دہشت گردی کو ختم کرنے کے لیے اس کے بنیادی اسباب کو ختم کرنا ہو گا۔مولانا امیر محمد اکرم اعوان

(پ۔ر) وطن عزیز کئی سال سے دہشت گردی کا شکار ہے دہشت گردی کو ختم کرنے کے لیے آپریشن بھی کیے گئے ۔دہشت گردوں کو سزائے موت بھی دی گئی مگر دہشت گرد ی ختم نہیں ہوئی ۔ان خیالات کا اظہار شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ مولانا امیر محمد اکرم اعوان نے دارالعرفان منارہ میں سالانہ اجتماع میں شریک کثیر تعداد میں لوگوں سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کا علاج یہ ہے کہ دہشت گردوں کو پکڑو اور ان کو سرعام سزا وپھانسی لگاؤ لیکن یاد رکھیں یہ مستقل علاج نہیں ہے کسی جگہ اگر جسم پر پھوڑا نکل آئے تواُسے کاٹ باہر کرتے ہیں یہ وقتی علاج ہوتا ہے مستقل علاج یہ ہے کہ اُس کے خون کے اندر جو خرابی ہے اُسے دور کیا جائے اور اس دہشت گردی کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ہمارا تمام نظام کافرانہ ہے ۔تعلیمی نظام غیر اسلامی ہے ،معیشت سودی ہے ،نظام عدل انگریز کا دیا ہوا ہے ہمیں پورے نظام کو درست کرنا ہو گا ۔یاد رہے کہ دارالعرفان منارہ میں سالانہ روحانی تربیتی اجتماع 8 جولائی سے جاری ہے اور13 اگست بروز اتوار صبح 10:00 بجے اختتامی بیان اور دعا کے ساتھ اختتام پزیر ہو گا جس میں ملک و بیرون ملک سے کثیر تعداد میں سالکین تشریف لارہے ہیں اور اپنے قلوب کو منور کر رہے ہیں اس تمام اجتماع کا انتظام کو خود ناظم اعلی صاحبزادہ عبدالقدیر اعوان صاحب دیکھ رہے ہیں ۔آخر میں شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ مولانا امیر محمد اکرم اعوان مد ظلہ العالی نے ملکی سلامتی اور امن کے لیے خصوصی دعا فرمائی ۔