مطالعہ سنن ابن ماجہ شریف،،،،،،،،میر افسرامان،کالمسٹ

مشرقی اُفق

اللہ تعالیٰ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ حدیث کی چھ کتابوں صحاح ستہ میں سے چار کتابوں،صحیح بخاری شریف ، صحیح مسلم شریف، ابو داؤد شریف کے بعد میں نے سنن ابن ماجہ شریف کا مطالعہ بھی چند دن پہلے مکمل کر لیا ہے۔ اب میرے مطالعہ میں صحاح ستہ کی پانچویں کتاب جامع ترمذی شریف ہے۔ حسب معمول جامع سنن ان ماجہ کے مطالعہ کے ابلاغ عامہ کے لیے یہ مضمون تحریر کر رہا ہوں۔غرض یہ ہے کہ جیسے میں عام مسلمان ہوں اپنے عام مسلمانوں بھائیوں کو بھی مطالعہ حدیث کی ترغیب دوں۔ سنن ابن ماجہ شریف حدیث کی چھ معروف کتابوں،جنہیں علماء عرف عام( میں صحاح ستہ )کہتے ہیں ،میں سے تاریخ جمع و ترتیب کے حساب سے تیسرے نمبر پر آتی ہے۔ حدیث کی یہ کتاب تین جلدوں پر مشتمل ہے۔ اس کتاب کی جمع و ترتیب امام ابُو عبدُاللہ محّمد بن یذید ابن ماجہ القزوینی ؒ المعروف ابن ماجہ نے کی ہے۔ اس کتاب کااُردو ترجمہ علّامہ نواب وحید الزمان خان ؒ نے کیا ہے۔ یہ کتاب تین جلدوں میں میں مھتاب کمپنی نے لاہور نے شائع کی ہے۔اس میں ۴۳۴۱حدیث نبوی ؐ اور کلامی فقہی ومسائل کا بہترین مجموعہ ہے جوپانچ لاکھ احدیث نبویؐ کے مجموعہ سے مرتب کر کے مسلمانان عالم پر احسان عظیم کیا ہے۔اس حدیث کی کتاب میں باب اتباع سنت سے لیکرباب الذھد تک ۳۷؍ ابواب میں احادیث نبویؐ کا مجموعہ مرتب کیا ہے۔ابن ماجہؒ ۲۰۹ ھ میں پیدا ہوئے اور ۲۷۳ھ میں وفات پائی۔ ماجہ ان کی والدہ صاحبہ کا نام تھا اسی نام سے مشہور ہوئے۔ابن ماجہ نے مدینہ شریف میں حافظ ابن مصعب سے سماع حدیث کی۔ ابن ماجہؒ نے حافظ بن المنذر سے احا دیث رویت کی ہیں۔اس کے علاوہ مکہ میں حافظ جلوانی، حافظ زبیر بن بکار قاضی،حافظ سلمہ بن شبیب اور حافظ عدل سے استفادہ کیا۔پھر کوفہ،بصرہ،بغداد،دمشق،حمص اورمصر تک کا سفر کیا۔ابن ماجہ نے تین بڑی کتابیں تصنیف کیں۔ نمبر ۱۔ التفسیر۔حافظ ابن کثیر نے البدایہ میں اس کو بہت بڑی تفسیر قرار دیا ہے۔نمبر ۲۔التاریخ۔حافظ ابن کثیرنے اسے تاریخ کامل کہا ہے اور نمبر ۳۔ سنن ابن ماجہ۔اس کاشمار صحاح میں ہوتا ہے۔صاحبو! احادیث کا مطالعہ اتناہی ضروری ہے جتنا قرآن شریف کا مطالعہ۔ قرآن کو جب تک احادیث سے نہ سمجھا جائے قرآن صحیح سمجھ نہیں آسکتا۔ اس طرح احادیث بنویؐ کو قرآن سے نہ سمجھا جائے احادیث صحیح سمجھ نہیں آ سکتی۔ قرآن اور احددیث کا آپس میں جوڑ ہے۔قرآن اللہ تعالیٰ کی طرف سے رسولؐ اللہ پر حضرت جبرائیل ؑ وحی کے ذریعے لے کر آئے۔ قرآن کا ایک ایک حرف اللہ کی طرف سے آیا ہوا ہے۔ اس کی حفاظت کا بھی اللہ تعالیٰ نے ذمہ لیا ہے۔ بلکہ جب کفار مکہ کہا کرتے تھے یہ رسولؐ اللہ کا اپنا کلام ہے فلاں فلاں تین بندوں سے سن کر ہمیں سناتے ہیں۔ روایا ت میں کفار مکہ جن تین لوگوں کے نام لیتے تھے وہ خود کسی کے غلام تھے۔ بھلا غلام بھی ایسا عظیم الشان کلام یاد رکھ سکتے ہیں۔ اللہ نے نبیؐ کے ذریعے کفار مکہ کو چہنج دیا تھا کہ اس جیسا کلام بنا لاؤ۔ اس جیسی ایک سورت ہی بنا لاؤ۔ مگر کفار مکہ یہ کام نہ کر سکے۔ بلکہ اب بھی یہ چلینج قائم ہے۔ جرمنی کے شہرمیونیخ کے اندر ایک ادارہ ہے جو پرانی کتب کی جانچ پڑتال کرتا ہے۔ اس ادارے نے دنیا کے مختلف ملکوں سے قرآن شریف کے پرانے نسخے اکٹھے کیے اور نتیجہ نکالا کہ یہ وہی قرآن ہے جسے خلیفہؓ سوم نے اسلامی دنیا کے اندر پھیلا یا تھا۔مسلمانوں کو کسی تحقیق کی ضرورت نہیں۔مسلمانوں کا تو ایمان ہے کہ قرآن اللہ تعالیٰ کا کلام ہے۔ اس عظیم الشان اللہ کے کلام کو اللہ کے پیغمبر حضرت محمد صلہ اللہ علیہ وسلم ہی تشریع کر سکتے ہیں۔ لہٰذا رسولؐ اللہ نے احادیث شریف میں اللہ کے کلام کی تشریع کی گئی ہے۔ حدیث کے معنی بات کے ہیں۔اصطلاح میں رسول ؐ اللہ کے قول ،فعل اور عمل کو حدیث کہتے ہیں۔رسولؐ اللہ نے مسلمانوں میں مروجہ نماز کے طریقے احادیث کے ذریعے بتائے۔رسولؐ اللہ کی زندگی کا ایک ایک لمحہ اصحابؓ رسول ؐ اللہ نے لکھ لیا اور آگے بیان کیا۔ سب سے پہلے عبداللہ بن عمروبن لعاصؓ نے احادیث رسول ؐ اللہ سے سن کر لکھیں۔ کسی نے ان سے کہا کہ آپ رسولؐاللہ کی ہر بات کو نوٹ کر لیتے ہو۔رسولؐاللہ کسی وقت غصے کی حالت میں کچھ کہہ دیں تو وہ بھی آپ نوٹ کر لیتے ہو۔ انہوں نے کچھ دن احادیث نوٹ کرنا چھوڑ دیں اور اس کا ذکر رسولؐ اللہ سے کیا۔ رسولؐاللہ نے جواب میں فرمایا میں غصے کی حالت میں بھی سچ بات کہتا ہوں۔حضرت ابوہریرہؓ رسولؐ اللہ کے پاس ہر وقت موجود ہوتے تھے۔ اس لیے سب سے زیادہ احادیث انہوں نے رویت کی ہیں۔یہ سلسلہ آگے کو چلتا رہا۔آج مسلمانوں کے پاس صحاہ ستہ کا ذخیرہ موجود ہے۔اس میں شک نہیں کہ عام مسلمان ان ضخیم کتابوں کا مطالعہ نہیں کر سکتے۔ وہ جمعہ کے دن اور مختلف موقوں پر علماء سے احادیث رسولؐ اللہ سنتے رہتے ہیں۔ مگر جس طرح قرآن مسلمانوں کے گھروں میں موجود ہیں اور وہ اس کا مطالعہ کرتے رہتے ہیں۔اے کاش کی اسی طرح حدیث کی کتابیں بھی عام مسلمانوں کے گھروں میں موجود ہونا چاہییں تاکہ ان کا بھی مطالعہ کیا جائے۔اگر ان ضخیم کتب کا مطالعہ ممکن نہ بھی ہو تو علماء نے ان کا مختصر بھی پیش کیا ہوا ہے۔ ان کتب سے عام مسلمان فاہدہ اُٹھا سکتے ہیں۔ ان میں’’ ارشادات رسولؐاللہ‘‘ کتاب جو صحا ستہ میں سے روز مرہ کے احکام پر احادیث منتخب کی گئیں ہیں بڑاکار آمند ہے۔ اسے مولانا حامد الرحمان صدیقی صاحب نے مرتب کیا ہے۔اس

