راجگال میں آپریشن خیبر۔4 ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ( پہلو ۔۔۔۔۔۔۔ صابر مغل )

فاٹا کے علاقے خیبر ایجنسی میں واقع قبائلی علاقے کے سب سے خطرناک اور دشوار گذار علاقے۔راجگال۔ میں پاک فوج نے آپریشن ردالفساد کے تحت آپریشن خیبر۔4کا آغاز کر دیا ہے،راجگال پارہ چنار سے 56کلومیٹر ،پشاور سے دو راستوں کے ذریعے ایک سائیڈ سے 251کلومیٹر اور دوسری سائیڈ سے168کلومیڑ جبکہ پاک افغان کی مشہور گذر گاہ اور تجارتی راستے ۔طورخم۔سے صرف42کلومیٹر دوری پر ہے ،راجگال وادی ۔وادی میدان کی پانچ وادیوں میں سے ایک ہے باقی میں میدان ،واران،باڑہ اور مستورہ شامل ہیں ان ودایوں میں ناشپاتی ،خوبانی ،زیتون ،شہتوت سمیت دیگر پھلوں کے درخت کثرت سے ہیں ،راجگال کوہ سفید(جو خیبر ایجنسی اور کرم ایجنسی میں واقع ہے) جسے مقامی زبان میں ۔سپین غز۔یعنی سفید پہاڑی جو کہ سارا سال برف کی سفید چادر اوڑھے رکھنے کی وجہ سے کوہ سفید کہلاتا ہے سے متصل ہے ،کوہ سفید او رمیدان ویلی کے شمال مشرق میں راجگال نام کی یہ وادی جو اپنی نوعیت کے اعتبار سے انتہائی دشوار گذار،پر پیچ اور خطرناک ہیں ،250مربع کلومیٹر رقبے پر محیط اس علاقے میں 12سے14ہزار فٹ کی بلند چوٹیاں موجود ہیں اس علاقے میں آٹھ گذر گاہیں ہیں غاریں،ندیاں ،نالے،گنے جنگلات ،گہری کھائیاں ، اورخطرناک چٹانیں دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہیں ثابت ہوتی ہیں اسی وجہ سے تقریباً 500سو گھرانوں نے اس علاقہ سے نکلنے میں عافیت سمجھی ،یہ طورخم بارڈر اورقبائلی علاقوں کے سب سے بڑے شہر پارہ چنار کے درمیان افغانی بارڈر کے ساتھ ملحقہ علاقہ ہے ،آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر میجر جنرل عبدالغفور کے مطابق اس آپریشن میں ایک ڈویژن فوج حصہ لے رہی ہے ،یہ علاقہ پاک فوج کی پہلے ہی ہٹ لسٹ پر مگر گذشتہ ماہ پارہ چنار میں ہونے والے بم دھماکوں میں گرفتار ہونے والے 17 افراد جن کا تعلق دولت اسلامیہ ۔داعش۔سے ثابت ہوا اور وہ افغانستان سے راجگال آئے اور وہیں سے دہشت گردی کے لئے نکلے تھے ،اس آپریشن کی بڑی اہمیت اس حوالے سے بھی ہے کہ افغانستان میں مضبوط ہوتی شدت پسند تنظیم کا پاکستانی علاقے میں اثرو رسوخ کا روکا جا سکے،پارہ چنار سے گرفتار ہونے والے دہشت گردوں کے خلاف مقدمہ ملٹری کورٹ میں شروع ہو چکا ہے،جنوری2016میں بھی انکشاف ہوا تھا کہ دولت اسلامیہ نے پاکستان میں بھی بھرتیوں کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے جس کے مطابق وہ خاص طور پر شمالی علاقوں میں موجود پناہ گزینوں کے کیمپوں میں مقیم لوگوں کو25سے30ہزار تنخواہ پر بھرتی کرنے کے بعد افغانستان پہنچا دیتے ہیں جہاں ان کی برین واشنگ،جدید اسلحہ اور دھماکہ خیزمواد استعمال کرنے کی ٹریننگ دی جاتی ہے ،داعش نے جنوری 2015میں افغانستان کے صوبے خراسان میں اپنی ۔شاخ ۔کا اعلان کیا تھا جو داعش کے قیام کے بعد مشرق وسطیٰ سے باہر با ضابطہ طور پر سامنے آئی ،اس گروہ کی سرگرمیاں باالخصوص افغانستان کے صوبوں ہلمند،ڈیول،خرج،لاگر اور ننگر ہار میں دیکھی گئیں ،آئی ایس پی آر کے مطابق ۔داعش۔کا پاکستان میں باضابطہ کوئی وجود نہیں ،2009میں فوجی آپریشن کے ذریعے پہلے باجوڑ،سوات اور پھر مہمند ایجنسی کو کلیر کیا گیا۔