افغانستان میں شدت پسندوں نے گاؤں پر حملہ کرکے 40 افراد کو قتل کردیا

کابل: افغانستان میں شدت پسندوں نے ایک گاؤں پر حملہ کرکے 40 عام شہریوں کو قتل کردیا جبکہ متعدد افراد کو اغواء کرکے اپنے ساتھ لے گئے۔
افغان نیوز ویب سائٹ کے مطابق ہفتے کو رات گئے شدت پسندوں نے افغانستان کے صوبے سرپُل کے مرزا اولانگ گاؤں میں دھاوا بولا اور 40 افراد کو قتل کر دیا۔ گورنر سرپل محمد ظاہر وحدت نے بتایا کہ زیادہ تر گاؤں والوں کے سرقلم کیے گئے جبکہ بعض کو فائرنگ کر کے ہلاک کیا گیا۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ شدت پسند اپنے ساتھ کئی افراد کو یرغمال بناکر بھی لے گئے ہیں جبکہ ہلاک ہونے والوں میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔
Follow
Dr. Abdullah ✔ @afgexecutive
Very saddened by the attack on innocent civilians in Sayad District of Sar-e-Pul Province. Killing civilians is insane, inhuman & barbaric!
4:12 AM – Aug 6, 2017
14 14 Replies 25 25 Retweets 84 84 likes
افغانستان کے چیف ایگزیکٹو عبداللہ عبداللہ نے عام شہریوں کے قتل کی مذمت کی ہے جبکہ صوبائی ترجمان ذبیح اللہ امانی نے حملے کی مذمت کرتے ہوئے اسے بے رحمانہ اور غیر انسانی عمل قرار دیا ہے۔ برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق یہ معلوم نہیں ہو سکا ہے کہ حملہ آوروں کا تعلق کس تنظیم سے تھا تاہم گزشتہ چند دنوں سے جنگجوؤں اور سیکیورٹی فورسز کے درمیان شدید لڑائی جاری تھی جس کے بعد شدت پسندوں نے مرزا اولانگ گاؤں پر قبضہ کرلیا تھا۔
گورنرمحمد ظاہر وحدت کا کہنا ہے کہ سیکیورٹی فورسز یرغمالیوں کی بحفاظت بازیابی کے لیے جلد آپریشن شروع کریں گی۔ انہوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر بروقت کارروائی نہ کی گئی تو یہ شدت پسند پورے ضلع پر قبضہ کر سکتے ہیں۔ اب تک کسی تنظیم نے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