حیاتیاتی بجلی پیدا کرنے والی دنیا کی پہلی بیٹری تیار

میری لینڈ: دنیا کی پہلی انوکھی حیاتیاتی بیٹری تیار کر لی گئی ہے جو برقی سگنلز کے ذریعے دل کی دھڑکن، دماغی کیفیات اور پٹھوں (مسلز) کی حرکات کو کنٹرول کرنے میں مدد گار ثابت ہو سکتی ہے۔
یونیورسٹی آف میری لینڈ کے ماہرین کی تیارکردہ بیٹری اسی طرح حیاتیاتی بجلی بناتی ہے جس طرح انسانی جسم کے مختلف عضو مثلاً دماغ اور دل کے عضلات بجلی تیار کرتے ہیں اور اسے آئن والی بجلی بھی کہتے ہیں۔ اسے یوں سمجھئے کہ ای سی جی دل کی برقی کیفیت بتاتی ہے لیکن دل کی سرگرمی سے عام الیکٹرون خارج نہیں ہوتے بلکہ یہ الیکٹرولائٹ اور دیگر چارج ذرات کی کیفیت سے جنم لیتے ہیں اسے آئنی بجلی کہا جا سکتا ہے۔
ہمارے جسم میں کئی طرح کے آئن ایک جگہ سے دوسری جگہ حرکت کرتے ہیں جو سوڈیم، پوٹاشیئم اور دیگر الیکٹرولائٹس ہوتےہیں۔ ان آئنز پر جارچ ہوتا ہے اور جو برقی سگنلز کے ذریعے دل کی دھڑکن، دماغی کیفیات، پٹھوں (مسلز) کی حرکات کو کنٹرول کرتے ہیں۔

روایتی بیٹریوں میں کرنٹ الیکٹرون کی صورت میں ایک جگہ سے دوسری جگہ بہتے ہیں لیکن اس بیٹری میں یہ خاصیت ہے کہ وہ اس کا الٹ کرتی ہے یعنی یہ کسی آلے کے گرد الیکٹرون گھماتی ہے جس کی توانائی سے آئن کا بہاؤ شروع ہوتا ہے۔
تحقیقی ٹیم کے سربراہ لیانگ بنگ ہو کہتے ہیں کہ ہمارا مقصد آئنی بیٹری کو انسانی نظام سے جوڑنا ہے اور اسی لیے الٹ بیٹری بنائی گئی ہے۔ روایتی بیٹریوں میں اندر تو آئن ہوتے ہیں لیکن بیرونی جانب الیکٹرون خارج ہوتے ہیں جبکہ معکوس ڈیزائن میں اندر الیکٹرون داخل کئے جاتے ہیں اور باہر کی جانب آئن خارج ہوتے ہیں جو خاص قسم کے فائبر سے آئن کی صورت میں باہر نکلتے ہیں۔
ان بیٹریوں کو ایسے آلات میں استعمال کرنا ممکن ہو گا جو براہِ راست مستقبل میں انسانی عصبی (نیورل) نظام سے جڑ سکیں گے اور ان سے الزائمر اور ڈپریشن کا علاج کرنا ممکن ہو گا۔
بیٹری کی آزمائش کی گئی تو اس سے زندہ خلیات میں برقی جھماکے کامیابی سے بھیجے گئے اور اسی بنا پر دوا پہنچانے، معذور افراد کی مدد اور کینسر وغیرہ کے علاج میں اسے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ کئی امراض کی وجہ برقی سگنل میں گڑبڑ ہی ہوتی ہے جسے ایک حیاتیاتی بیٹری سے بہتر بنایا جاسکتا ہے۔
اس بیٹری میں توانائی جمع کرنے کے لیے ایک خاص گھاس تیار کی گئی ہےجو کینٹکی بلیو گراس کہلاتی ہے اور اسے لیتھیئم نمک کے محلول میں ڈال کر بنایا گیا ہے جو دھیرے دھیرے آئن خارج کرتی ہے لیکن ماہرین اب پالیمر، ہائیڈروجل اور سیلولوز کے ذریعے بھی آئن پہنچانے پر غور کر رہے ہیں۔
دیگر ماہرین نے اس کام کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ یہ بہت تخلیقی کام ہے جس میں آئن کی حامل بجلی براہِ راست عضو اور خلیات پر ڈالی جا سکتی ہے۔