2014میں شروع ہونے والے آپریشن ضرب عضب سے اب تک سارا علاقہ کلیر کیا جا چکا ے تاہم راجگال جیسے موجودہ آپریشن کا مقصد خطرناک مقامات پر ان کی کمین گاہوں کو مکمل طور پر ختم کر دیا جائے ،اب تک آپریشن ردالفساد کے تحت 46بڑے آُپریشن جن میں سے13انتہائی اہم بڑے آپریشن بلوچستان میں کئے گئے انٹیلی جنس معلومات پر 9ہزار سے زائد آپریشن ہو چکے ہیں ،جنرل آصف غفور کے مطابق ہم نے تجویز دی ہے کہ دوسری طرف افغانستان بھی دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کا آغاز کرے اور دونوں ممالک ایک دوسرے کے ساتھ آپریشن سے متعلقہ رابطے میں رہیں مگر ابھی تک دوسری جانب سے کوئی مثبت جواب نہیں آیا ۔مگر یہ کوئی مت بھولے کہ ہم اپنے ملک میں کسی اور کے بوٹ برداشت نہیں کر سکتے،آئی ایس پی آر کے مطابق افغانستان سے ملحقہ طویل بارڈر پر۔باڑ ۔لگانے کے کام کا آغاز ہو چکا ہے جس کا بنیادی مقصد بارڈر مینجمنٹ کو بہتر اور محفوظ بنانا ہے تاہم اس سے قبل پاک افغان سرحد پر چیک پوسٹوں کی تعداد بڑی حد تک بڑھائی جا چکی ہے،اس موقع پر آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا پیغام پڑھ کر سنایا۔ہم اپنے ملک میں امن قائم کر نے اور مستقل استحکام کی جانب بڑھ رہے ہیں اس کے لئے پاک فوج ملک کے تمام اداروں کے ساتھ مل کر اپنا بھرپور کردار ادا کرتی رہے گی۔راجگال میں آپریشن خیبر فور کے اعلان کے ساتھ ہی بزدل دشمن نے داوی نیلم کے سیکٹر اٹھمقام سے ۔کیل۔جانے والی برگیڈئیر 132۔اے کے کی جیپ پرفائرنگ کھول دی جس کے نتیجے میں ڈارئیور کے زخمی ہونے پر جیب بے قابو ہو کر دریا میں گر گئی جس میں حوالدار محمد اقبال ،نائیک محمد اکرم سپاہی الیاس اور عبدالغفور ڈوب کر شہید ہو گئے،اس سے اگلی ہی صبح پشاور کے پوش علاقے حیات آباد میں قائم ایف سی کے کیمپ قلعہ بالا حصار سے ہیڈ کوارٹر جا رہا تھا کہ موٹر سائیکل سوار دہشت گرد نے قافلے پر حملہ کر دیا ڈبل کیبن گاڑی کو حیات آباد میں ہی باغ ناران چوک میں خود کش بمبار نے نشانہ بنایااس دہشت گردی میں تربت سے تعلق رکھنے والے میجر جمال شیران سمیت 3اہلکار شہید ہوئے جبکہ سیکیورٹی فورسز کی گاڑیاں بری طرح متاثر ہوئیں ،اسی روز افغان سرحد کے قریب چمن کے علاقہ میں دہشت گردوں ایف سی چیک پوسٹ کو تباہ کرنے کی کوشش کی ۔اسی ماہ چمن میں عید گاہ کے علاقے ۔بوغرا ۔میں ہی ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر قلعہ عبداللہ ساجد خان مہمند کی گاڑی کے قریب خود کش دھماکے کے نتیجے میں ڈی پی او سمیت دو افراد شہید جبکہ اہلکاروں سمیت11افراد زخمی ہوئے تھے،یہ حملے ایسے وقت میں ہوئے جب فوج نے راجگال میں فوجی آپریشن کا اعلان کیا ۔پاک فوج کی قربانیوں کی داستان بہت لمبی ہے مگر پر عزم اور خدادا صلاحیتوں سے بھرپور فوج پاکستان کی سالمیت پر کوئی آنچ نہیں آنے دے گی ۔پاک فوج نے آپریشن خیبر4میں راجگال کے علاقہ میں پہلے روز ہی دن بھر جاری رہنے والی شیلنگ سے کالعدم لشکر اسلام اور داعش کے متعدد ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا اس کاروائی سے8دہشت گردوں کو جہنم واصل کر دیاجبکہ تین عسکریتپسندوں کے زخمی ہونے بھی اطلاع ہے ،راجگال کے علاقوں پکدار،نارے نو،ستر کلے اور خیرابا میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر کئی گئی کاروائی میں آرمی ہیلی کاپٹرز کے ساتھ ساتھ فضائیہ کے طیاروں نے بھی حصہ لیا۔