چینی خاتون نے قرض کی ادائیگی سے بچنے کےلیے چہرہ تبدیل کروالیا

بیجنگ: چین میں ایک خاتون نے بڑے قرض میں جکڑے جانے کے بعد اپنا چہرہ پلاسٹک سرجری کے ذریعے تبدیل کروا لیا تاکہ کوئی انہیں پہچان کر گرفتار نہ کر سکے۔
وسطی چین کے شہر ووہان سے تعلق رکھنے والی 59 سالہ خاتون زُو ناجوان نے بینکوں اور دیگر اداروں سے 37 لاکھ ڈالر (پاکستانی 37 کروڑ روپے) کی رقم قرض لی اور جب عدالت نے ان سے رقم واپس کرنے کو کہا تو وہ فرار ہو کر جنوب مشرقی شہر شینزن چلی گئی جہاں انہوں نے فوری طور پر اپنے چہرے کی پلاسٹک سرجری کروا لی۔
جب پولیس انہیں گرفتار کرنے کے لیے پہنچی تو خاتون کو پہچاننا مشکل تھا کیونکہ وہ 30 سال کی جوان عورت لگ رہی تھی اور فراہم کردہ تصاویر سے بالکل الگ دکھائی دے رہی تھی تاہم پولیس نے انہیں گرفتار کر لیا۔
بعد ازاں خاتون نے گرفتاری کے بعد اعتراف کیا کہ وہ دوسرے لوگوں کے شناختی کارڈ پر سفر کرتی رہی اور ایک کریڈٹ کارڈ ادھار لے کر اس کے اخراجات ادا کیے۔
واضح رہے کہ چین کے 300 شہروں میں لوگوں کو طرح طرح سے قرض لینے پر راغب کیا جاتا ہے اور وہ اس جال میں پھنستے چلے جاتے ہیں۔ عام افراد اور گھریلو خواتین بھی قرض لے رہی ہیں اور یہ شرح 10 سال میں دوگنا ہو چکی ہے لیکن قرض خوروں کو گرفتار کرنے کی شرح میں بھی اضافہ ہوا ہے۔