آب و ہوا میں تبدیلی عالمی پروازوں میں تاخیر کی وجہ بن سکتی ہے، برطانوی سائنسدان

لندن: برطانوی سائنسدانوں نے پیش گوئی کی ہے کہ آب وہوا میں تبدیلی سے بحرِ اٹلانٹک کی بلندی پر چلنے والی ہوائی پٹی جیٹ اسٹریم متاثر ہورہی ہے اور اس کی وجہ سے عالمی پروازیں دیر سے پہنچنے کے علاوہ سفر بھی غیرآرام دہ ہوجاتا ہے۔
یونیورسٹی آف ریڈنگ کے سائنسدان کا کہنا ہےکہ فضائی صنعت کو ہوائی آلودگی کا ذمے دار ٹھہرایا جاتا ہےلیکن اب ہوائی جہاز خود اس مسئلے سے نقصان اٹھائیں گے اور شاید انہیں نقصان ہوبھی رہا ہو۔ مثلاً امریکا سے برطانیہ جانے والی (ویسٹ باؤنڈ) پروازوں کو جیٹ اسٹریم کی وجہ سے کچھ زیادہ وقت لگے گا کیونکہ یہاں بہت تیز ہوا چلے گی اور اس کا نتیجہ یہ نکلے گا کہ پروازوں میں تاخیر عام ہوجائے گی، یعنی مشرق تک جانے والی پروازیں تیزی سے سفر کریں گی اور مغرب سے آنے والی پروازوں کو ہوائی رکاوٹ کا سامنا ہوگا۔
ماہرین کے مطابق اس سے طیاروں کا ایندھن زیادہ خرچ ہوگا اور ٹکٹ کی قیمتوں میں اضافہ بھی ہوسکتا ہے لیکن ماحول پر مزید برا اثر مرتب ہوگا۔ سائنسدانوں کے مطابق آب و ہوا میں تبدیلی سے ہرسال اٹلانٹک کے پار جانے والی پروازوں پر مجموعی طور پر 2 ہزار گھنٹے لگیں گے جس سے پروازوں میں تاخیر ہوگی اور کروڑوں ڈالر اضافی خرچ ہوں گے جب کہ خصوصاً موسمِ سرما میں لندن سے نیویارک جانے والی پروازیں اپنی منزل پر 15 فیصد تیزی سے پہنچ سکیں گی کیونکہ اس سمت کی ہوائیں تیزی سے جہاز کو آگے دھکیلیں گی جو 77 سے 89 کلومیٹر فی گھنٹہ زیادہ تیزی سے جہازوں کو آگے بڑھائیں گی۔
سائنسدانوں کے مطابق لندن جانے والی پروازیں 2 گھنٹے کی تاخیر سے پہنچیں گی اور اس سے جو اضافی ایندھن خرچ ہوگا اس پر 2 کروڑ 20 لاکھ ڈالراضافی خرچ ہوں گے اور اس سے مزید 7 کروڑکلوگرام کاربن ڈائی آکسائیڈ خارج ہوگی جو فضائی آلودگی میں مزید اضافے کی وجہ بنے گی۔ سائنسدانوں کا کہنا ہےکہ جیٹ اسٹریم نے پورے کرہ ارض کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے اور یہ دیگر علاقوں میں بھی پروازوں کی تاخیر کی وجہ بن سکتی ہے۔