ویلڈن ایس ایس پی میڈم ارسلہ سلیم ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ( پہلو ۔۔۔۔۔ صابر مغل )

پانامہ انکوائری کے سلسلہ میں وزیر اعظم کی صاحبزادی مریم نواز شریف بہت بڑے کانوائے کے ہمراہ فل پروٹوکول میں جوڈیشل اکیڈمی پہنچیں تووہاں ڈیوٹی پر موجود لیڈی ایس ایس پی نے آگے بڑھ کر ان کی گاڑی کا دروازہ کھولا اور مریم نواز کے باہر نکلنے پرانہیں زوردار سیلوٹ دے مارا ،آگے بھی مریم نواز شریف تھیں ان کے ہاتھ میں پکڑا پن (قلم)نیچے گر گیا یا گرا دیا گیا(اس پر الگ سے بحث جاری ہے)،مریم نواز شریف نے آنکھ کے اشارے سے سیلوٹ کرنے والی پولیس آفیسر کو پن اٹھانے کا پیغام دیا وہ تو شاید پہلے ہی جھکنے اور پاؤں چھونے کے لئے بے قرار تھیں اس نے جھٹ سے نیچے ہو کر پن اٹھا کر مریم بی بی کو دیا جنہوں نے وہ قلم اپنی گاڑی کی سیٹ پر پھینک دیالائیو نشر ہونے والی اس صورتحال کا کسی دیکھنے والے کو علم نہیں ہوا کہ پولیس آفیسر قلم اٹھانے کے لئے نیچے جھکی ہے بلکہ یہی لگا کہ سیلوٹ کے بعد وہ محبت اور صدقے واری جاؤں کے تحت پاؤں چھونے نیچے جھکی ہیں ،ان کی اس پھرتی جس میں جھٹ سے سیلوٹ اور پھر نیچے جھکنے پر پاس کھڑے پولیس آفیسرز ،اہلکار اور ٹی وی پردیکھنے والے ناضرین سبھی حیران ہوئے ،اس واقعہ کے بعد میڈم ارسلہ سلیم ہی موضوع بحث بن گئیں،سمجھ نہیں آ رہی نجی ٹی چینلز،پرنٹ میڈیا اور مخالف سیاستدان کیوں میڈم کے پیچھے پڑ گئے انہوں نے کیا خطا کی؟کسی کی عزت کرنا ،کسی کوعزت دینا ،کسی کے احترام سے پاؤں چھونا ۔بڑا پن ہے۔ اس پر لوگ ان پر تنقید اور چیلسی پن کا مظاہرہ کیوں کر رہے ہیں ؟ ان کے علاوہ دیگر چند مرد پولیس افسران نے بھی تو آصف سعید کرمانی ،کیپٹن (ر) صفدر،اور حسین نواز کو سیلوٹ کیا تھا ان پر کسی کو کوئی اعتراض نہیں ،میڈم ارسلہ سلیم پر تنقید کرنے کی بجائے اسے داد دینی چاہئے کہ اس نے اپنی ترقی و تعیناتی کی راہیں پختہ کر لی ہیں ،اس نے انتہائی نازک حالات میں شریف فیملی کا دل جیت لیا ہے ان کی اس خوبصورت اور ہمیشہ یاد رکھنے والی حرکت پر اسے ثمرات ملتے ہی رہیں گے کوئی لاکھ اس پر تنقید کر لے مگر اس نے موقع ملنے پر اسے ضائع نہیں کیا بلکہ اس موقع کو۔امر ۔کر لیا،ارسلہ سلیم جن کا تعلق اسلام آباد سے ہی سے مشرف دور میں پولیس میں خواتین آفیسرز کی شمولیت کے فیصلہ پر انہوں نے مقابلے کا امتحان پاس کر کے محکمہ پولیس میں جانے کو ترجیح دی ،میڈم ارسلہ سلیم5 2ویں خاتون پولیس آفیسر کے طور پر مشہور ہیں ،پاکستان سول سروس اکیڈمی سے گریجویشن کرنے کے بعد نیشنل پولیس اکیڈمی سے ٹریننگ حاصل کی وہ تھانہ رمنامیں بطور ایس ایچ او بھی تعینات رہیں اس وقت وہ پولیس کی سپیشل برانچ میں تعینات ہیں ،اس باصلاحیت پولیس آفیسر نے اسلام آباد کے مشہور ملازمہ ۔طیبہ تشددکیس۔