نیب اور بے عیب سندھ ،،،،،،،،،،،، ( پہلو ۔۔۔۔ صابر مغل )

سندھ حکومت نے سندھ اسمبلی میں نیب آرڈننس کے خاتمہ کا بل پیش کر کے اسے منظور کر لیا ،اب NABسندھ میں کرپشن کے خلاف کاروائیاں نہیں کر سکے گا، اس بل کی منظوری کے وقت اسمبلی میں ایم کیو ایم سمیت تمام اپوزیشن جماعتوں نے شدید احتجاج کیا،سخت مخالفت ،نعرے بازی کرنے کے ساتھ ساتھ بل کی کاپیاں پھاڑ دیں ،اس بل کی منظوری کے بعد وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا۔قومی احتساب آرڈننس کی تنسیخ سے متعلق بل2017کی منظوری سندھ اسمبلی کا تاریخی کارنامہ ہے صوبہ سندھ کا یہ حق تھا کہ وہ آمرانہ دور میں بنائے جانے والے اس قانون کو منسوخ کر دے،وزیر قانون ضیاء الحسن النجار(جو خود کرپشن کیس میں نیب میں انکوائری بھگت رہے ہیں) نے اسے کالا قانون قراد دیا یہ بل بھی وزیر قانون نے ہی بیش کیا تھا،سندھ میں پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت گذشتہ نو سال سے مسلسل چلی آ رہی ہے اس دوران اس نے وفاق میں بھی 5سال حکومت کی مگر حیرت تو اس بات پر ہے کہ اسے اس قانون میں اب کالا پن نظر آیا؟اسے اب پتا چلا کہ یہ آمرانہ قانون ہے؟حقیقت یہ ہے کہ قومی احتساب بیورو کی جانب سے حکمران پارٹی کے بعض موجودہ اور سابق وزراء ممبران اور اعلیٰ سرکاری افسران کو بدعنوانی کے مقدمات اور الزامات کا سامنا ہے،ڈاکٹر عاصم ،شرجیل میمن ،ذولفقار اسلوانی،ضیا ء الحسن النجار،منور علی تالپور، سابق وزیر تعلیم پیر مظہر الحق،سابق آئی جی غلام حیدر جمالی،سابق کمشنرغلام مصطفیٰ بھیل،چیف سیکرٹری صدیقی میمن ،سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے منظور قادر اور ناصر انصاری،روشن شیخ،بے نظیر ہاؤسنگ سیل کے چیر مین منظور عباس ،سندھ پولیس کے خلاف سی سی ٹی وی کیمروں کی مد میں کرپشن،غیر قانونی طور پر243.8ملین روپے کی قیمتی66.25ایکڑ زمین کی غیر قانونی الاٹمنٹ،نثار مورائی سمیت درجنوں مزید ایسی شخصیات ہیں جن کا براہ راست تعلق ایوان اقتدار یا بر سر اقتدار پارٹی سے ہے،اس بل کے بعد اب کرپشن کے حوالے سے تمام تحقیقات اور تفتیش سندھ اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ کو منتقل ہو جائیں گی،نیب آرڈننس کا نفاذ اکتوبر1999 کی ایمرجنسی کے ساتھ کیا گیا تھا آئین پاکستان کے شیڈول 6 میں لوکل گورمنٹ آرڈننس اور پولیس آرڈر کے ساتھ ساتھ قومی احتساب بیوروکو بھی شامل رکھا گیا تا کہ صوبوں کو ان کی منسوخی یا ترامیم سے روکا جا سکے،پارلیمان نے اس ایمرجنسی کے نفاذ اور عبوری حکم کو غیر قانونی قرار دے دیا تھا اور18ویں ترمیم کے تحت شیڈول6کو بھی خارج کر دیا،اس حوالے سے وفاق کی قانون سازی تین اسٹیبلشمنٹ پر تھی ۔لوکل گورنمنٹ،پبلک آرڈراینڈ پولیس اور کرپشن کی روک تھام۔صوبے ان میں سے لوکل گورنمنٹ آرڈننس 2001اورپولیس آرڈر2002میں پہلے ہی ترمیم کر چکے ہیں، احتساب آرڈننس کا صوبہ سندھ سے خاتمہ کہیں ملک بھر سے اس اہم ترین ادارے کے خاتمہ کی شروعات تو نہیں ؟