ذیابیطس سے بچاؤ کی ویکسین انسانوں پر آزمائش کے لیے تیار

ہیلسنکی: فن لینڈ کے ماہرین نے 20 سال کی طویل جدوجہد کے بعد بالآخر ٹائپ 1 ذیابیطس کے خلاف ایک مؤثر ویکسین تیار کر لی ہے جس کی انسانی آزمائشیں 2018 سے شروع کر دی جائیں گی۔
واضح رہے کہ ٹائپ 2 ذیابیطس میں لبلبہ اپنا کام ٹھیک سے نہیں کر پاتا اور یوں اس سے یا تو ناقص انسولین پیدا ہوتی ہے یا پھر وہ انسولین بنانے کے بالکل بھی قابل نہیں رہتا۔ یہ بیماری عموماً بڑی عمر کے لوگوں میں ہوتی ہے۔ اس کے برعکس ٹائپ 1 ذیابیطس زیادہ تر چھوٹی عمر کے بچوں میں ہوتی ہے اور ساری عمر رہتی ہے جبکہ اس میں بیماریوں کے خلاف لڑنے والا جسمانی دفاعی نظام (امیون سسٹم) غلط فہمی کا شکار ہو کر لبلبے میں انسولین بنانے والے خلیات ہی پر حملہ کر کے انہیں ختم کرنے لگتا ہے۔
خطرناک بات یہ ہے کہ دنیا بھر میں ٹائپ 1 ذیابیطس کے مریضوں کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے اور تازہ اندازوں کے مطابق ساری دنیا میں اس کے تقریباً 4 کروڑ مریض موجود ہیں جن کی بڑی تعداد یورپی ممالک سے تعلق رکھتی ہے۔

فن لینڈ میں ٹائپ 1 ذیابیطس کے خلاف تیار کی گئی ویکسین دراصل انسانی جسم میں پائے جانے والے ایک ایسے وائرس کو ناکارہ بناتی ہے جو انسان کے امیون سسٹم کو متاثر کرتا ہے اور جس کے نتیجے میں وہ انسولین بنانے والے خلیات ہی کو ہلاک کرنا شروع کر دیتے ہیں۔
اگرچہ اس ویکسین کو ٹائپ 1 ذیابیطس کے خلاف پہلی مؤثر دوا بھی قرار دیا جا رہا ہے لیکن اسے بنانے والے ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ اس بیماری کا مکمل علاج ہرگز نہیں اور اس کی بدولت ٹائپ 1 ذیابیطس کے مکمل خاتمے کی توقع بھی نہیں رکھنی چاہیئے؛ تاہم یہ مذکورہ وائرس کو ناکارہ بنا کر ٹائپ 1 ذیابیطس کے حالیہ تشویش ناک عالمی پھیلاؤ کو قابو میں ضرور کر سکتی ہے۔
عالمی ادارہ صحت اور صحت سے متعلق یورپی اداروں سے منظوری کے بعد اس دوا کی انسانی طبّی آزمائشیں (کلینیکل ٹرائلز) آئندہ برس سے شروع کر دی جائیں گی، جن کے بعد ہی اس کی افادیت اور ممکنہ ضمنی اثرات (سائیڈ ایفیکٹس) درست طور پر معلوم ہو سکیں گے۔ اگر یہ آزمائشیں بھی کامیابی سے ہم کنار ہوئیں تو امید کی جا سکتی ہے کہ ٹائپ 1 ذیابیطس کی یہ دوا 2020 تک فروخت کے لیے پیش کر دی جائے گی۔