بھارتی عوام نے موٹرسائیکل کی پوجا بھی شروع کر دی

راجستھان: بھارتی شہر جودھپور سے 50 کلو میٹر کے فاصلے پر ریاست راجستھان کے ایک گاؤں میں ایک مندر ہے جہاں ایک پرانی موٹر سائیکل اور اس کے فوت شدہ مالک کی بھی پوجا کی جاتی ہے۔
یہاں ’اوم بابا‘ اور ’ گولی (بلٹ) بابا‘ مندرکی داستان 30 برس پرانی ہے۔ قصہ کچھ اس طرح سے ہے کہ 23 دسمبر 1988 کو پالی شہر کے علاقے چوٹیلا کے ایک معزز دیہاتی کا بیٹا اوم سنگھ راٹھور اپنی 350 سی سی اینفیلڈ موٹرسائیکل پر گھر آ رہا تھا کہ اچانک درخت سے ٹکرا کر 20 فٹ گہرائی میں جا گرا اور اگلے دن اس کی لاش ٹوٹی موٹرسائیکل کے ساتھ ملی۔

گاؤں والوں کے مطابق اس حادثے کے بعد عجیب و غریب واقعات رونما ہوئے، موٹرسائیکل پولیس اسٹیشن لائی جہاں اس سے پٹرول نکال لیا گیا اور اس کی چین بھی اتار لی گئی تاکہ کوئی اسے چوری کر کے ساتھ نہ لے جا سکے لیکن اگلے ہی روز موٹر سائیکل غائب ہو گئی اور جائے حادثہ پر پائی گئی۔ اس عجیب واقعے کے بعد پولیس نے موٹرسائیکل اوم سنگھ کے لواحقین کو واپس کر دی جسے اس کے خاندان نے بھارتی گجرات کے ایک شخص کو فروخت کردی لیکن یہاں بھی ایک عجیب واقعہ پیش آیا۔

کچھ دنوں بعد یہ موٹرسائیکل وہاں سے بھی غائب ہو گئی اور 400 کلومیٹر دور دوبارہ عین حادثے کی جگہ پر پائی گئی؛ نئے مالک نے بھی اس موٹرسائیکل سے جڑے عجیب واقعات سے ڈر کر موٹر سائیکل دوبارہ واپس لینے سے انکار کر دیا۔ پے درپے عجیب و غریب واقعات کے بعد عوام نے موٹر سائیکل سے عجیب و غریب داستانیں منسوب کر کے اسے اوتار کا درجہ دیدیا اور ایک چھوٹا مندر بنا کر اس کی پوجا شروع کر دی اور اس مندر کو ’’بلٹ بابا‘‘ کے مندر کا نام دے دیا گیا۔ مندر میں موٹرسائیکل کو شیشوں کے درمیان بند کر کے رکھا گیا ہے جہاں روزانہ پورے راجستھان سے لوگ آتے اور اس کی پوجا کرنے کے ساتھ اس پر چڑھاوے بھی چڑھاتے ہیں۔

اب اس ہائی وے پر آنے والے ڈرائیور اکثر اپنی گاڑی روک کر مندر آتے ہیں اور ان کا یقین ہے کہ اس طرح اوم سنگھ اور اس کی موٹرسائیکل ناگہانی حادثات سے ان کی حفاظت کرے گی۔ یہ مندر اتنا مشہور ہوگیا ہے کہ اب یہاں باقاعدہ ایک پنڈت ہے لیکن عجیب بات یہ ہے کہ پرساد اور پھول لانے والے زائرین یہاں شراب کی بوتلیں بھی لاتے ہیں اور بعض اوقات نشے میں دھت ہو کر غل غپاڑہ بھی کرتے ہیں۔