راجن پور میں ڈاکو راج،،،،،،،،،،، ( پہلو ۔۔۔۔۔۔ صابر مغل )

ضلع راجن پور کی سب سے کم آبادی والی تحصیل روجھان میں دریائے سندھ کے کچے کے علاقے میں اشتہاری گروپ پٹ سکھانی گینگ نے ایلیٹ فورس کے ایس اے آئی مزمل،کانسٹیبلان لقمان ،ذیشان،شاکر،صابر،جمشید اور صفدر علی کو اسلحہ سمیت اغوا کر لیا یہ اہلکار کچہ میں قائم چوکی سے ڈیوٹی ختم کر کے پرائیویٹ کشتی میں پتن نبی شاہ چک کپڑا سے گذر رہے تھے کہ ڈاکوؤں نے انہیں اغوا کر کے نا معلوم کمین گاہوں میں منتقل کر دیا ،اس واقعہ کی اطلاع ملتے ہی ضلع راجن پور کے بعد پنجاب بھر میں ہلچل مچ گئی ،آئی جی پنجاب کیپٹن(ر)عارف نواز خان نے حکم دیاکہ اہلکاروں کی بازیابی کو ہر صورت یقینی بنایا جائے ،ڈی ایس پی بنگلہ اچھا رمیز بخاری کے مطابق رات گئے دریائی علاقے میں آپریشن کے بعد تمام مغوی اہلکاروں کو برآمد کر لیا گیا ہے جنہیں اغوا کنندگان نے دریائے سندھ میں کچھی مور جزیرے پر خفیہ ٹھکانوں پر رکھا ہوا تھا ،پولیس کے مطابق اغوا کار اندھیرے اور جغرافیائی حالات کا فائدہ اٹھاتے ہوئے فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے،بعض ذرائع کے مطابق پولیس نے پٹ گینگ کے سربراہ عطا ء اللہ پٹ کے دو بیٹے گرفتار کر رکھے تھے جن کی رہائی کے بدلے مغوی اہلکار بازیاب ہوئے ہیں،پولیس اس بات کی تردید کر رہی ہے،مغوی اہلکاروں کو جزیرے پر درختوں سے باندھ کر رکھا گیا تھا،عطاء اللہ پٹ کا گینگ بدنام زمانہ چھوٹو گینگ سے الگ ہو ا تھا اورپھر سے علاقے میں قدم جما کر ڈکیتیاں اور اغوا کی وارداتوں کا آغاز کردیا،رحیم یار خان اور راجن پور کے درمیان کچہ جمال کے علاقہ میں ابھی تک پانچ گینگز کی خبریں عام ہیں جن میں پہلوان گینگ،عطاء اللہ پٹ گینگ،بلال جاکھا گینگ ،باگا گینگ اور خد بخش گینگ پوری طرح فعال ہیں، راجن پور 1982میں انتظامی امور پر الگ ضلع بنایا گیا پنجاب کے صرف یہ دو اضلاع ہی ہیں جو دریائے سندھ کے مغربی جانب واقع ہیں،نیشنل ہائی وے55سے ایک ذیلی سڑک کے ذریعے روجھان کو ملایاگیا ہے جنوبی پنجاب کا یہ پسماندہ ترین علاقہ ہے جہاں شرح خواندگی صرف 11فیصد ہے اسے خیموں کا شہر بھی کہا جاتا ہے یہ راجن پور سے 70کلومیٹر دور جنوب میں واقع ہے اس کے قریب ترین شہر مٹھن کوٹ ہے یہاں کے دیہاتی لوگوں کا ذریعہ معاش زراعت اور مویشی پالنا ہے سابق نگران وزیر اعظم سردار بلخ شیرمزاری کا یہ آبائی شہر ہے جب مزاری قبیلہ خانہ بدوشی ترک کر کے پہاڑوں سے اتر کر میدانی علاقے میں سکونت اختیار کی تو روجھان ہی ان کا پہلا پڑاؤ تھا، بدوانی،عمرانی اور مزاری قبیلے کی ایک ذیلی ذات سکھرانی سے تعلق رکھنے والے سینکڑوں افراد اب بھی اس سورش زدہ علاقے میں رہائش پذیر ہیں ،روجھان کے مشہور قصبہ جات میں شاہ والی،سوآ ن میانی ،سبسانی ،عمر کوٹ،میراں پور اور کچہ میوالی شامل ہیں ،یہ وہ علاقہ ہے جہاں حکومتی رٹ کا صرف گماں گذرتا ہے یہاں ہرطرف جدید اسلحہ سے لیس ڈکیت ،بدمعاش ،قاتل اور اغوا کار سر عام پھرتے ہیں ،چند روز قبل پولیس اہلکاروں کے اغوا کا معاملہ کوئی معمولی بات نہیں اس سے پتا چلتا ہے کہ ہماری حکومت کس جگہ اور کتنی کمزور ہے یہاں دریائے سندھ کے بہت بڑے طویل ایریا میں درجنوں جزائر جہاں لمبی لمبی گھاس ایک دوسرے سے جڑے درخت جو مہیب جنگل کی طرح ہیں جرائم پیشہ عناصر کی آماجگاہوں کیلئے کسی جنت سے کم نہیں ،گذشتہ سال اپریل میں پنجاب پولیس کی ناکامی کے بعد آرمی کے آپریشن ضرب آہن میں چھوٹو گینگ کو پکڑا تھا ڈاکوؤں کے خلاف آپریشن کو پہلے پولیس نے شروع کیا تو ڈاکوؤں نے انہیں گھیرے میں لے کر ایس ایچ او تھانہ بنگلہ اچھا حنیف غوری اور دیگر اہلکاروں محمد شکیل،محمد اجمل،امان اللہ دریشک،محمد اجمل چھینہ ،قاضی عبید اللہ ،تنویر سیال اور محمد طارق کو شہید کر دیا تھا جبکہ چھوٹو گینگ نے 25پولیس اہلکاروں اسداللہ ،مظہر خان،نعیم اللہ ،لیاقت علی،ریحان نواز ،محمد شفیق،فیاض احمد،عبدالمجید ،محمد آصف،سراج احمد،سجاد حسن پاشا،شفیق احمد ،دستگیر احمد،سجاد رسول،محمد ارشد،منیر احمد،کلیم شوکت،علمدار حسین شاہ،افتخار احمد،الہٰی بخش،عابد حسین ،اختر،الطاف حسین،صدیق اور الہٰی بخش کو اغوا بھی کر لیا تھا،چھوٹو گینگ کچا جمال نامی جزیرہ پر موجودتھا جس کی لمبائی نو اور چوڑائی تین کلومیٹر تھی،یہ جزیرہ اور اس علاقہ میں واقع دیگر جزیرے جرائم پیشہ افراد کے لئے انتہائی محفوظ سمجھے جاتے ہیں بہت سے اشتہاری یہیں پناہ لیتے ہیں ،ڈیرہ بگٹی کے فراری بگٹی،علیحدگی پسند،ٹارگٹ کلرزاور کالعدم تنظیموں کے کارندے یہاں کثرت سے پائے جاتے ہیں یہ جزیرے تین صوبوں کے سنگم پر واقع ہیں جبکہ ایک جانب کوہ سلیمان جو افغانستان کے جنوب مشرقی علاقوں زامل،پکتیااور قندھار سے ہوتا ہوا جنوبی وزیرستان ،بلوچستان کے شمالی علاقوں صوبہ پنجاب کے جنوب مغربی علاقوں تک پھیلا ہوا ہے بھی ایسے افراد کے بہترین ہے کئی پولیس والوں کی شہادت اور درجنوں اہلکاروں کا اغوا بہت بڑا لمحہ فکریہ تھاپولیس کی ناکامی کے بعد پاکستان آرمی کو بلانا پڑا جس میں اوکاڑہ سے بلائی گئی ایس ایس جی (الضراری) کمانڈوز کی بٹالین ،چولستان رینجرز کی پلاٹون،350ایلیٹ کمانڈوز اور آٹھ اضلاع سے منگوائی گئی 16سو پولیس اہلکاروں کی نفری نے حصہ لیا، ڈی جی رینجرز پنجاب میجر جنرل عمر فاروق برکی،بریگیڈئیر ضیاء الدین اور آئی جی پنجاب مشتاق سکھیرا آپریشن کے دوران اس علاقے میں موجود رہے تھے، جیسے ہی فوج نے اس آپریشن کا چارج سنبھالا اسی طرح ڈکیتوں کے خلاف گھیرا تنگ ہوتا چلا گیا،شروع میں 40ڈاکوؤں نے ہتھیار ڈال دئیے ،آرمی نے پانی میں چلنے والی بکتر بند گاڑیوں ،ہیلی کاپٹرز سے فائرنگ اور شیلنگ کے نتیجہ میں کچہ شاہوالی،رکھ شاہوالی،کن خاص،گدناز،کچہ بوپڑ،کچہ اراضی،میانی،چراگ شاہ،بیلے شاہ،چک عمرانی ،کچہ خیر پور ،کڑی سوری اور ڈنگری سوری میں ان کے متعدد ٹھکانوں کو تباہ کردیا گیا تو