سیاسی یتیمی کا سیاسی ناتجربہ کاری،،،،،،،، تحریر :۔ احسن وحید سوہاوہ

سوہاوہ شہیدوں اور غازیوں کی سر زمین حلقہ پی پی چوبیس کے باسی گزشتہ پندرہ سالوں سے بنیادی ضروریات سے محروم چلے آ رہے ہیں 2013کے الیکشن میں اس حلقہ کی غیور عوام کے ساتھ پینے کے صاف پانی ، سوئی گیس ، گرلز ڈگری کالج ، اسٹیڈیم ، سروس روڈ ، لنکس روڈ کی تعمیر ، شہری کی خوبصورتی کے لئے نئے کھوکھوں کی تعمیر ، اسٹریٹ اور روڈ لائٹس ، ٹی ایچ کیو ہسپتال سوہاو ہ میں ڈاکٹروں کی کمی اور جدید مشینری کی تنصیب اور دیہی علاقوں میں رورل ہیلتھ سینٹر کی اپ گریڈیشن تھانوں سے انتقامی کاروائیوں کا خاتمہ اور غریب کے نوجوان بچوں کو سرکاری اداروں میں بھرتیوں پر خوب سیاست کی گئی اور سابقہ ادوار میں ان بنیادی ضروریات کو پورا نہ کرنے والوں کو خوب آڑے ہاتھوں لیا گیا اور اس غیور عوام نے بھی اس بار اپنی سابقہ روایت کو برقرار ہی رکھا اور پرانی جماعت میں نئے چہرے کو اس یقین کے ساتھ ووٹ دے دیا کہ شاہد اس بار ان کی قسمت بدلے اور سیاست کے نئے کھلاڑی راجہ محمد اویس خالد کو بھاری اکثریت سے کامیاب کروا کر اسمبلی میں اپنے حلقہ کی نمائندگی کی طاقت سے نوازا ۔راجہ محمد اویس خالد کے بارے میں عام رائے تھی کہ وہ سخت مزاج ہیں لیکن پندرہ سالوں سے محرومیوں کے ازالے کی امید وں نے عوام کے ذہنوں سے سخت مزاجی پر برتری حاصل کی اور راجہ محمد اویس خالد نے بھی اپنی کامیابی کے بعد اس تاثر کو ختم کرنے کی ہر ممکن کوشش کی اور کافی حد تک اس میں کامیاب بھی ہوئے لیکن ایم پی اے راجہ محمد اویس خالد کا سیاسی کیئر یر بھی وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اسکینڈل جیسے ہچکولوں کی نظر ہوتا رہا جس سے بچنے کے لئے انہوں نے زیادہ وقت راولپنڈی اور لاہور میں گزارنا شرو ع کر دیا جس کی وجہ سے سب سے پہلا کام یہ ہوا کہ اداروں سے حلقہ پی پی چوبیس میں سیاسی سرپرستی ختم ہو گئی اور اداروں میں کرپشن نے اپنی جڑیں مضبوط کر لی اور حکومت پنجاب کی طرف سے لنکس روڈ کی تعمیر سمیت گرلز ڈگری کالج اور ٹی ایچ کیو میں تعمیراتی کاموں میں بڑے پیمانے پر گھپلے کیے گئے اور حکومتی خزانے کو بھاری نقصان پہنچایا گیا ۔جن میں چند کا ذکر کرتا چلوں ٹی ایچ کیو ہسپتال سوہاوہ کی مرمت ، میڈیسن کی خرید وفروخت ، سوہاوہ میانی بالا روڈ کی ناقص تعمیر ، گرلز ڈگری کالج کی تعمیر میں ناقص میٹریل کا استعمال اور ادھورا کام چھوڑ کر ٹھیکدار کا غائب ہونا شامل ہیں راجہ اویس خالد کے قریبی حلقوں کی طرف سے کروڑوں روپے کے ترقیاتی کاموں کے دعوئے کیے جا رہے ہیں جو کچھ حد تک درست بھی ہیں کیونکہ حکومت پنجاب کی طرف سے روڈ وں کی تعمیر کے لئے خطیر رقم مہیا کی گئی جن سے سوہاوہ شہر اور لنکس روڈ ز سمیت گلیوں کی تعمیر ات اور مرمت کروائی گئیں ۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ان چار سالوں میں عوام سے جن مسائل اور بنیادی ضروریات کی فراہمی پر سیاست کرتے ہوئے ووٹیں لی گئی ہیں کیا وہ ضروریات اور بنیادی سہولیات عوام کو میسر ہوئی ہیں اس بات کا فیصلہ تو آئندہ الیکشن میں عوام کی ووٹیں ہی کرینگی کیونکہ آج بھی سوہاوہ کے نوجوان کھیلوں کے لئے گراونڈ ، پینے کے صاف پانی ، سوئی گیس کی فراہمی ، گرلز ڈگری کالج میں کلاسوں کے باقاعدہ اجراء ، دونوں اطراف میں سروس روڈ کی تعمیر ، رکشہ اسٹینڈ کی فراہمی ، دکانداروں کے لئے شہر میں نئے کھوکھوں کی تعمیر ،تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال سوہاوہ میں ڈاکٹروں کی کمی ، جدید مشینری کی دستیابی ، رورل ہیلتھ سینٹر کی اپ گریڈیشن شہر میں اسٹریٹ لائٹس اور روڈ لائٹس کی فراہمی سے حلقہ پی پی چوبیس کی عوام آج بھی محروم ہے ۔اور سوہاوہ شہر کا سب سے بڑا مسئلہ بجلی کے وویلٹیج کی کمی کو پورا کرنے کے متعدد بار دعوئے کیے گئے ہیں وویلٹیج کی کمی کو پورا کرنے سمیت آج تک کوئی بھی بڑا پروجیکٹ حلقہ پی پی چوبیس میں شروع نہ ہو سکا ۔اور آئندہ جنر ل الیکشن میں بھی پھر سیاسی یتیمی اور محرومیوں پر سیاست کر کے حلقہ پی پی چوبیس کی عوام کی ووٹوں سے اقتدار کا مزہ لیا جائیگا ۔اب دیکھنا یہ ہے کہ عوام سابقہ پارٹی کے سابقہ چہروں سے دھوکہ کھاتی ہے یا نئی پارٹی میں پرانے چہرے انہیں سبز باغ دکھانے میں کامیاب ہوتے ہیں ۔