فضائی آلودگی بچوں کی پیدائش پر اثرانداز ہوتی ہے، تحقیق

نیویارک: ایک نئی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ اگر حاملہ خواتین حمل کے پہلے تین ماہ تک ٹریفک آلودگی میں زیادہ وقت گزاریں تو ان کے ہاں پیدا ہونے والے بچوں میں پیدائشی نقائص کی شرح غیرمعمولی طور پر بڑھ جاتی ہے۔
نیویارک یونیورسٹی کے سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ حمل ٹھہرنے کے پہلے تین ماہ کے دوران اگر خواتین کا زیادہ وقت فضائی آلودگی میں گزرتا ہے تو اس سے بچوں کی قبل ازوقت پیدائش یا پھر وزن میں کمی والے بچوں کی پیدائش کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔
سروے میں یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ فضائی آلودگی کا سامنا کرنے والی خواتین کے 83 فیصد بچے اوسط وزن میں کمی کا شکار تھے۔ اس لیے ماہرین کا مشورہ ہے کہ حاملہ خواتین فضائی آلودگی اور ٹریفک کے ہجوم سے پرہیز کریں اور اگر ایسی جگہ رہائش ہے جہاں فضائی آلودگی زیادہ ہے تو گھر کے دروازے اور کھڑکیاں بند کر کے خود کو بچانے کی کوشش کریں۔
تحقیق کی سربراہ پروفیسر جوڈتھ زیلیکوف نے کہا ہے کہ یہ انکشاف بہت پریشان کن ہے اور ماں بننے والی خواتین کو مشورہ ہے کہ وہ اپنے گھر میں گرد صاف کرنے والا فلٹر لگوائیں اور آلودگی سے دور رہنے کی ہر ممکن کوشش کریں۔ انہوں نے مزید کہا کہ بچوں کی قبل ازوقت پیدائش یا کم وزن بچوں کا دنیا میں آنا کوئی معمولی بات نہیں کیونکہ اس کے اثرات عمر بھر قائم رہتے ہیں جو بہت سی پیچیدگیوں کی وجہ بن سکتے ہیں۔
اگر پیدائش کے وقت بچے کا وزن اوسط سے کم ہو تو اس سے بصارت اور سماعت میں کمی کے ساتھ ساتھ بچے میں سیکھنے اور لکھنے پڑھنے کا عمل بھی متاثر ہوتا ہے، تاہم اس پر مزید تحقیق کی ضرورت ہے کیونکہ ماہرین نے چوہوں پر اس کے تجربات کئے ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ خود انسانوں پر بھی فضائی آلودگی کے اثرات اسی طرح مرتب ہوتے ہیں۔