پمز کی حالت زار،،،،،،،،،،،تحریر: نوید احمد

پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز اسلام آباد(PIMS) جانے کا اتفاق ہوا جس کو عرف عام میں کمپلیکس کہا جاتا ہے،بر سبیل تذکرہ ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال جہلم کی مجموعی صورتحال گزشتہ دو تین سالوں سے کافی بہتر ہو چکی ہے،بلا تفریق تمام مریضوں کو بہترین سہولیات فراہم کی جاتی ہیں،چیک اینڈ بیلنس کا موثر انتطام موجود ہے،جس کا کریڈٹ بلاشبہ خادم اعلیٰ پنجاب اور انتظامیہ کو جاتا ہے،اس کو مد نظر رکھتے ہوئے گمان غالب تھا کہ پمز میں بہترین سہولیات ہماری راہ دیکھ رہی ہوں گی،
انہی جذبات کے ساتھ جب پمز پہنچے تو معلوم ہوا کہ روزانہ پنجاب اور خیبر پختونخواہ سے ہزاروں مریض پمز کے شعبہ او پی ڈی(OPD) میں بسلسلہ علاج آتے ہیں،لیکن دو منزلہ عمارت میں قائم شعبہ او پی ڈی میں پہنچتے ہی مایوس کن صورتحال کا سامنا ہوا،وہاں موجود سٹاف کی کارکردگی انتہائی ناقص نظر آئی،سینکڑوں کلومیٹر سفر طے کرکے پمز پہنچنے والے انتہائی بیمار و لاچار مریضوں کو میڈیکل آفیسر یا ٹرینی ڈاکٹر کے حوالے کر دیا جاتا ہے،بتایا گیا کہ ہیڈآف ڈیپارٹمنٹ پروفیسر ڈاکٹر ہفتے میں دو تین اپنے دفتر میں موجود ہوتے ہیں لیکن عام آدمی کی پہنچ سے دور ہوتے ہیں،آنکھوں دیکھا حال یہ ہے کہ علاج کے سلسلے میں ہمیں دو تین شعبہ جات میں جانے کا موقع ملا،جہاں پر میڈیکل آفیسر مریضوں پر نت نئے تجربات کرتے نظر آئے،خصوصاََ شعبہ امراض معدہ کا تذکرہ یہاں ضروری ہے،جہاں کشمیر سے تعلق رکھنے والے ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ ایک پروفیسر ڈاکٹر(Gastroenterologist) سارا دن اپنے دفتر میں موجود تھے ’’ہاں مگر نہیں موجود تھے،‘‘اگرچہ ملحقہ کمرے میں بیٹھے میڈیکل آفیسر نے تحریری طور پر ہمیں ان کی طرف ریفر بھی کیا لیکن انکے دفتر کے باہر موجود بے بس قاصد نے انتہائی مایوس کن شکل بناتے ہوئے ہمیں بتایا کہ صاحب آپ کے لئے دستیاب نہیں ہیں،تحقیق پر راز کھلا کہ صاحب کسی اعلیٰ شخصیت کی سفارش پر آپ کو دیکھ سکتے ہیں،بصورت دیگر رحمدلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے خواتین مریضوں کے لئے کبھی کبھی ان کے دروازے کھلتے ہیں،
اس صورتحال کو دیکھتے ہوئے فوری طور پر شکایت کرنے کے لئے ڈائریکٹر او پی ڈی مطاہر شاہ کے پاس پہنچے،وہ گویا ہوئے کہ ہر روز یہی کہانی سننے کو ملتی ہے،شعبہ جات کے سربراہان کی کارکردگی معلوم تاہم ہماری دسترس سے باہر ہیں ،ہم ان کے خلاف کوئی کاروائی کرنے سے قاصر ہیں،آپ ایسا کریں کہ فوری طور پر وائس چانسلر ڈاکٹر جاوید اکرم کو شکایت کریں تاکہ آئندہ اس مسئلے کا سد باب ہو سکے ،جب بھاگم بھاگ وائس چانسلر کے دفتر پہنچے تو خبر ملی کہ وہ انتہائی اہم کام کے سلسلے میں دفتر سے باہر گئے ہوئے ہیں،لیکن ان کے قاصد نے انتہائی شفقت کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ کل تشریف لائیں،’’آپ کا کام ہو جائے گا‘‘ہمارا کام تو دراصل ہو گیا تھا اس لئے رخت دل باندھ کر واپس چلے آئے،