۲
کی نظر ثانی مفتی سیّد شجاعت علی قادری صاحب نے کی ہے۔اس کے علاوہ علماء نے چھوٹی چھوٹی احادیث کی کتابیں عام مسلمانوں کے لیے مرتب کی ہیں۔ جیسے انتخابِ حدیث، زادا راہ اور راہِ عمل وغیرہ۔ان کتابوں سے عام مسلمان مستفید ہو سکتے ہیں۔ صاحبو! سنت کو ریکارڈ کرنے میں اتنی احتیاط برتی گئی کہ ایک شخص سے حدیث سنی پھر دوسرے شخص سے تا ئید کے لیے رجوع کیا پھر تیسرے شخص سے پھرچوتھے شخص سے اسی بات کی جب تصدیق ہو گئی تو دو رکعت نماز پڑھ کر اس حدیث کو نقل کیا گیا۔ لاکھوں انسانوں کی سیرت حدیث کی کتابوں میں درج ہو گئی ان کتابوں سے لوگ آج تک فائدہ اُٹھا رہے ہیں۔ حدیث بیان کرنے وا لے کے متعلق معلوم کیا گیا کہ وہ شخص کیا کرتا تھا سچا تھا یا جھوٹا تھا ۔ حدیث جمع کرنے میں اتنی احتیاط برتی گئی کہ ایک شخص اپنی بکری کو اپنی طرف بلا رہا تھا اور زبان سےَ پپ پَپ کہہ رہا تھا جبکہ جھولی میں کچھ نہیں تھاتو اس سے حدیث نہیں لی گئی کیوں کہ وہ شخص جانور سے جھوٹ بول رہا تھا۔خوش قسمت ہے یہ امت مسلمہ کہ جس کے پاس اپنے بنی ؐؐ کی ہر بات ریکارڈ پر موجودہے۔صرف اور صرف عمل کرنے کی ضرورت ہے ۔ ہمیں اللہ کے کلام یعنی قرآن اور بنی ؐ کی سنت یعنی حدیث کو مضبوطی سے تھام لیناچاہیے فلاح پا جائیں گے۔آمین۔