پوری قوم کا فخر۔پائلٹ راشد منہاس شہید،،،،،،،،،، ( پہلو ۔۔۔۔۔ صابرمغل)

زندہ قومیں ہمیشہ اپنے قابل فخر سپوتوں کو ہر وقت یاد رکھتی ہیں نئی نسل کو بتاتی ہیں تا کہ وہ بھی ان کے نقش قدم پر چلیں 17فروری 1951ائیر فورس ہسپتال کراچی میں پیدا ہونے والا کشمیری نسل کاراجپوت راشد منہاس ایک ایسا قابل فخر فرزند پاکستان تھا جس نے فوجی دنیا کی تاریخ میں سب سے کم عمر شہادت کا درجہ حاصل کیا،ان کے والد مجید منہاس سرکاری ملازمت کے بعد ٹھیکیداری کرتے تھے،ان کا خاندان قیام پاکستان سے پہلے جموں و کشمیر میں تھا جو ہجرت کر کے گورداسپور پھر سیالکوٹ کے نواحی گاؤں قلعہ سوبھہ رام آبسا، یہ پہلے فیملی راولپنڈی پھر واپس کراچی شفٹ ہوئی ،راشد منہاس نے ابتدائی تعلیم کراچی اورراولپنڈی میں حاصل کی ، اس خاندان کے متعدد افراد پاکستان کی بری ،بحری اور فضائی افواج میں اعلیٰ عہدوں پر فائز تھے راشد نے فوج میں شمولیت کو ترجیح دی اوراپنے ماموں ونگ کمانڈر سعید منہاس سے جذباتی وابستگی کی بنیاد پر پاک فضائیہ کا انتخاب کیا،انہیں تربیت کے لئے پہلے کوہاٹ پھر پاکستان ائیرفورس اکیڈمی رسالپور اکیڈمی بھیجا گیا،فروری 1971میں پشاور یونیورسٹی سے انگریزی،ائیر فورس لاء،ملٹری تاریخ،الیکٹرونکس ،موسمیات ،جہاز رانی اور ہوائی حرکیا ت وغیرہ میں بی ایس سی کی تو انہیں مزید تربیت کے لئے کراچی بھیج دیا گیا ، اگست1971میں وہ پائلٹ بن گئے،راشد منہاس (p)۔GDکے51ویں کورس کا حصہ بنے ،راشد منہاس نے کراچی میں واقع مسرور ائیر بیس جوماڑی پور میں دوسری جنگ عظیم کے دوران بنایا گیا اور رقبہ کے لحاظ سے پاکستان کا سب سے بڑا ائیر بیس ہے،کراچی ائیر پورٹ کی تعمیر سے قبل یہاں ہی ڈومیسٹک فلائٹس آتی جاتی تھیں بانی پاکستان قائد اعظم نے بھی اس ائیر بیس سے کئی مرتبہ سفر کیا،اس ائیر بیس کا نام ۔ائیرکمانڈور مسرور حسین ۔کے اعزاز میں رکھا گیا، ایک مشن کے دوران ان کے طیارہ سے پرندہ ٹکراگیا مگر تکنیکی خرابی پیدا ہونے کے باوجود کریش ہونے سے پہلے انہوں نے ٹارگٹ کو بری طرح تباہ کر دیاتھا،راشد منہاس20اگست کو دن11.27پر امریکی ساختہ جیٹ 33۔T(اس جہازکا کوڈ نام ۔بلیو برڈ ۔تھا) ٹرینرجہازکواڑانے کے لئے رن وے پر آئے یہ ان کی دوسری تنہا پرواز تھی اسی دوران اچانک ان کا انسٹرکٹر سیفٹی فلائٹ آفیسر مطیع الرحمان خطرے کا سگنل دے کر کاک پٹ میں داخل ہو گیا اور طیارے کا رخ انڈیا کی جانب موڑ دیا ،راشد نے کنٹرول ٹاور ماڑی پورکوصورتحال سے آگاہ کیا انہیں ہدایت ملی کہ طیارے کو ہر صورت اغواہونے سے بچایا جائے ،مطیع الرحمان نے اپنے ساتھیوں سے رابطہ کرتے ہوئے انہیں ہدایت کی کہ وہ ان کے خاندان کے ہمراہ ہندوستان کمیشن پہنچ کر پناہ حاصل کریں میں جودھ پورپہنچ رہا ہوں،راشد منہاس نے اس غدارکے سامنے بے حد مزاحمت کی ،مطیع نے جیب سے کلوروفارم سے بھرا ہوا رومال نکالا اور راشد منہاس کی ناک پر رکھ کر انہیں بے ہوش کرنے کی بھی کوشش کی مگر یہ بہادر سپوت دشمن کے مذموم عزائم کے آگے چٹان بن گیا،کراچی سے 100کلومیٹر دور ضلع ٹھٹھ جو ایک تاریخی ضلع ہے(یہ وہ ضلع ہے جہاں ایشیاء میں سب سے پہلے مذہب اسلام پہنچا اور قدیم ترین مسجد بھی اسی شہر میں ہے) جس میں کینچھر جھیل جو پاکستان میں تازہ پانی کی سب سے بڑی جھیل واقع ہے اسی علاقہ میں انڈین بارڈر سے محض 51کلومیٹر دوری پر تھا کہ راشدمنہاس اور مطیع الرحمان میں شدید کشمکش جاری رہی جب راشد منہاس کو یقین ہو چلا کہ وہ دشمن پر کنٹرول حاصل نہیں کر پا رہا تو اس نے طیارے کا رخ اچانک زمین کی طرف کر دیا، طیارہ گر کر تباہ ہو گیا اور یوں راشد منہاس کم ترین عمر میں ۔شہادت۔