرویو۔ چوہدری منظور رضا اشرف کیپری پی ٹی آئی ،،،،،،،،،، سینئر صحافی محمد اشتیاق پال

پاکستان تحریک انصاف ضلع جہلم کے رہنما سابق نائب صدر ضلع اور امیدوار ممبر صوبائی اسمبلی پی پی 26 جہلم چوہدری منطو رضا اشرف کیپری جن کی عوامی اور پارٹی خدمات کے پیش نظر روزنامہ جذبہ جہلم کیلئے ایک خصوصی انٹرویو کیا گیا جس میں انہوں نے پارٹی تنظیم سازی ٹکٹوں کی تقسیم اور قومی سطح کے مسائل کے ساتھ ضلع جہلم پر خصوصی بات چیت کی۔جو قارئین کی نظر ہے۔
س۔ضلع جہلم کی تنظیم سازی کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے۔؟
ج۔ چوہدری منظور رضا اشرف کیپری نے کہا نئی تنظیم سازی کے بارے میں کہا کہ عامر کیانی صدر شمالی پنجاب نے منتخب ہونے کے بعد چوہدری زاہد اختر کو دوباری ضلع جہلم کے صدر کا نوٹیفیکیشن جاری کر دیا گیا جس پر عامر کیانی عامر کیانی اور چوہدری زاہد اختر مبارکباد کے مستحق ہیں۔ ہماری میٹنگ میں یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ جلد ہی سابقہ روایات کی طرح ضلع، تحصیل اور یونین کونسل سطح پر نئی تنظیم سازی کو جلد مکمل کیا جائے اور ہماری بھرپور کوشش ہے کہ ضلع تحصیل سے لیکر یونین کونسل تک کے تمام عہدیداران مل کر اور ایک ہو کر مضبوط تنظیم بنا سکیں اس کے فائدہ اگلے الیکشن میں ہو گا۔
س۔ پی ٹی آئی ضلع جہلم میں واضح دو گروپوں میں ہے اس کا فائدہ کس جماعت کیلئے ہے۔؟
PTI کے ضلع جہلم میں دو واضح گروپوں کے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ سیاسی جماعت میں دھڑے بندی ہمیشہ نقصان دہ ہوتی ہے ہماری بھرپور کوشش ہے کہ ہمارے ناراض بھائی ورکرز ایک پلیٹ فارم پر لے کر آئیں اسی میں پارٹی کا وقار اور معیار قائم رہ سکتا ہے۔ عمران خان صاحب کی ایک جماعت ہے اس میں دھڑے بندی کی گنجائش نہیں ہونی چائیے کیونکہ مخالفین تو ہمیشہ تقسیم کرو اور ان پر حکومت کرو کے تحت منصوبہ بندی کرتے ہیں اسی حصار کو توڑنے کیلئے پاکستان تحریک انصاف کے تمام کارکنان، عہدیداران اور امیدواروں کو مل جل کر مخالفین کا مقابلہ کرنا ہے تاکہ وہ اپنے خلاف سازشوں کا مل جل کر مقابلہ کر سکیں۔ضلع جہلم کے ووٹرز اور وہ لوگ جو PTI میں شامل ہونا چائتے ہیں وہ اس بات کے منتظر ہیں کہ کبPTI ضلع جہلم سے دھڑے بندی کا خاتمہ ہو اور وہ پاکستان تحریک انصاف میں شامل ہو سکیں۔ تنظیم سازی اور ٹکٹوں کی نامزدگیوں کو سامنے رکھ کر انہیں یکجا ہونا پڑے گا ورنہ اس کا فائدہ دوسری جماعتیں لے سکتی ہیں۔ دونوں گرپوں کو اپنی ذاتی اناّ نہیں بلکہ پارٹی ڈسپلن اور پارٹی مفاد کی خاطر یک جان ہونا پڑے گا جس سے دو گروپوں میں تقسیم ورکرز بھی یک جان ہو جانے سے پارٹی مخالف جماعتوں سے مقابلہ کرنے کی واضح پوزیشن میں آ جائے گی، اصولاً تو اختلافات رائے ہر ورکر اور لیڈران کو حق حاصل ہے مگر پارٹی کے فیصلوں میں کبھی صحیح یا غلط(right or wrong) نہیں ہوتا بلکہ فیصلہ پارٹی کے مفاد میں مجبوراً کرنا پڑتا ہے جس سے پارٹی کو ترجیح نہ کہ امیدواروں کی اناّ۔
س۔ PTIمیں28 لاکھ رجسٹرڈ ووٹر تھے جبکہ انٹرا پارٹی الیکشن میں تقریباً اڑھائی لاکھ ووٹ ڈالے گئے کیا ورکرز پی ٹی آئی سے اکتا گئے ہیں۔۔؟
اسکے جواب میں چوہدری منظور رضا اشرف کیپری نے کہا کہ انٹر پارٹی الیکشن کو بہت جلدی میں منعقد ہوا جو ریجنل سطح پر ہوا ہے کیونکہ جب الیکشن نچلی سطح تک ہو تو مہم زوروشور سے جاری رہتی ہے جس کی وجہ سے28 لاکھ ووٹر رجسٹرد ہونے پر صرف2 لاکھ 50 ہزار تقریباً ووٹرز نے حسہ لیا ، میں پر امید کہہ رہا ہوں کہ اب ضلع جہلم میں PTI مضبوط پارٹی اور لا تعداد ووٹرز کے ہمراہ کھڑے ہیں آئندہ الیکشن میں یہ ثابت ہو گا کہ ضلع جہلم اب نہ تو منی لاڑکانہ اور نہ ہی ن لیگ کا قلعہ ہے بلکہ عمران خان کا قلعہ ہے۔
س۔بقول سید نعمان شاہ کے چوہدری فواد حسینNA63 سے دو مرتبہ الیکشن ہار چکے ہیں لہذا اب ٹکٹ ان کا حق ہے اس پر آپکی رائے۔؟
ج۔جواب میں چوہدری منظور رضا اشرف کیپری نے کہا ک چوہدری فواد حسین میری نظر میں الیکشن جیتے ہیں کیونکہ سرکاری مشینری بھی استعمال ہوئی جس کے باوجود تھوڑے سے مارجن سے ہارے ، ضمنی الیکشن ویسے بھی حکومتی ہوتا ہے، میں ضلع جہلم NA63 کے ووٹرز کا ازحد مشکور ہوں جنہوں نے اتنی بھاری تعداد میں ووٹ ہمارے حق میں ڈال کر ثابت کیا ہے کہ ووٹ عمران خان کا ہے۔ چوہدری فواد حسین اس وقت فرنٹ سے لیڈکر رہے ہیں اور خصوصی طور پر پانامہ کے حوالہ سے ان کا اہم کردار ہے جس کی وجہ سے ضلع جہلم کا نام اور مقام پورے پاکستان بلکہ دنیا بھر میں نمایاں کر دیا ہے۔ چوہدری فواد حسینNA63 میں مضبوط اور ہردلعزیز شخصیت کے مالک ہیں جو اپنے حلقہNA63 کورٹ کے ساتھ میڈیا وار میں انکا اہم کردار ہے۔ اگر پارٹی ٹکٹ کا فیصلہ کرتے ہوئے سید نعمان شاہ کو دیتی ہے تو میں پارٹی کے فیصلے کا پابند ہوں لیکن پارٹی کو سوچنا چائیے کہ صرف پارٹی ٹکٹ دینے کی بات نہیں ہے بلکہ نشست جیتنے کی بات ہے۔
س۔حلقہ پی پی 26 میں جہلم شہر بلدیہ حدود کے علاوہ دیہات آتے ہیں جبکہ آپ کی زیادہ برادریPP25 میں ہے ایسا آپ کیلئے مشکل نہیں ہو گا ۔؟