کیونکہ بدعنوانی کے حوالے سے طاقتور ٹولہ اندر ایک ہی سوچ کے حامل ہوتے ہیں ،پاکستان کو اتنا نقصان خونی دہشت گردی سے نہیں ہوتا جتنا نقصان معاشی دہشت گردی سے ہوتا ہے دراصل خونی دہشت گردی بھی معاشی دہشت گردی سے ہی نشوو نما پاتی ہے،خوشحال پاکستان کی راہ میں بدعنوانی ہی سب سے بڑی رکاوٹ ہے اس ادارے میں کئی خامیاں ہوں گی مگر کوئی ایک ایسا ادارے کی نشاندہی کی جائے جس نے اب تک 300ارب روپے کے قریب لوٹی ہوئی دولت قومی خزانے میں جمع کرائی ہو، یہ نیب ہی جس نے سیاستدانوں،سابق فوجی افسران،بیوروکریٹس کے گرد گھیرا تنگ کیا،ان سے لوٹی ہوئی دولت واپس نکالی،نیب کیسوں میں سزا کا تناسب76فیصد ہے جو کرپشن کے حوالے سے سب سے زیادہ ہے،ایک رپورٹ کے مطابق2015سے2017کے درمیان شکایات اور تحقیقات میں دوگنا اضافہ ہوا ہے، قمر الزمان چوہدری جو وفاقی سیکرٹری داخلہ،ایجوکیشن،ایگزیکٹو ڈائریکٹر ہائر ایجوکیشن،چیف سیکرٹری آزاد کشمیر،کمشنر لاہور اور چیرمین CDAکے بعد چئر مین NABمقرر ہوئے ہیں قمر زمان چوہدری نیب کے دوسرے چیر مین ہیں ان سے قبل لیفٹیننٹ جنرل (ر) سید محمد امجد تھے،نیب نے گذشتہ تین سال میں 150 ریفرنسزدائر کئے جبکہ 45ارب روپے کی ریکوری کی ،نیب نے مزید علاقائی دفاتر ملتان ،سکھر اور گلگت بلتستان میں بھی قائم کئے ہیں ،ہیڈ کوراٹر اور سب علاقائی دفاتر میں خود کار کمپیوٹرائزڈ نظام،مانیٹرنگ اینڈ ایویلیشن سسٹم وضع کیا گیا ہے تا کہ بد عنوانیوں کی بہتر طور پر روک تھام ہو،نیب میں کسی بھی کیس کی انکوائری کا عرصہ دس ماہ مقرر کیا گیا ہے ،الراقم کو بھی نیب کمپلیکس لاہور جانے کا دو تین بار اتفاق ہوا وہاں استقبالیہ پر آنے والوں کے لئے بہتر نظام ہے انٹری کے وقت اندراج کے بعدکمپیوٹر میں تصویر کے ساتھ لکھا جاتا ہے کہ کس آفیسر کے پاس جانا ہے جیسے ہی بندہ اندر جاتا ہے ،ویٹنگ روم میں بیٹھا اہلکار ہر ایک کو آفیسر کو اطلاع دینے اور ملوانے کا پابندہوتا ہے ،نیب آفس میں کسی بھی آفیسر کو ڈیرہ داری کی اجازت نہیں اگر کوئی مہمان ہے تو کنٹین لے جایا جا سکتاہے،انتہائی بہتر انداز میں انکوائری کی جاتی ہے تا کہ کسی نوعیت کا ابہام نہ رہے،NABکا نصب العین ہے۔بدعنوانی کو ختم کرنے کا کام بذریعہ بچاؤ،آگاہی اور حربی ۔کا احاطہ کرتی ہوئی جامع طریق۔ملک بھر سے بدعنوانی ختم کرنے کے بہترین ادارے کا راستہ بند کرنے والے ملک کے خیر خواہ نہیں ہو سکتے ،سندھی رہنماء ایاز لطیف بلیچو کے مطابق سندھ سے نیب کے قانون کو ختم کرنے کا بنیادی مقصد کنفیڈریشن کے خلاف کاروائی ہے جبکہ یہی لوگ ہمیں طعنے دیتے ہیں ،گورنر سندھ محمد زبیر نے کہاوہ اس بل پر دستخط نہیں کریں گے،وفاقی وزارت قانون کیسندھ اسمبلی سے نیب آرڈننس کو ختم کرنے کے لئے منظور کردہ قانون کو مسترد کرتے ہوئے ناقابل اطلاق قرار دے دیا ہے آئین کے آرٹیکل 142۔143کے تحت وفاقی قانون ہی رائج رہے گااور کوئی صوبہ نیب قانون کو ختم کرنے کا اختیار نہیں رکھتا۔سندھ حکومت اس بل کی منظوری کے بعد کہتی ہے کہ اب صوبائی انٹی کرپشن محکمہ کرپشن کا سدد باب کرے گا جو کسی مذاق سے کم نہیں قیام پاکستان کے بعد سے تمام صوبوں میں ضلعی سطع تک اینٹی کرپشن کے دفاتر قائم ہیں جو در حقیقت کرپشن ختم کرنے نہیں بلکہ اس کے فروغ میں نمایاں مقام کے حامل ضرور ہیں ،ہمارے حکمران کرپشن کو لگام دینے کی بجائے کرپشن روکنے والے اداروں کو لگام ڈالنے میں مصروف ہیں اسے کہتے ہیں الٹی گنگا۔۔۔