کا رتبہ پا گئے،انہیں اس عظیم کارنامے پر۔نشان حیدر سے دیا گیا،نشان حیدر پاکستان کا سب سے بڑا فوجی اعزاز ہے جو اب تک پاک فوج کے دس جوانوں کو مل چکا ہے،نشان حیدر ۔حضرے علیؓ ۔کے نام پر ہے کیونکہ ان کا لقب حیدر کرار تھا اور ان کی بہادری ضرب المثل تھی ،یہ نشان صرف ان لوگوں کو دیا جاتا ہے جو وطن کے لئے انتہائی بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے شہید ہو چکے ہوں ،میجر محمد طفیل شہید نے سب سے بڑی عمر44سال میں شہادت پا کے نشان حیدر حاصل کیا،باقی نشان حیدر حاصل کرنے والوں کی عمریں 40سال سے کم تھیں اور سب سے کم عمر 20سال 6ماہ میں نشان حیدر پانے والے راشد منہاس جنہیں کم سن شہید بھی کہا جاتا ہے،ہیں ، یہ بھی اتفاق کہ ان کے دادا عبداللہ منہاس نے20اگست 1934کو جمعتہ المبارک کے دن 11.45پر وفات پائی اور 20اگست 1971کو بھی جمعتہ المبارک کا دن ہی تھا اور شہادت کا وقت دادا سے چند منٹ قبل ،راشد منہاس کا جسد خاکی طیارے کے کاک پٹ سے ملا جبکہ غدار کی لاش کچھ فاصلہ پر پائی گئی ،غدار مطیع الرحمان فلائٹ لیفٹیننٹ تھا جو 29نومبر 1941کو آغا صادق روڈ ڈھاکہ میں پیدا ہوا اس کے والد کا نام مولوی عبدالصمد تھا،ابتدائی تعلیم ڈھاکہ اورائیر فورس سکول سرگودھا سے حاصل کی،اس نے(p)۔GDکے 36ویں کورس میں کمیشن حاصل کرکے 19سکوارڈن میں شمولیت اختیار کی،1965کی پاک بھارت جنگ میں وہ سرگودھا میں فلائنگ آفیسر تھا،بعد میں ٹریننگ کورسF.86 اعلیٰ نمبروں سے پاس کر کے بطور ٹرینر کراچی مسرور ائیر فورس تعینات ہوا،جنوری1971میں وہ اپنے خاندان کے ہمراہ چھٹیوں پر ڈھاکہ چلا گیا،مطیع الرحمان فیملی کو وہاں چھوڑ کر رائے پور کے گاؤں رام نگر پہنچ گیا، جہاں اس نے مکتی باہنی کے لئے بھرتی اور ساتھ ہی ان کی ٹریننگ کا اہتمام کیا ،14اپریل کو پاک ائیرفورس نے انٹیلی جنس بنیاد پر حملہ کر کے اس کیمپ کو تباہ کر دیا تاہم مطیع الرحمان اس سے قبل اپنی جگہ تبدیل کر چکا تھا،وہ فوری ڈھاکہ پہنچا اور چند دن بعد 9مئی کو کراچی پہنچ گیااور20اگست کو جہنم واصل ہوا،تاہم بنگلہ دیش کی طویل سفارتی کوشش کے بعد اس کی ڈیڈ باڈی ان کے حوالے کی بنگلہ دیش نے پاکستان سے لسانی بنیادوں پر غدار ی کرنے والے کو سب سے بڑا فوجی اعزاز Bir Sresthoدینے کے علاوہ جیسور کا ائیر بیس ان کے نام سے منسوب کیا ، حکومت پاکستان نے راشد منہاس کو نشان حیدر کے علاوہ سب سے اہم ائیرو نائیٹکل کمپلیکس اور ائیر بیس کامرہ کا نام منہاس کے نام کر دیا،کراچی کا ایک مصروف ترین روڈ ان کے نام سے ہے علاوہ ازیں 2003میں ان کے اعزاز میں دو روپے کا ڈاک ٹکٹ جاری کیا گیا۔ہلال کشمیر آزاد جموں و کشمیر کا سب سے بڑا فوجی اعزاز ہے جو اب تک صرف کشمیر فوج کے لئے جان کی بازی لگانے والے نائیک سیف علی خان جنجوعہ کو ہی مل سکا ہے ،ہلال کشمیر بھی نشان حیدر کی ہی طرح وطن کے لئے انتہائی بہادری کا مظاہر ہ کرتے ہوئے جان کی قربانی دینے پر ہی دیا جاتا ہے،14مارچ1949کو حکومت آزاد کشمیر کی ڈیفنس کونسل نے نائیک سیف علی خان کو بعد از شہادت آزاد جموں و کشمیر کا سب سے بڑا فوجی اعزاز ۔ہلال کشمیر۔دیئے جانے کا اعلان کیا،انہیں بدھا کھنہ کے مقام پر دشمن سے دفاع کا حکم دیا گیا تھا جہاں وہ 26اکتوبر1948کو دشمن کو ناکوں چنے چبوانے کے بعد شہید ہو گئے23نومبر1995کو حکومت پاکستان نے ہلال کشمیر کو پاکستان کے سب سے بڑے عسکری اعزاز نشان حیدر کے مساوی کرنے کا اعلان کر دیا یوں نائیک سیف علی خان جنجوعہ آزاد کشمیر کے واحد ۔نشان حیدر ۔وصول کنندہ ہیں۔اور اس طرح نشان حیدر حاصل کرنے والے پاکستانیوں کی تعداد11بنتی ہے، ( صابر مغل ۔۔۔۔۔۔ اسلام آباد ) 0300 6969277