ج۔ حلقہ پی پی26 جو شہر بلدیہ حدود اوریونین کونسلز ہیں جس کی وجہ سے مجھے کوئی مذائقہ نہیں ہے برادری کے نام پردوسری پارٹیوں سے اگر کوئی شخص شہری حلقہ سے الیکشن لڑ سکتا ہے تو میں بھی اپنی پارٹی اور برادری کی مشاورت اور سپورٹ سے پی پی 26 کا الیکشن لڑ کر کامیاب ہو سکتا ہوں
اب پی پی26 میں منور منہاس سابق ناظم یونین کونسل، پیر حمزہ کرمانی، الحاج ملک وزیر ، عثمان الرحمن چوہان ندیم افضل بنٹی اور میں خود چوہدری منظور رضا اشرف کیپری امیدوار ہیں۔ پارٹی ٹکٹ کیلئے درخواست کا تمام ووٹرز حق رکھتے ہیں لیکن پارٹی ٹکٹ کا فیصلہ پارٹی پارلیمانی بورڈ، شمالی پنجاب عہدیداران، ضلع جہلم کی تنظیم ورکرز کی رائے اور سب سے اہم عمران خان صاحب کا خود انٹرویو لینے کے بعد ہی فیصلہ ہو سکتا ہے۔ کہ کس امیدوار کو پارٹی ٹکٹ جاری کیا جائے جو لوگ اس وقت دعویٰ کرتے ہیں کہ پارٹی ٹکٹ ہماری جیب میں ہیں اور اپنے اثرورسوخ سے پارٹی ٹکٹ فائنل کروا لیا ہے، وہ پارٹی ڈسپلن کی خلاف ورزی کر رہے ہیں صرف ٹکٹ لینا مقصد نہیں ہے بلکہ پارٹی کیلئے سیٹ کامیاب کرانا ہے۔ پی پی 26 میں برادری ووٹر کا ایک اہم کردار ہے جو امیدوار کو کامیاب یا ناکام بنا سکتا اس کے ساتھ امیدوار صرف مالی طور مستحکم ہونے پر الیکشن نہیں جیت سکتا بلکہ اس بات کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ پی پی 26 میں کون کونسی برادریاں بھاری اکثریت والی ہیں پی پی 26 میں نیا چہرہ، تعلیم یافتہ پارٹی خدمات اور پارٹی منشور کے مطابق اور اپنے قائد عمران خان کے ویژن کو سمجھنے والا ہونا چائیے۔
س۔ اگر آپ پی پی 26 میں امیدوار بن جانے پر آپکی کیا اہم ترجیحات ہوں گی۔۔؟
ملک کی ترقی دو چیزوں پر منحصر ہے ایک تعلیم اور دوسرا روزگار، ضلع جہلم میں بہت مسائل ہیں لوگوں کو پینے کا صاف اور صحت مند پانی میسر نہیں ہے سرکاری ہسپتالوں اور سکولوں کی حالت زار ابتر ہے شہری حلقوں میں سیوریج سڑکوں گلیوں اور کوڑا کرکٹ کی وجہ سے غلاظت عام اور عوام بیمار ہیں اس انفراسٹرکچر میں بہت بہتری لانے کی اشد ضرورت ہے۔ ضلع جہلم میں رفتہ رفتہ تمام انڈسٹریز کو ختم کر دیا گیا جیسے فوجی مل، گلاس فیکٹری، پلائی وڈ فیکٹری اور گذشتہ سال سانحہ کے بعد چیپ بورڈ فیکٹری بھی بند ہو گئی ہے جس کی وجہ سے ہزاروں افراد بے روزگار ہو گئے ہیں اس پر مذید ستم کہ چند ماہ قبل پاکستان تمباکو کمپنی(سگریٹ فیکٹری) نے بھی تقریباً200 ملازمین کو جبری نوکری سے نکال کر ان کے گھروں کے چولھے ٹھنڈے کر دئیے، میری ترجیحات میں سکول کالجز سرکاری ہسپتالوں انفراسٹرکچر اور اس کے علاوہ جہلم میں سرمایہ کاری ہو جہاں پر چھوٹی چھوٹی صنعتوں کیلئے کام کے وسائل پیدا کئے جا سکیں تاکہ اپنے ضلع اور گھر کے نزدیک روزگار میسر ہو سکے۔ سکول کالجز کے معیار کو انٹر نیشنل سطح پر لایا جائیگا تاکہ ضلع جہلم کے بچے تعلیم حاصل کرنے کے بعد ضلع جہلم کو فائدہ پہنچائیں ۔ یہ بڑے افسوس کی بات ہے کہ ضلع جہلم کے بچے تعلیم حاصل کرنے کے بعد ضلع جہلم کو چھوڑ کر دوسرے بڑے شہروں میں روزگار کیلئے ہجرت کر جاتے ہیں کیونکہ ہمارے سیاستدانوں نے آج تک ان بچوں کیلئے وسائل پیدا نہیں کیے۔
نوجوان نسل کو تباہی سے بچانے کیلئے منشیات کا مکمل خاتمہ ہونا چائیے اور سپورٹس کمپلیکس اسٹیڈیم کی اشد ضرورت ہے تاکہ نوجوان نسل کی صلاحیتیں مثبت طور پر ہوں نہ کہ منشیات کی طرف، خواتین اور بچوں (فیملیز) کیلئے تفریح پارک از حد ضروری ہیں تاکہ وہ آلودہ ماحول سے نکل کر سیر و تفریح کر سکیں
س۔ پانامہ اور جے آئی ٹی کو آپ کس نظرسے دیکھتے ہیں ۔؟
ج۔ پاکستان کی تاریخ میں پہلی دفعہ ایک منتخب وزیر اعظم اور اسکے قریبی عزیزوں کو ایک مجرم بنا کر پیش کیا جا رہا ہے یہ بہت اچھی روایت ہے کہ عدلیہ اپنے فرائض بہ احسن طریقے سے ادا کر رہی ہے کیونکہ یہ کیس صرفPTI کا نہیں ہے یہ الزامات پانامہ ساؤتھ امریکہ میں ملک ہے جس نے دنیا بھر کے ایسے اہم انکشافات کئے ہیں جس میں ہمارے وزیر اعظم میاں نواز شریف اور اسکے خاندان کی کرپشن کو سامنے لایا گیا ہے یہ کیس حقیقتاً پاکستانی عوام بمقابلہ وزیر اعظم فیملی ہے مجھے امید ہے کہ فیصلہ ان کے خلاف آہیگا۔ انتشار پھیلانے اور JIT متنازعہ بنانے کی کوشش کی گئی ہے JIT نے ان کو پہلے سوالنامہ جاری کرتی ہے کہ ان کے جوابات دیں یہ بار بار جانے کے باوجود ابھی تک ٹھوس ثبوت پیش نہیں کر سکے۔ پاکستانی عوام اب سمجھ گئی ہے کہ ملکی ترقی میں سب سے بڑی رکاوٹ ان کی اپنی پیداکردہ ہے اور کرپشن ہے
س۔عمران خان کی آف شور کمپنی جس پر اکبر بابر نے الیکشن کمیشن رجوع کیا ہے ۔؟
ج۔آف شور کمپنی بنانا کوئی غیر قانونی نہیں ہے اول یہ ہے کہ اس آف شور کمپنی میں پیسے کس زرائع سے اور کس طریقے سے آیا ہے عمران خان نے UK میں کرکٹ کھیل کر پیسہ بنایا کیونکہ خان صاحب برٹش نہیں بلکہ پاکستان نیشنلٹی ہولڈر ہیں تو انہوں نے اپنے اکاونٹنٹ سے مشورہ کیا اور اس نے بتایا کہ ٹیکس میں چھوٹ حاصل کرنے کیلئے آپ قانونی طور پر آف شور کمپنی بنانے کا حق رکھتے ہیں اس وجہ سے عمران خان نے آف شو رکمپنی بنائی۔ آف شور کمپنی میں دو باتوں کا خیال رکھنا ہوتا ہے ایک ٹیکس چھوٹ جو قانونی طور پر آپکا حق ہے اور دوسرا ٹیکس دینے سے کنارہ کشی، نواز شریف اور عمران خان میں فرق یہ ہے کہ عمران نے تمام اثاثہ جات اور نقد رقم پاکستان منتقل کی جس کا فائدہ پاکستان کو ہوا ہے جبکہ نواز شریف نے پاکستانی عوام کا ٹیکس چوری کرکے بیرون ملک چھپایا ہے جس سے ملک اور عوام کا قیمتی نقصان ہوا ہے۔JIT میں یہ انکشاف ہوا ہے کہ لندن اپارٹمنٹس1992-93 میں کاغذات کے مطابق اس وقت خریداری ہوئی ہے اور نواز شریف نے اسمبلی میں کھڑے ہو کر کہا تھا یہ فلیٹ2005-06 میں خریدے گئے ہیں یہ کیا ثابت ہوتا ہے عوام بخوبی آگاہ ہے
س۔ عمران خان پر الزام ہے کہ اس نے بیرون ممالک کے غیر مسلموں سے فنڈ وصول کئے ہیں۔؟
ج۔PTI کے بے شمار سپورٹرز امریکہ، لندن یورپ میں موجود ہیں اور وہ ایک نظام کے تحت زندگی بسر کر رہے ہیں جسکی وجہ سے وہ یہی سمجھتے ہیں کہ ایسا ہی بہترین نظام ملک پاکستان میں بھی ہونا چائیے اور میری بھی سوچ اور ویژن ہے اسکی وجہ سے وہ لوگ بھرپور طریقے سے PTI کو فنانشل سپورٹ کرتے ہیں جس جس ملک میں PTIکے ورکرز موجود ہیں اس ملک کے قانون کے مطابق PTI رجسٹرڈ ہے اس قانون کے تحت وہ یہ فنڈ ریزنگ بھی کر سکتے ہیں اور ٹیکس اتھارٹی کو ثبوت فراہم کرتے ہیں کہ کس مد سے رقم وصول کی گئی ہے اور کہاں خرچ کر رہے ہیں PTI کے پاس تمام شواہد موجود ہیں کہ فنڈز ریزنگ کس طرح کی گئی ہے آج تک ن لیگ اور دوسری جماعتوں نے کبھی فنڈ ریزنگ کو واضح نہیں کیا کہ کون اور کہاں سے فنڈ دے رہا ہے ۔ میرے مطاق پارلیمنٹ میں اس پر قانون سازی ہونی چائیے۔
س۔کیا عمران خان اپنے اوریجنل ویژن سے ہٹ گیا ہے دوسری جماعتوں سے وہ لوگ جن پر سوالیہ نشان ہیں اور دوسرا یہ کہ PPP نے منصوبہ بندی کرکے اپنے وزراء اور عہدیداران کو PTI میں شامل کیا ہے پاکستان تحریک انصاف کو پیپلز پارٹی کی پاکٹ ڈکشنری بنا سکیں ۔؟
ج۔ جمہوری پارٹی میں ہر شخص کو آزادی حاصل ہے کہ وہ اپنی مرضی سے جس پارٹی میں جانا چاہے شمولیت حاصل کر سکتا ہے اور دوسری بات کہ جن لوگوں پر سوالیہ نشان ہے ان پر گورنمنٹ اپنے قانون کے مطابق کیس رجسٹرڈ کرئے۔PTI نے تین دفعہ تجربہ کیا ہے کہ نئے لوگ سامنے لائے جائیں اس میں پی ٹی آئی کو وہ فائدہ نظر نہیں آیا انسان ایک دفعہ غلطی کرتا ہے مگر بار بار ایسے نہیں کرتا اب بھی زیادہ تر نئے چہرے ہی آئینگے لیکن ان علاقوں میں جہاں برادری ازم اور ان کا ذاتی بہت ووٹ بینک ہے ان لوگوں کے پی ٹی آئی میں آنے سے جماعت کو فائدہ ہو گا۔ پی ٹی آئی کو اب معلوم ہو گیا ہے کہ جس طرح ن لیگ وکٹ پر کھیل رہی ہے اسی طرز پر کھیلنا ہو گا تاکہ زیادہ سے زیادہ نشستیں حاصل کرکے پاور میں آئیں اور اس نظام کو تبدیل کریں۔ پی پی پی ایک صوبے کی جماعت بن کر رہ گئی ہے پنجاب میں اسکا کائی اہم کردار نہیں ہو گا ۔ ہر پارٹی بھیTRY,TESTED,FAILED جماعتوں میں ایک جماعت ہے۔ پی پی پی کا زیادہ ووٹر پی ٹی آئی میں آ گیا ہے اسلئیے اب پی ٹی آئی ہی PPP کو نقصان پہنچاائے گی نہ کہ پی پی پی پاکستان تحریک انصاف کو۔ جن لوگوں نے پارٹی میں شمولیت کیلئے مخلص فیصلے کئے ہیں وہ پارٹی ہی میں رہینگے خواہ انہیں کوئی ٹکٹ ملے یا نہ ملے ، جو صرف ظاہر ٹکٹ کے چکر میں پی ٹی آئی میں شامل ہوئے ہیں وہ فصلی بٹیرے ثابت ہوں گے پاکستان تحریک انصاف اب دوسری بڑی سیاسی جماعت بن چکی ہے اسلئے کسی کے آنے یا جانے سے کوئی فرق نہیں پڑے گا۔
س۔ آپ پی پی 26 سے امیدوار ہیں پی پی 25 جادہ میں دشمنی ختم کروانے میں کیا اہم کردار ادا کیا۔؟
ج۔ میں جادہ میں پیدا ہوا میں 15 سال کی عمر میں UK چلا گیا لیکن مجھے پاکستان اور بالخصوص جادہ سے خصوصی پیار ہے اور یہی وجہ تھی کہ میں چاہتا تھا کہ جادہ میں جو پرانی دشمنی ہے اسے ختم کروایا جا سکے میں اور میرے ساتھی بالخصوص چوہدری قیصر محمود کیپری، حاجی فیض احمد، چوہدری سعید گجر کٹھانہ اور چوہدری اسد رضا سابق سیشن جج اور دیگر احباب کی مشترکہ کاوشوں سے پرانی دشمنی دوستی میں بدل گئی اس پر 4 ماہ کام کیا۔تمام پارٹیز نے کمال محبت سے ہماری بات سنی اور جادہ کو پرامن بنانے میں تمام گروپوں نے بھرپور ساتھ دیا جس کی بدولت جادہ اب پر امن ہو چکا ہے میں ایک امن پسند شخص ہوں اور اسلام ہمیں بھائی چارہ کی تربیت دیتا ہے اور ہماری صاف نیت اور نیک ارادوں کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے اپنے پیارے حبیبؐ کے صدقے ہم پر خصوصی کرم فرمایا اور اب تمام بھائی بھائی ہیں
میرا ایک ضلع جہلم کو بالخصوص پیغام ہے کہ ان لڑائی جھگڑوں کو مل بیٹھ کر پیار محبت سے حل کر لیں تاکہ ضلع جہلم کی آنے والی نسل کیلئے خوشیوں کے راستے کھول دیں انہیں اچھی تعلیم دے کر ان کی بہتر تربیت کرکے اچھا شہری بنا سکیں تاکہ وہ ملک و قوم کی خدمت سے سرشار ہو سکیں، اللہ تعالیٰ ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔ پاکستان زندہ باد، پی ٹی آئی زندہ باد