ہم اصلاح پسند کیوں نہیں۔۔؟،،،،،،،،تحریر۔ عمر بٹ (راتھڑ)

ہم حودث زمانہ سے سبق کیوں نہیں لے رہے، آخر ہمیں کس بات کا یا پھر کن لمحات کا انتظار ہے یاد رکھنے کی بات ہے کہ ایسے حالات پیدا ہم خود کرکے ہم خود ہی اپنے ہاتھوں اپنی ذلت و تباہی کا سامان پیدا کر رہے ہیں، کیونکہ احساسات مر جانے کے بعد حالات بھی قابو سے باہر ہو جاتے ہیں اور جو ہمارا تو معاشرہ ہی ملاوٹ کا پیداواری یونٹ بن گیا۔ شیر خوار بچوں کی تفریح غذاؤں سے لیکر ضروری غذا تک کچھ بھی اصلیت میں نہیں رہا تبھی تو کوئی حادثہ بھی ہماری اصلاح کا سبب نہیں بن رہا۔
امسال مون سون کی بارشوں کو ہی دیکھ لیجے1992 ء کے منہ زور سیلاب نے پاکستان بھر کی آبادیوں اور فصلوں کو جی بھر کر تباہ کیا اور پھر اس کے بعد ہر سال تقریباً مون سون میں سیلابی صورتحال دکھائی دیتی ہے۔ جونہی محکمہ موسمیات مون سون کی ضرورت سے زائد بارشوں کی پیشن گوئی کرتا ہے پھر متعلقہ ادارے فوراً سیلاب کی خبر دے کر اپنے فرائض بھول کر دنیا کی بھول بھلیوں میں مصروف ہو جاتے ہیں ، اور اچانک رات کے کسی پہر دریاؤں اور نالوں کے قریب بستیوں کو فی الفور بستے( سامان) لپیٹنے کا پیغام دینے لگتے ہیں پھر دوسرے دن میڈیا بندوں کی اہم خبر کہ ایک دفعہ پھر سیلاب نے سینکڑوں آبادیاں تباہ کر دیں کئی بستیاں اجڑ گئیں نا صرف جانی نقصان بلکہ کھڑی فصلیں تباہ اور لا تعداد مویشی سیلابی ریلے کی نظر ہو گئے۔اور پھر چند دنوں بعد روایتی اعلان ہوتا ہے کہ متاثرین کو اتنے لاکھ، فوت شدگان کو کے اہل خانہ کو اتنے لاکھ دئیے جائینگے، اسطرح عام لوگوں کے اذیت کے دن طویل سے طویل تر ہوتے جائیں گے آخر حکمران بھول جائیں اور عوام بھی۔۔۔
آخر کب تک، ہمارے قدرتی آفات سے نمٹنے کے ادارے ہر سال ایسی ہی مشق کرتے رئیں گے کب ہو گا اس کا سد باب کہ جونہی مون سون بارشوں کی زیادہ ہونے کی پیش گوئی ہوئی اور یہ ادارے متحرک ہو جائیں ۔نشیبی علاقوں اور دریاؤں کے قریب رہاشیوں کو وقت سے پہلے ہی وہاں سے ہٹوا دیا جائے مگر ہم شائد آخری تاریخ پر بل جمع کروانے والے ہیں ہم اللہ رب العزت کو اپنا بالکل قریب سمجھتے مگر صرف اس وقت یہ مشکل سر پر آن پڑتی ہے عام حالات میں ہم خود ہی پھنے خان بنے پھرتے ہیں
وگرنہ ڈیم بھرنے کا عندیہ سیلاب لینے سے پہلے عملی اقدامات شروع ہو جائیں خدا جانے کب تک برطانوی نہری نظام پر ہم وقت گزارتے رئیں گے اور کب ہمارے حکمران اپنی عیاشیوں سے ھٹ کر مذید ڈیم بنانے کا عملی مظاہرہ کریں گے تاکہ فیڈرل فلڈ کمشن اور دوسرے متعلقہ کے باہمی رابطے سے حالات بگڑنے سے پہلے ہی اس کا سد باب کر لیا جائے۔
نہروں کی بھل صفائی میں مذید بہتری لانے کی ضرورت ہے آج کے دور میں عوام کو آگاہی دینے والے ادارے(جانن کا حق) رائٹ ٹو انفارمیشن کے تحت معلومات لے کر عوام تک ہم رہنماے جائیں تاکہ حکومت کے ساتھ ساتھ متاثرین سیلاب کے نزدیک ترین بستیاں پہلے سے ہی اپنا بندوبست کر لیں۔
وگرنہ حکومتیں اور این ڈی ایم اے سیلاب کی تباہ کاریاں روکنے میں ناکام رئیں گی اور ہر سال ٹنوں پانی اسی طرح ضائع ہوتا رہیگا اور پھر ملک میں بجلی کا بحران بڑھ تو سکتا ہے کم یا ختم نہ ہو گا۔ سیاسی تشہیر کیلئے عوام کا مصیبتوں کے دلدل میں ڈال کر پھر چند کو نکالنے کی تصویری مہم کب تک ۔۔آخر کب تک۔۔؟