پولیس تھانہ صدر نے میرے ورکروں کے خلاف جھوٹی اور من گھڑت ایف آئی آر درج کر کے زیادتی کی ہیں، مقامی کیبل آپریٹر اعجاز میر کی پریس کانفرنس

جہلم(رانا نوید الحسن ) پولیس تھانہ صدر نے میرے ورکروں کے خلاف جھوٹی اور من گھڑت ایف آئی آر درج کر کے زیادتی کی ہیں جبکہ میرے وکروں کو عدنان نامی شخص نے تشدد کا نشانہ بنایا ۔ تاحال مقدمہ درج نہ ہوسکا ۔ آر پی او راولپنڈی اور ڈی پی او نوٹس لے اعجاز میر۔ تفصیلات کے مطابق گزشتہ روز جہلم کے مقامی کیبل آپریٹر اعجاز میر نے راجہ سہیل اور اپنے ورکروں واجد علی ، عبد الرحمان کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ بلدیہ حدود کا لائسنس ہولڈر ہو ں اور کافی عرصہ سے کیبل کا کاروبار کر رہا ہوں گزشتہ چند روز قبل 14 جون کو میرے ورکر مجاہدہ آباد ای ایس ڈی کے قریب کام کررہے تھے کہ ملک عدنان نامی شخص اور 14 سے 15 نامعلوم افراد نے آتے ہی میرے ورکروں کو تشدد کا نشانہ بنا دیا ۔ اور موقع واردات سے فرار ہوگئے ہم نے تھانہ سٹی میں درخواست دی لیکن ان کے خلاف کوئی کاروائی نہ ہوئی پھر ہم نے 17 جون کو ڈی پی او جہلم کو درخواست دی جو ڈی ایس پی سٹی شاہد صدیق کو مارک کی لیکن تاحال ہمارے بار بار دفتر کے چکر لگانے کے باوجود ان ملزمان کے خلاف کوئی کاروائی عمل میں نہیں لائی گئی الٹا ملک عدنان نامی شخص نے ایک جھوٹی درخواست تھانہ صدر میں دیکر ہمارے اوپر مقدمہ درج کروانے کی کوشش کی جو نہ ہوسکی پھر عدالت میں جا کر ہمارے خلاف مقدمہ درج کروانے چلا گیا جبکہ ہم کو نہ تو عدالت کی طرف سے کوئی نوٹس ملا اور نہ ہی پولیس تھانہ صدر کی جانب سے کچھ بتایا گیا اور ہم پر ایک جھوٹی ایف آئی آر درج کر لی گئی جس میں بتایا گیا کہ میرے ورکروں نے عدنان نامی شخص کو حسن آباد جان سے مارنے کی دھمکیاں دی ہیں جبکہ عدنان نے مجاہدہ آباد دفتر ای ایس ڈی میں میرے ورکروں کو تشدد کا نشانہ بنایا میری آر پی اوراولپنڈی اور ڈی پی او جہلم عبدالغفار قیصرانی سے نوٹس لینے کی اپیل ہیں کہ ان غنڈہ گرد عناصر کے خلاف سخت کاروائی کی جائے جو دن دیہاڑے غریب ورکروں کو تشدد کا نشانہ بناتے ہیں اور اپنی دھونس دھاندلی کے ذریعے ہم کو ڈرانے کی کوشش کررہے ہیں جس میں وہ کامیاب نہیں ہونگے اور ہم کو انصاف مہیا کیا جائے ۔ اس حوالہ سے جب ڈی ایس پی سٹی سرکل شاہد صدیق سے رابطہ کرنے کی کوشش کی گئی تو بتایا گیا کہ صاحب میٹنگ میں گئے ہیں اور کل رابطہ کرے جبکہ عدنان سے بھی رابطہ نہ ہوسکا اگر وہ اپنا موقف دینا چاہے تو ہمارے اخبار حاضر ہیں ۔