میں بھی خود کو بہت نمایاں کیا،وہ آگے بڑھنے کے گر جانتی ہیں انہیں علم ہے کہ پاکستان میں اسی آفیسر نے ترقی کی بلندیوں کو چھوا جس نے چند بڑے خاندانوں میں سے کسی ایک کا دامن پکڑلیا،جو کوئی ان سیاستدانوں کا چہتا بن جاتا ہے اس کی کسی پوسٹ پر تعیناتی کے لئے گریڈ کی بھی کوئی وقعت بھی ختم ہو جاتی ہے ،کئی ایسے آفیسرز ہیں جنہوں نے اشرافیہ کی نام نہاد گرفتاری یا جیل یاترا پر ان کے سامنے چاپلوسی کی انتہا کر دی تو وہ بعد میں LOWگریڈ ہونے کے باوجود بڑے بڑے عہدوں پر براجمان رہ کرمزے کرتے رہے،آج کل ایوان وزیر اعظم میں بیوروکریٹ فواد حسن فواد کا بہت چرچہ ہے ،لاکھ تنقید کے باوجود کوئی اسے وہاں سے دھکیلنے میں کامیاب نہیں ہو سکا الٹا اسے دھکا لگانے والے خود دھکے کھانے پر مجبور ہو جاتے ہیں ،شہر اقتدار کی یہ پولیس آفیسر بھی کسی نہ کسی دن اس شہر کی آئی جی ہوں گی کسی ایسے عہدے کے لئے سیلوٹ کرنا یا تھوڑا سا جھکنا کیا بڑی بات ہے ،اس پر باتیں کرنے والے دو چار دن میں خاموش ہو جائیں گے،ان کی اصل اہمیت تو اب بنی ہے ، مریم نواز شریف کی جوڈیشل اکیڈمی میں آمد پر تبصرہ کرتے ہوئے پنجاب کے وزیر قانون رانا ثنا ء اللہ دور کی کوڑی لے آئے ،ان کا فرمانا تھا۔مریم نواز کو عوامی سطح پر اتنی پذیرائی دس سال کی کوششوں سے نہیں ملی جتنی جوڈیشل اکیڈمی میں جے ٹی آئی کے سامنے پیش ہونے سے ملی ہے،بالکل اسی طرح ہمارے نزدیک اب اس لیڈی پولیس آفیسر کی ایک اپنی ہی پہچان بن چکی ہے اب وہ دوران سروس کسی کی محتاج نہیں رہیں گی ، ایک موقع پر آصف علی زردار ی نے غالباً آرمی چیف کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا ۔تم نے تو چلے جانا ہے ہمیں ہی یہیں رہنا ہے ،آصف زرداری اس بیان کے بعد کچھ عرصہ بیرون ملک رہے مگر اس وقت وہ پھر سے سیاست کی راہداریوں میں ترو تازہ اور شاداب ہیں ،پاکستان کے کسی ایک ضلع کی بھی مثال دی جائے تو وہاں صرف 15سے20لوگ ایسے ہیں جو مختلف ادوار میں کبھی ایم این ایز یا ایم پی ایز بن جاتے ہیں اس ضلع کی ساری سیاست انہی کے گرد گھومتی ہے اس میں مزید اضافہ کیا جائے تو 200کے قریب وہ لوگ ہیں جو ہمیشہ سے ان کے چہیتے ہونے کے باعث ضلع بھر کی مشہور و معروف شخصیت کے طور پر جانے جاتے ہیں ،یہ بات تو ان عام ایم این ایز یا ممبران صوبائی اسمبلی کی ہے جن کی میاں برادران سے سلام دعا یا ملاقات بھی قسمت سے ہوتی ہے اور جس کسی آفیسرکے ان سے ڈائریکٹ تعلقات بن جائیں اسے اور کیاچاہئے ؟لیڈی پولیس آفیسر قسمت کی دھنی ہیں جسے یہ ۔انمول ۔موقع نصیب ہو ا،اب اس حوالے سے ان پر جتنی زیادہ تنقید ہوتی جائے گی وہ سبھی ان کے دائمی مفاد میں ہے لہذا وہ گھبرائیں نہیں بلکہ خوش ہوں یہ ہے بھی خوشی کا مقام لوگ مریم نواز شریف کی ایک جھلک دیکھنے کو ترستے رہتے ہیں اور انہیں تو سیلوٹ کرنے کے ساتھ ساتھ ان کے سامنے جھکنے کا شرف بھی حاصل ہو اہے پانامہ کیس کا تو جو بھی فیصلہ ہو مگر آپ سدا بہار بن گئیں ہیں ۔ویلڈن میڈم ارسلہ سلیم ۔