تصویر لیکس ؛ ذمہ دار شخص کا نام ظاہر کیا جائے، وفاقی حکومت کا سپریم کورٹ میں جواب

اسلام آباد: جے آئی ٹی میں پیشی کے موقع پر حسین نوازکی تصویر لیک ہونے کے حوالے وفاقی حکومت نے سپریم کورٹ کو جواب جمع کرادیا ہے۔
جے آئی ٹی میں اپنی تصویر لیک ہونے کے حوالے سے سپریم کورٹ میں حسین نوازنے 7 جون کو درخواست جمع کرائی تھی جس میں استدعا کی گئی تھی کہ 5 جون سے جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم کے سامنے پیشی کے موقع پر لی گئی ایک تصویر سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہورہی ہے اور اس تصویر کو لیک کرنے میں جے آئی ٹی ملوث ہے کیوں کہ جے آئی ٹی کی عمارت کی تمام سیکیورٹی متعلقہ ادارے کے ذمے ہے لہذٰا ایک جوڈیشل کمیشن تشکیل دیا جائے۔
عدالت نے تصویر لیک ہونے کے حوالے سے جے آئی ٹی سے جواب طلب کیا تھا، جے آئی ٹی نے سپریم کورٹ میں جو جواب جمع کرایا تھا اس میں کہا گیا تھا کہ تصویر لیک کرنے والے شخص کو ادارے نے اسے دوبارہ اس کے محکمے میں بھیج دیا ہے جب کہ ذمہ دار شخص کے خلاف محکمانہ کارروائی بھی مکمل کرلی گئی ہے۔
عدالت نے گزشتہ سماعت میں وفاقی حکومت سے بھی جواب طلب کیا تھا کہ جے آئی ٹی نے جس شخص کو تصویر لیک کرنے کا ذمہ دار ٹھہرایا ہے اس کا نام عوامی سطح پر ظاہر کردیا جائے یا نہیں۔ جس پر آج وفاقی حکومت کی جانب سے ایڈیشنل اٹارنی جنرل رانا وقار نے سپریم کورٹ میں جواب جمع کرادیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ وفاقی حکومت کو تصویر لیک کرنے والے شخص کا نام پبلک کرنے پر کوئی اعتراض نہیں لہذٰا متعلقہ شخص اور اس کے ادارے کا نام ظاہر کیا جائے۔ عدالت نے کیس کی سماعت 10 جولائی کو ہوگی۔