اسمارٹ فون کو چند سیکنڈ میں مکمل چارج کرنے والی ٹیکنالوجی

پنسلوانیا: امریکا کی ڈریکسل یونیورسٹی میں انجینئروں نے ایک ایسا برقیرہ (الیکٹروڈ) ایجاد کرلیا ہے جس کی بدولت مستقبل میں اسمارٹ فونز اور بجلی سے چلنے والی کاروں کی بیٹریاں تک صرف چند سیکنڈ میں مکمل چارج ہوجائیں گی۔
اسمارٹ فون صارفین کےلیے بیٹری چارجنگ ایک سنجیدہ مسئلہ ہے جس میں عام طور پر کئی گھنٹے لگ جاتے ہیں جبکہ بعض لوگ تو اپنے موبائل فون کو مسلسل چارجر کے ساتھ ہی لگاکر رکھنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ بجلی سے چلنے والی کاروں (الیکٹرک کارز) کا معاملہ بھی اس سے کچھ مختلف نہیں کیونکہ انہیں بھی چند کلومیٹر فاصلہ طے کرنے کے بعد اپنی بیٹریاں دوبارہ چارج کرنے کی ضرورت پڑتی ہے جس میں دو سے تین گھنٹے ضائع ہوجاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مکمل طور پر برقی توانائی سے استفادہ کرنے والی کاریں اب تک زیادہ مقبول نہیں ہوسکی ہیں۔

چارجنگ کے مسئلے کا ایک حل ’’سپر کپیسٹر‘‘ کی شکل میں سامنے آیا ہے مگر اب تک اس سے بھی خاطرخواہ فائدہ نہیں اٹھایا جاسکا کیونکہ یہ جتنی تیزی سے چارج ہوتا ہے اسی تیز رفتاری سے ڈسچارج بھی ہوجاتا ہے۔ یعنی سپر کپیسٹر زیادہ مقدار میں بجلی کا ذخیرہ کرنے کے قابل نہیں۔
ڈریکسل یونیورسٹی کے ماہرین نے ’’ایم ایکسین‘‘ (MXene) کہلانے والا ایک خاص مادّہ استعمال کرتے ہوئے یہ دونوں مسائل ایک ساتھ حل کردیئے ہیں۔ ان کا دعویٰ ہے کہ اس مادّے کے استعمال سے نہ صرف انتہائی تیز رفتار چارجنگ ممکن ہے بلکہ بجلی کی بڑی مقدار بھی بہت کم وقت میں ذخیرہ کی جاسکے گی۔
ریسرچ جرنل ’’نیچر انرجی‘‘ میں شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق ’’ایم ایکسین‘‘ سے بنے ہوئے باریک تجرباتی الیکٹروڈ کے ذریعے ایک سیکنڈ کے دس ہزارویں حصے میں چارجنگ کا عمل مکمل کرلیا گیا۔ البتہ مستقبل میں اسی ٹیکنالوجی سے استفادہ کرنے والا کوئی چارجر صرف چند سیکنڈ میں پوری بیٹری مکمل طور پر چارج کرسکے گا؛ تاہم اس کےلیے چارجر سے لے کر بیٹری تک کو اس نئی ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ کرنا ہوگا۔
بظاہر یہ پیش رفت بہت اہم محسوس ہوتی ہے لیکن ابھی اس تکنیک کو پختہ ہوکر صنعتی طور پر استعمال کے قابل بننے میں کئی مراحل اور آزمائشوں سے گزرنا باقی ہے جس میں دس سال بھی لگ سکتے ہیں۔ تاہم اگر اس تحقیق کو مزید سرمایہ میسر آگیا تو پھر ہوسکتا ہے کہ موبائل فون اور برقی کاروں کو سیکنڈوں میں چارج کرنے والے آلات بھی جلد ہی بازار میں آجائیں۔