دنیا کا نایاب ترین سورج مکھی بن مانس

جکارتہ: دنیا کے واحد سورج مکھی بن مانس کوبچا لیا گیا ہے جس کی صحت اب بہترہے اورجلد قدرتی ماحول کے حوالے کردیا جائےگا۔
تیزی سے جنگلات کی کٹائی، موسمی تبدیلی اورغیرقانونی شکار کے باعث بن مانس کی نسل معدومی کی جانب تیزی سے گامزن ہے دوسری جانب دنیا کے پہلے نایاب ترین سورج مکھی بن مانس کو بچانے کےلئے جنگلی حیاتیات کے حکام مصروف عمل ہیں۔
بورنیو اورنگ اوتان سروائیول فاؤنڈیشن(بی اوایس) کےمطابق پانچ سالہ بن مانس ’البا‘ انڈونیشیا کے گاؤں سے ملی، لاطینی زبان میں البا کا مطلب سفید رنگ ہے سورج مکھی ہونے کی وجہ سے اس بن مانس کو البا کا نام دیا گیا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ یہ دنیا کا پہلا نایاب ترین سورج مکھی بن مانس ہے جو بیماری کے باعث بہت بری حالت میں تھا، پیراسائیٹیکل انفکیشن سے بری طرح متاثر ہونے کے ساتھ ساتھ وزن بھی انتہائی کم تھا،اگر فوری طور پرطبی امداد نہیں ملتی تو ممکن تھا کہ قدرت کےنایاب ترین تحفے سے محروم ہوجاتے۔ بی او ایس حکام کاکہنا ہے کہ اگرچہ البا اب صحت یاب ہورہی ہے لیکن اس میں جلد کے سرطان کے امکانات بہت بڑھ گئے ہیں۔

بی او ایس کا کہنا ہے کہ البا میں جلد کے سرطان کے امکانات ہیں اس لئے اس کو جنگل کے حوالے کرنا خطرناک ہوسکتا، اس خطرے کے پیش نظر بی او اس نے پانچ ایکڑ پر قدرتی طرز پرمصنوعی جنگل بنانے کا فیصلہ کیا ہے جس میں البا محفوظ زندگی گزار سکے گی جبکہ ماہرین کی نظرمیں بھی رہے گی تاکہ کسی بھی بیماری کی صورت میں فوری طبی امداد فراہم کی جاسکے۔
بی آوایس کےمطابق البا کے لئے قدرتی ماحول فراہم کرنے کےلئے80 ہزار ڈالرزکی ضرورت ہے جس کے لئے عطیات جمع کرنے کا سلسلہ شروع کردیا گیا ہے،