اجوائن کینسر، گٹھیا اور دل کی بیماریوں سے نجات کیلئے مفید

کراچی: اجوائن کا استعمال روایتی طور پر مشرقی پکوانوں کے علاوہ دواؤں میں بھی خوب کیا جاتا ہے لیکن جدید تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ یہ عام جڑی بوٹی ہمیں کینسر، گٹھیا اور دل کی بیماریوں سمیت کئی امراض سے بھی بچا سکتی ہے۔
دلچسپی کی بات تو یہ ہے کہ اجوائن کا روزمرہ استعمال جاری رکھنے کے لیے آپ کو کسی خصوصی اہتمام کی کوئی ضرورت نہیں بلکہ آپ اسے سلاد میں شامل کر کے بھی اپنی غذا کا حصہ بنا سکتے ہیں۔ روزانہ استعمال کے لیے صرف ایک کھانے کے چمچے جتنی اجوائن کافی رہتی ہے۔
کینسر کے خلاف کامیاب
اجوائن میں وٹامن سی، بی ٹا کیروٹین اور کوئرسیٹین سمیت کئی اینٹی آکسیڈینٹ مادّے موجود ہوتے ہیں جو کینسر پیدا ہونے سے روکتے ہیں۔ ان سب کے علاوہ اجوائن میں ایپی جینن، لیوٹیولین اور کرائسوئروئیل نامی مفید مادّے بھی پائے جاتے ہیں جو اگرچہ بہت کم شہرت رکھتے ہیں لیکن حالیہ برسوں میں تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ ان ہی غیر معروف مادّوں کی بدولت اجوائن میں لبلبے، ہڈیوں کے گودے، رحم، پیڑو، پروسٹیٹ، تھائیرائیڈ اور چھاتی کے سرطانوں کو روکنے کی خداداد صلاحیت موجود ہے۔ اجوائن کا استعمال صرف کینسر ہونے سے ہی محفوظ نہیں رکھتا بلکہ وہ خواتین و حضرات جو سرطان میں مبتلا ہوں، اپنی غذا میں اجوائن کو لازمی جزو کے طور پر شامل کر کے سرطان کے پھیلاؤ کو قابو میں بھی کر سکتے ہیں۔ وہ خطرناک مادّے جو کینسر کی وجہ بن سکتے ہیں اور جنہیں مجموعی طور پر ’’کارسینوجنز‘‘ کہا جاتا ہے، ان کے مضر اثرات زائل کرنے میں بھی اجوائن بہت مفید ثابت ہوئی ہے۔
گٹھیا اور ہڈیوں کا بھربھرا پن
یہ دونوں تکالیف ایسی ہیں جو بڑی عمر کی خواتین کو عام ہو جاتی ہیں؛ خاص طور پر ہڈیوں کے بھربھرے پن (اوسٹیو پوروسس) کے نتیجے میں 40 سال سے زیادہ عمر کی خواتین بتدریج معذور ہوتی چلی جاتی ہیں۔ اجوائن میں کیلشیم، میگنیشیم، فلورائیڈ اور بورون کے علاوہ ایک بہت ہی مفید لیکن نہایت نایاب ’’وٹامن کے‘‘ بھی وافر مقدار میں پایا جاتا ہے۔ یہ تمام اجزاء ہڈیوں اور جوڑوں کو مضبوط بناتے ہیں جبکہ یورک ایسڈ کو خون میں شامل ہونے سے باز رکھتے ہیں۔ (واضح رہے کہ اگر خون میں یورک ایسڈ کی مقدار بڑھ جائے تو اس سے جوڑوں میں تکلیف ہوجاتی ہے جو بالآخر گٹھیا میں بدل جاتی ہے۔)
دل کی دوست
اجوائن کا روزانہ استعمال رگوں کو سخت ہونے سے بھی بچاتا ہے جس کی وجہ سے شریانوں اور دل کی متعدد بیماریوں کا خطرہ بہت کم ہو جاتا ہے۔ اس معاملے میں مختلف الاقسام فلیوونوئیڈز کے علاوہ بی ٹا کیروٹین، وٹامن سی اور وٹامن ای بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں کیونکہ یہ ’’فری ریڈیکلز‘‘ کہلانے والے خطرناک مرکبات کو بننے سے روکتے ہیں۔ اجوائن استعمال کرنے سے خون کے بہاؤ میں بھی سہولت پیدا ہوتی ہے اور پورے جسم کے مختلف حصوں میں آکسیجن کی فراہمی بھی موزوں انداز میں جاری رہتی ہے۔
سانس لینے کے عمل اور بھوک میں افاقہ
اجوائن کے چند پتے اُبلے ہوئے پانی میں 15 منٹ کے لیے ڈال دیجئے اور پھر پتے نکال کر یہ پانی پی لیجیے۔ روزانہ دن میں 2 سے 3 مرتبہ یہ عمل دوہرانے پر دمے سمیت سانس کی کئی تکالیف میں بہت افاقہ ہوتا ہے۔ اسی طرح وہ لوگ جنہیں بہت کم بھوک لگتی ہے انہیں چاہیے کہ کھانے سے پہلے اجوائن کے کچھ پتے اچھی طرح چبا کر کھا لیں۔ اس سے نہ صرف انہیں کھل کر بھوک لگے گی بلکہ ان کا ہاضمہ بھی بہتر ہوگا۔
ان تمام فوائد کے علاوہ تازہ اجوائن کا استعمال گردوں، مثانے اور جگر کو زہریلے مادّوں سے پاک کرنے میں بھی بے حد مفید رہتا ہے۔
ہمیں یقین ہے کہ یہ تمام معلومات حاصل ہونے کے بعد اجوائن استعمال نہ کرنے والوں کو شدید پچھتاوا ہورہا ہوگا۔