فلم دیکھیے اور سوجائیے، بے خوابی کا انوکھا علاج

لندن: برطانیہ کی ایک کمپنی نے آٹھ گھنٹوں پر پھیلی ہوئی ایسی فلم ریلیز کرنے کا اعلان کیا ہے جس میں نہ تو کوئی ڈائیلاگ ہے، اور نہ کوئی کہانی، نہ کوئی پلاٹ ہے، نہ کوئی ہیرو اور نہ کوئی ولن، بلکہ اس میں صرف بھیڑیں اِدھر سے اُدھر دوڑتی بھاگتی دکھائی دیتی ہیں۔
’’با با لینڈ‘‘ (Baa Baa Land) نامی اس فلم کو آپ دنیا کی سب سے بور فلم بھی کہہ سکتے ہیں لیکن اسے تیار کرنے والی کمپنی ’’کام‘‘ (Calm) کے مطابق یہ فلم دراصل بے خوابی کا ’’حتمی علاج‘‘ ہے کیونکہ اسے دیکھنے کے دوران ہی آپ پر نیند طاری ہونے لگے گی اور آپ نیند کی گولیاں کھائے بغیر سکون کی نیند سو جائیں گے۔ یہ فلم اس سال ستمبر میں جاری کرنے کا منصوبہ ہے تاہم اس کا اشتہار یوٹیوب پر ابھی دیکھا جاسکتا ہے:

اشتہار کے مطابق یہ کوئی معمولی قسم کی بور کرنے والی فلم نہیں بلکہ اس فلم کا دیکھنا اپنے آپ میں ایک مراقبہ ہے جو کچھ دیر میں آپ کو پرسکون نیند کی وادیوں میں پہنچا دے گا۔ ’’کام‘‘ پروڈکشن ہاؤس نفسیاتی امراض کا علاج کرنے کے لیے ’’مائنڈ فلنیس‘‘ نامی جدید طریقہ کار پر مشتمل مصنوعات تیار کرتا ہے اور اس ضمن میں یہ ادارہ ایک اسمارٹ فون ایپ بھی بنا چکا ہے۔
واضح رہے کہ مائنڈ فلنیس (Mindfullness) کے حامیوں کا دعویٰ ہے کہ یہ طریقہ تقریباً تمام نفسیاتی امراض کے علاوہ متعدد جسمانی بیماریوں کا بھی شافی علاج ہے جس میں کسی دوا کی کوئی ضرورت نہیں پڑتی بلکہ ارتکازِ توجہ اور سانس لینے کے انداز سے یہ سارے مسائل حل کیے جاتے ہیں۔

اسی بنیاد پر ’’کام پروڈکشنز‘‘ کا کہنا ہے کہ ’’با با لینڈ‘‘ کی تیاری بھی مائنڈ فلنیس کے اصولوں کو مدنظر رکھتے ہوئے کی گئی ہے جس کا مقصد اپنے دیکھنے والے کو صحت مندانہ انداز سے نیند کی آغوش میں پہنچا دینا ہے اور یہی وہ چیز ہے جسے عام لوگ غلط فہمی کے باعث ’’بوریت‘‘ کا نتیجہ سمجھ لیتے ہیں۔
اس بات کا فیصلہ فلمی ناقدین اور بے خوابی کے مریض ہی کر سکتے ہیں کہ یہ فلم ’’بوریت‘‘ کا شاہکار ہے یا پھر واقعی اس میں حقیقتاً خواب آور صلاحیت ہے۔