چھوٹو گینگ کے سرغنہ غلام رسول نے پاک فوج کے سامنے 175افراد جن میں عورتیں اور بچے بھی شامل تھی ہتھیار ڈال دئیے،ان کی کمین گاہوں سے مغوی اہلکاروں کے علاوہ ایسے افراد کو بھی بازیاب کروایا گیا جنہیں اس گینگ نے مختلف علاقوں سے تاوان کے لئے اغوا کر رکھا تھا ،ان کے زیر استعمال اسلحہ میں بھارتی ساختہ اینٹی ائیر کرافٹ گنیں،لانگ رینج اسلحہ جدید اسلحہ برآمد ہوااس معرکے میں اہم کمانڈر فیق حسین،مجید جاکھرانی،زمارے،پہلوان عرف پلو،پانڈے خان،علی گل بازگیر،خالد کجلانی،امری سکھانی،جاوید لشاریاور اسحاق چنگوانی بھی مارے گئے،چھوٹو گینگ کی گرفتاری کے بعد اب بھی یہ علاقہ درجنوں خطرناک ملزمان سے بھرا پڑا ہے،ان جزیروں کے رہائشی ان گینگسٹروں کے خاندانوں سے تعلق رکھتے ہیں، روجھان سے یہاں سے چند کلومیٹردور پانچ دریا ایک دوسرے میں ضم ہو کر دریا سندھ کی شکل اختیار کر لیتے ہیں کسی دور میں اس مقام پر سات دریا آپس میں ملتے تھے کوٹ مٹھن میں اسے ست ندی دریا بھی کہاجاتا ہے ،تبت کے علاقہ سے نکلنے والا دریاسندھ جو 36 ہزار کلومیٹر طویل اور اس میں مجموعی طور پر 19 دریا شامل ہوتے ہیں دنیا کا سب سے طویل دریا ہے ، دریائے سندھ کوٹ مٹھن کے مشرق سے جنوب کی طرف بہتا ہوا صوبہ سندھ میں داخل ہو جاتا ہے مٹھن کوٹ کے مقام کے برابر پنجند ہے ،پیر خواجہ غلام فرید کا جائے مدفن مٹھن کوٹ جہاں سے دریائے سندھ محض ایک کلومیٹر اور راجن پور سے 17کلومیٹر دوری پر ہے،خواجہ غلام فرید نے صرف سات سال کی عمر میں قرآن پاک حفظ کر لیا تھا،ضلع راجن پور کی تقریباً82آبادی دیہات پر مشتمل ہے اس کے شامل میں ڈیرہ غازی خان،مغرب میں ڈیرہ بگٹی،مشرق میں رحیم یار خان اور مظفر گڑھ ہیں ،یہاں 76سرائیکی ،17فیصد بلوچی 3.3فیصد اردو اور پنجابی سمیت دیگر زبانیں 3.2فیصد بولی جاتی ہیں ،روجھان پاکستان میں ہی واقع ہے یہ تو کچھ خطرناک بھی نہیں ان علاقوں کے مقابلوں کے جہاں ابھی پاک فوج نے آپریشن خیبر 4کامیابی سے مکمل کیا ہے،پنجاب حکومت اس علاقے میں کسی صورت امن قائم کرنے میں بری طرح ناکام ہے یہاں بھی آپریشن درالفساد کے ذریعے آپریشن کی ازحد ضرورت ہے یہاں بسنے والے کراچی،لاہور ،اسلام آباد اور نہ جانے کن کن شہروں سے لوگوں کو تاوان کی خاطر اغوا کر کے لاتے ہیں ان کی وجہ ڈکیتیوں اور قتل و غارت کا بازار گرم ہے ،اس کام کی روک تھام پولیس کے بس کا روگ نہیں ان بیچاروں کو جب بھی افسران آگے کرتے ہیں گینگسٹرر انہیں اغوا کر لیتے ہیں یہی وجہ ہے کہ اس علاقہ میں قانون کا کوئی عمل دخل نہیں پولیس والے بھی اپنی جان بچانے کی خاطر معاشرے کے ان ناسوروں سے سمجھوتہ کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں وہ اور کریں ہی کیا ؟انہوں نے بہت اچھا کیا کہ اپنے ساتھیوں کی جان چانے کے لئے سمجھوتہ کر لیا،پہلے بھی کئی شہید اور درجنوں اہلکاروں کے اغوا کی وجہ سے آرمی کو بھی انتہائی احتیاط سے کام لینا پڑا۔