سرائے عالمگیر پولیس نے ظلم و بربریت کی نئی داستان رقم کر دی

جہلم (مستفیض اقبال بخاری)جانے کس جرم کی پائی ہے سزا یا د نہیں،سرائے عالمگیر پولیس نے ظلم و بربریت کی نئی داستان رقم کر دی ظلم کرنے والوں نے اس جہاں کے بعد اگلے جہاں میں بھی جواب دینا ہے۔جہلم ڈی پی او آفس انکوائری کے بعد بھائی کو سرائے عالمگیر پولیس نے جہلم پل سے اٹھا کر سوا دو کلو چرس کا جھوٹا مقدمہ بنا دیا،چیف جسٹس سے نوٹس لینے کی اپیل،تفصیلات کے مطابق گزشتہ روز ریا ض انجم سکنہ سرائے عالمگیر نے جہلم میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ روز جہلم ڈی پی او آفس جہلم میں ہماری ایک چیک ڈس آنر کی انکوائری تھی جب ہم وہاں سے فارغ ہو کر آئے تو پرانا پل جہلم سے میرے بھائی خاور کو ایک پولیس والے نے موٹر سائکل سے اتار کر ساتھ لے گئے ہم کافی دیر تک جہلم کے تھانوں میں تلاش کرتے رہے بعد میں معلوم ہوا کے اس کو سرائے عالمگیر پولیس لے گئی ہے۔معلوم کرنے پر پولیس نے بتایا کہ آپ کا پرانے پل پر پیدل جا رہا تھا کہ تلاشی لینے پر اسکی جیب سے تین سو پچاس روپے اور کالے شاپر میں سوا دو کلو چرس لے کر جارہا تھا،ریا ض انجم نے مزید بتایا کہ ہماری سرائے عالمگیر میں سیا سی مخالفت ہے جسکی وجہ سے ہیں نا کردہ گناہوں کی سزادی جارہی ہے میری چیف جسٹس سے اپیل ہے خدارا ہمیں سیاسیوں کے ظلم سے بچایا جائے،