ضلعی انتظا میہ کے دعووں کے باوجود سیم نالوں کی صفائی تاحال نہ ہوسکی

ملکوال(سکندر گوندل سے) ضلعی انتظا میہ کے دعووں کے باوجود سیم نالوں کی صفائی تاحال نہ ہوسکی ۔ حالیہ مون سون بارشوں میں ضلع بھر میں ایک بار پھر کروڑوں روپے کی گنے اوردھان کی فصل کو نقصان کا خطرہ‘ محکمہ سیم اور ڈرینج کے حکام مختلف دیہاتوں کے فرضی دورے کرکے افسران کو صور حال کے برعکس سب اچھاکی رپورٹ دینے میں مصروف۔۔ تفصیلات کے مطابق اس وقت ضلع بھر کے تمام سیم نالے بند پڑے ہیں ، نالوں میں سبزہ اور جھاڑیاں اور دیگر آبی پودے ہونے سے نالوں کی پلیاں تک بند پڑی ہیں ،مون سون کی بارش یا سیلاب کی صورت میں ان بند سیم نالوں کی وجہ سے پانی فصلوں میں چار چار فٹ تک کھڑا ہونے کا اندیشہ پیدا ہو چکا ہے مگر ڈپٹی کمشنر منڈی بہاؤالدین ‘ ایکسین محکمہ سیم ‘ محکمہ انہار اور ڈرینج ‘ تینوں تحصیلوں کے اے سی حضرات خادم اعلیٰ میاں شہباز شریف اور دیگر حکام کو مطمئن کرنے کیلئے فوٹو سیشنز کی حد تک وزٹ کررہے ہیں جبکہ صورتحال اس کے برعکس ہے ،گزشتہ مون سون بارشوں کے دوران چھنی مست تا پاہڑیانوالی سیم نالہ سیدا سگھر‘ حاصلانوالہ ‘ ٹھٹھہ بابے دا ‘ ٹھٹھہ نور جمال‘ چھچروالی ‘ سیدا چک ‘میانہ چک اور کوٹلہ شہانہ کے علاوہ کھٹیالہ شیخاں ‘ عیدل ‘ چک نمبر 6 ‘ چھموں ساہنا ‘ کھنانہ ‘ شمہاری ‘ چوکنانوالی ‘ بھچروالی ‘ نتھو کوٹ‘ 16 چک کراڑیوالہ ‘ خاصا چک ‘ گوہڑ‘ 17 چک ‘ اجووال سیم ‘ ملکوال تا گوجرہ کے سینکڑوں دیہات متاثر ہوئے تھے ۔ گزشتہ سال بھی سیم نالوں کی صفائی نہ ہونے سے سیم اور سیلاب کے پانی نے سینکڑوں دیہاتوں کی فصلوں کو تباہ کیا یہاں تک کہ جانوروں کا چارہ تک نایاب ہوگیا تھا ۔ مسلسل 5 ماہ تک پانی کھیتوں میں کھڑا رہا جس کے بعد زمینداروں نے اپنی اگلی فصل کاشت کی ۔ ضلع منڈی بہاؤالدین کی کاشتکار برادری نے وزیر اعلیٰ پنجاب کی توجہ چاہتے ہوئے آگاہ کیاہے کہ ڈپٹی کمشنر اور ایکسین صاحبان اس تباہی کے ذمہ دار ہیں ۔ یہ افسران روزانہ اے سی گاڑیوں میں بیٹھ کر بیراجوں ‘ بندوں اور دیگر صاف ستھرے علاقوں کا دورہ کرکے ہائی کمان کو اوکے کی رپورٹ دے رہے ہیں ۔ اگر سیم نالوں کی بروقت بھل صفائی نہ کی گئی تو موجودہ مون سون کی بارشوں کے دوران بھی گزشتہ سال کی طرح شدید نقصان پہنچے گا اور کروڑوں روپے کی کھڑی فصلیں برباد ہو جائیں گی ۔ کاشتکار برادری کا مزید کہنا ہے کہ محکمہ سیم اور ڈرینج نے آج تک اس بات کی بھنک نہیں پڑنے دی کہ سیم اور ڈرینج نالوں کا صفائی کیلئے کتنا فنڈز جاری کیا گیا اور کتنا خرچ کیا گیا ۔ ان کی اسی کوتاہ اندیشی کی وجہ سے کاشتکار برادری ہر سال نقصان برداشت کرکے دن بدن بھوک و افلاس اور مشکلات کا شکار ہوتی جارہی ہے ۔