بارسلونا کی شاہراہ پر لہوسے تر۔ ،،،،،،،،،،، ( پہلو ۔۔۔۔۔۔۔ صابر مغل )

یورپ میں سپین کے شہر باسیلونا کے سیاحتی علاقے رمبلاس میں ایک وین نے پیدل چلنے والے افراد کو کچل دیا جس سے 13افراد ہلاک اور 50سے زائد افراد زخمی ہو گئے ،سپین کے ریجنل وزیر داخلہ جاکوئم فورن نے بھی ان ہلاکتوں کی تصدیق کی ،دہشت گردی کی اس واردات کے وقت ہر طرف خوف و ہراس کا عالم ،چیخ و پکار اور لوگ اپنی جانیں بچانے کے لئے ادھر ادھر بھاگ رہے تھے، کئی ایک نے دکانوں اور ہوٹلوں میں بھاگ کر پناہ لی دیکھتے ہی دیکھتے سڑک پر لہو ہی لہو اور لاشیں بکھر گئیں اس المناک واقعہ کے بعد حملہ آور وہاں سے پیدل فرار ہوا ،پولیس نے دہشت گردی میں ملوث حملہ آور کو شہر کے نواح میں ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے،شدت پسند تنظیم ۔داعش ۔نے اس حملہ کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس طرح کے مزید حملے جاری رکھیں گے، داعش جیسی سفاک تنظیم کی جانب سے لندن ،نیس،برلن اور سٹاک ہوم کے بعد یورپ میں کیا جانے والا یہ اس نوعیت کا حملہ ہے، اسی روزمزید مختلف مقامات پر حملوں سے قبل ہی سپین کی سیکیورٹی فورس نے بروقت کاروائی کرتے ہوئے پانچ شدت پسند عناصر کو ہلاک کر دیا ،سپین کے وزیر اعظم ماریانو راجو کے مطابق ۔یہ جہادیوں کا حملہ تھا۔انہوں نے اس سانحہ کے بعد تین روزہ سوگ کا اعلان کیا جبکہ ہسپانوی پولیس نے اس حملہ کو دہشت گرد حملہ قرار دیا ہے،عینی شاہدین کے مطابق اس وقت بہت زور دار آواز تھی اور ہر کوئی اپنی حفاظت کے لئے بھاگ کھڑا ہوا،وہاں بہت سے لوگ تھے ،بہت سے خاندان تھے یہ لمحات بہت خوفناک اور رقت آمیز تھے جہاں دہشت گردی کا یہ واقعہ پیش آیا وہ بارسلوناکی سب سے مشہور اور سیاحوں کے لئے بے حد دلچسپ جگہ ہے وہاں ان دنوں دنیا بھر سے سیاحوں کی یہاں آمد پر بہت رش ہوتا ہے ،یہ حملے ایسے وقت میں ہوئے جب سپین میں سیاحت عروج پر ہوتی ہے،گذشتہ برس جولائی کے بعد سے یورپ میں کئے جانے والے حملوں کے دوران اسی طرح پیدل چلنے والوں پر گاڑیاں چڑھائی گئیں ،امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بارسلونا میں دہشت گردی کے واقعہ کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ حملے کے متاثرین کی ہر ممکن مدد کرے گا ،فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون ،برطانیہ کی وزیر اعظم تھریسامے اور جرمنی کی چانسلر اینجلا میرکل نے بھی اس کی بھرپور مذمت کی ،یہ علاقہ لاس رمبلاس کا علاقہ اسپین میں سیاحت کے حوالے سے معروف ترین علاقوں میں سے ایک ہے،4جون کو لندن میں دہشت گردی کی دو وارداتوں میں رات دس بجے لندن برج کے علاقے میں سفید رنگ کی ویگن اور کار نے راہگیروں کو کچل دیا تھا جس میں 7افراد ہلاک اور 48زخمی ہوئے تھے ویگن میں سوارتین دہشت گردوں نے گاڑی سے اتر کرپل کے جنوب میں واقع بورو مارکیٹ میں موجود لوگوں پر چاقو کے وار بھی کئے ، اپریل میں سویڈن کے دارالحکومت سٹاک ہوم میں کوین سٹریٹ پرجو شہر کا ایک معروف بازار تھا ایک ٹرک نے تین افراد کو کچل دیا تھا،یورپ میں اس نوعیت کے واقعات کی وجہ سے لوگوں میں بے حد خوف و ہرا س قائم ہو چکا ہے کیونکہ یہ دہشت گردی کا خود کش حملوں کے بعد ایک نیا اور انوکھا طریقہ ہے جس کی روک تھام ممکن نہیں قدیم قوموں کتالان ،زامک اور ہسپانیہ پر مشتمل سپین یورپ کا چوتھاجبکہ دنیا کو 50 واں بڑا ملک ہے جس کے مشرق میں پرتگال ،جنوب میں جبل الطارق اور مراکش ،شمال میں انڈور اور فرانس واقع ہیں ،جبل الطارق (جبرالڈ)وہ جزیرہ ہے جو برطانوی افواج کے لئے انتہائی اہم ہے یہیں پر برطانوی بحریہ کی اہم ترین بیس ہے ،سپین کاسب سے طویل بارڈر پرتگال سے ملتا ہے،ٹیڈ جزائر پر واقع ایک آتش فشاں ہے جو سپین کا سب سے اونچا مقام ہے ،بحرا وقیانوس کے جزائر میں سے اونچا جبکہ دنیا میں تیسرا اونچا آتش فشاں ہے جو فعال ہے اس آتش فشاں اور اس کا ملحقہ ٹیڈ قومی پارک کا رقبہ 73مربع میل جسے یونیسکو کی جانب سے عالمی ورثہ قرار دیا جا چکا ہے یہ دنیا کے سب سے زیادہ سفر کرردہ قومی پارکوں میں سے بھی ایک ہے،سپین میں ہائی سپیڈ ریلوے نیٹ ورک یورپ میں پہلے جبکہ دنیا میں چین کے بعد دوسرے نمبر پر ہے ،موٹر ویز کا جال بچھا ہوا ہے اب بارسلونا کو ریل کے ذریعے فرانس سے بھی ملایا جا رہا ہے ،47ائیر پورٹس ہیں دارالحکومت میڈرڈ کا ائیر پورٹ یورپی یونین کا چوتھا جبکہ دنیا کا 15بڑا ائیر پورٹ ہے اسی طرح سپین کے شہر بارسلونا کا ائیر پورٹ بھی دنیا کا 31واں بڑا ائیرپورٹ ہے ،سپین کے 20 بڑے شہر اور10میٹرو پولیٹن قائم ہیں اس مملکت کو 17خود مختار علاقوں اور2خود مختار شہروں منقسم کیا گیا ہے ہر علاقے کی ایک علاقائی پارلیمنٹ،ہائی کورٹ اور علاقائی حکومت ہے ،،ثقافتی مقامات میں سپین کا دنیا میں تیسرا نمبر ہے،یورپ میں پیرس،لندن ،میڈرڈ،رور (جرمنی)،میلان (اٹلی)کے بعد بارسلونا سب سے بڑا سیاحتی مرکز اور دارالحکومت میڈرڈ کے بعد دہشت گردی کا شکار ہونے والا شہر سپین کادوسرا بڑا شہر ہے ،بارسلونا سپین کے خود مختار علاقے کانا لونیا کا دارالحکومت اور بحیرہ روم کے شمال مشرق میں اس کے کنارے واقع ہے اس کا ساحل دنیا کے خوبصورت ترین ساحلوں میں سے ایک ہے،یہاں ہسپانوی شہریوں کے بعد سب سے زیادہ پاکستان شہری بستے ہیں یہ بات بھی پاکستانیوں کے لئے بے حدتسویشناک ہے ،یہ شہر انتظامی طور پر دس اضلاع میں تقسیم کیا گیا ہے،دنیا کی قدیم ترین عمارتیں یہاں موجود ہیں اسے دنیا کا بہت بڑا سیاحتی مرکز بھی کہا جاتا ہے،صنعتی میدان میں بھی اس کی اپنی پہچان ہے ،سیاحت اور صنعت اس کی معیشت کے اہم جزو ہیں ،بارسلونا میں سیاحت کا اندازہ اس لحاظ سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ اس شہر میں کل 519 بہترین ہوٹل قائم ہیں جن میں 35فائیو سٹار ہوٹل بھی شامل ہیں،دہشت گردی جہاں بھی ہوں اس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے ،ھکومت پاکستان کے علاوہ تمام سیاسی رہنماؤں نے اس دہشت گرد واقعہ کی سخت مذمت کی ہے،