آئی لینْدرز سیریزہار کر بھی کروڑوں دلوں کے فاتح ،،،، صابر مغل ۔

کرکٹ پاکستانی قوم کا ممتاز اور پسندیدہ ترین کھیل ہے،مگر دہشت گردی کے ہاتھوں کئی سال قبل انٹرنیشنل کرکٹ کی پاکستان میں بندش سے ہر پاکستانی رنجیدہ تھا،بالآخر وہ گھڑی آن پہنچی وہ تاریخی لمحات آ ہی گئے جب انٹر نیشل کرکٹ نے یہاں قدم رکھے ،لاہور میں سری لنکا کے ساتھ ہونے والے ٹی ٹونٹی میچ کے لئے پاکستان بھر سے لوگ آئے،ہر شہری نے مہمان ٹیم کو دل کی اتھاہ گہرائیوں سے خوش آمدید کہا،ہر کوئی ان کے لئے آنکھیں بچھائے ہوئے تھا،پاکستان ٹیسٹ سیریز میں شکست کے بعد ون ڈے اورT20 جیت چکا تھا مگر دنیا کا یہ واحد میچ ہو گا جو سیریز کے فیصلہ کن مرحلہ کے بعد کھیلا گیا مگر اسے اتنی پذیرائی ملی جتنی شاید کرکٹ کی تاریخ میں نہیں ہو گی نہ ہی ایسی کوئی اور مثال ملے گی کیونکہ یہ صرف ایک میچ ہی نہیں بلکہ پاکستا ن کی عزت کا سوال تھا،سری لنکن کھلاڑیوں اور ان کے بورڈ،حکومت نے کروڑوں پاکستانیوں کے دل جیت لئے،ہر کوئی سرشار،ہر کوئی شادمان ،ہر کوئی نہال،ہر کوئی خوش،جوش جذبہ آسمان پر،لاہور کی مین شاہراؤں کو سجا دیا گیا، سٹیڈیم کے اطراف برقی قمقموں کی روشنی میں خیر مقدمی بینرز سجا دیئے گئے جن میں سری لنکا کی مقامی زبان سنیہالی میں خوش آمدید کہا گیا ان پر مہمانوں کے لئے خصوصی پیغامات درج تھے،ان کے پوٹریٹ لگائے گئے سٹیڈیم جگمگا اٹھا،ہر طرف رونق ہی رونق ،مہمان ٹیم کو کسی ایک پاکستانی نے احساس نہیں ہونے دیا کہ وہ غیر ملکی ہیں دوران میچ شائقین نے سری لنکن پرچم اٹھا رکھے تھے اور ان کے ہر بہترین شارٹ پر انہیں خوب داد دی ،امن دشمنوں ، دہشت گردوں کے تمام عزائم اور پاکستان کو کرکٹ کے حوالے سے تنہا کرنے والوں کے مذموم مقاصد اپنی موت آپ مر گئے،پاکستان میں انٹر نیشنل کی مکمل بحالی کے لئے سری لنکا کا یہ دورہ انتہائی اہمیت کا حامل تھا،سری لنکن پر اسی سٹیڈیم کے قریب حملہ ہوا تھا مگر یہ وہ سٹیڈیم ہے جہاں سے آئی لینڈرز نے ورلڈ کپ تھاما تھا،جیتا تھا،کرکٹ کی دنیا میں سیریز جاری ہی رہتی ہیں مگر اس سیریز کو آخری میچ نے سب سے منفرد،خوبصورت اور تاریخ میں امر کر دیااس دن کو پاکستانی قوم کبھی فراموش نہیں کر سکے گی جس سے نہ صرف صرف کرکٹ بلکہ عالمی کھیلوں کے دروازے کھل چکے ہیں ،اس سیریز میں ٹیسٹ سیریز ہارنا،ون ڈے سیریزمیں وائٹ واش کرنا،T20سیریزمیں فیصلہ کن برتری کسی کو یاد نہیں تھی بس ہر پاکستانی کو پتا تھا تو صرف اسی ہی میچ کا پتا تھا،اسی کا انتظار تھا جس کے شائقین مختلف روپ دھار کر دونوں ٹیموں کو داد دینے سٹیڈیم پہنچ گئے،یہ میچ پر امن اور بہترین ماحول میں ہوا،پاکستان میں کرکٹ کی جیت کا جشن پوری دنیا نے دیکھا عالمی میڈیا پر اس میچ کے خوب چرچے ہوئے برطانوی میڈیا نمائندگان براہ راست اس کی کوریج کے لئے سٹیڈیم پہنچے، سری لنکن کرکٹ بورڈ کے صدر تھلینگا سوما تھیپالا نے کہا ہم پاکستان میں آ کرکھیلنے پر بہت خوش ہیں اس سے قبل پاکستان نے بھی بہت مشکل حالات میں سری لنکا کے دورے کئے حالات خراب ہونے کے باوجود پاکستان نے سری لنکا کا کبھی دورہ منسوخ نہیں کیا،پاکستان ہمارا برادر اسلامی ملک ہے اسے تنہا نہیں چھوڑ سکتے انہوں نے حالیہ ایونٹ پر پاکستانی سیکیورٹی کے بہترین انتظامات پر اعلان کیا کہ ہم مستقبل میں بھی پاکستان کا دورہ کرتے رہیں گے اور دنیا کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ بھی پاکستان آ کر کھیلیں،پاکستان کرکٹ بورڈ کے سربراہ نجم سیٹھی نے مہمان ٹیم کا شاندار استقبال کرنے پر لاہوریوں سمیت پوری قوم ،سری لنکن کھلاڑیوں،بورڈ ،وزارت،اور حکومت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ سری لنکا کے یہاں کھیلنے سے دنیا بھر میں مثبت پیغام جائے گاآئندہ سال ایمرجنگ ایشیا کپ پاکستان میں ہی کھیلا جائے گا جس میں بھارت سمیت ایشیاء کی ٹاپ ٹیمیں حصہ لیں گی،ویسٹ انڈیز حامی بھر چکی ہے جبکہ 2020تک ہر ٹیم پاکستان کا دورہ کر چکی ہو گی،2009میں سری لنکا ٹیم کے ساتھ بطور کھلاڑی آنے اور دہشت گردوں کا نشانہ بننے والی بس میں سوار اسنکا گرسہنا بطور مینجر اور پشان تکارتنے بطور بیٹنگ کوچ ٹیم کے ساتھ آئے،پاکستان ایمپائر احسن رضا جو اس وقت ٹیسٹ میچ میں ریزو ایمپائر تھے شدید زخمی اورموت وحیات کی کشمکش میں مبتلا رہنے کے بعد بمشکل صحت یاب ہوئے انہوں نے ہی اس میچ میں ایمپائرنگ کے فرائض سر انجام دیئے،ان کے ساتھ دوسرے اینڈ پر احمد شہاب تھے، دونوں ٹیمیں رات کو پاکستان پہنچیں ،پاکستانی ٹیم ایمریٹس کی پرواز ای کے622کے ذریعے رات2بجے جبکہ سری لنکن ٹیم اتحاد ائیر لائن کی پرواز ای اے 241میں2.25پر لاہور ائیرپورٹ پہنچیں جہاں پنجاب حکومت اور پی سی بی کے اعلیٰ عہدیداران نے ان کا پرتپاک استقبال کیا،دونوں ٹیموں کو حج لاؤنج سے بلٹ پروف گاڑیوں میں سخت سیکیورٹی کے حصار میں نجی ہوٹل پہنچایا گیا،میچ کی سیکیورٹی کا انتہائی سخت انتظام کیا تھا تھا15سو پولیس اہلکاروں سمیت 2ہزار اہلکاروں و افسران نے جن میں پاک فوج اور رینجرزکے جوان بھی شامل تھے نے انجام دئیے،میچ کے آغازسے لے کراختتام تک فضائی نگرانی جاری رہی ،قریبی تمام عمارتوں پر اسنائپرزتعینات تھے،ڈولفن کے120بائیک اور درجنوں پولیس گاڑیاں سٹیڈیم کے گردو نواح میں گشت پر مامور رہیں صوبائی وزیر کھیل جہانگیر خانزادہ ،سیکرٹری داخلہ پنجاب اعظم سلیمان،کمشنر لاہورعبداللہ خان سنبل،ڈی سی سمیر احمد سید،سی سی پی او امین احمد وینس اور سی ٹی او سیکیورٹی اور ٹریفک کے انتظامات کا جائزہ لیتے رہے ،پارکنگ سے تمام شائقین کو شٹل سروس کے ذریعے سٹیڈیم پہنچایااور واپس چھوڑا گیا،ٹریفک پولیس کے اہلکار سٹیڈیم پہنچنے والوں کو پھول تقسیم کرتے رہے، انتظامیہ نے سٹیڈیم کے گیٹ ایک گھنٹہ قبل2بجے ہی کھول دئیے جہاں سنیپ چیکنگ کے بعد داخلہ جاری کیا گیا،دونوں ٹیموں کے کھلاڑی سٹیڈیم پہنچے تو فلک شگاف نعروں سے ان کا ااستقبال کیا گیاافتتاحی تقریب کو انتہائی جاندار بنایاگیا ،میچ کے لئے ٹاس سری لنکن کپتان تھسارا پریرا نے جیت کر فیلڈنگ کا فیصلہ کیا ،پاکستانی اوپنر فخر زمان اور احمد شہزاد کی جگہ عمر امین میدان میں آئے پاکستانی اننگز نے اپنے سکور کا آغاز چوکا لگا کر گیا،6.3اوور میں پاکستانی اوپنر کی ذمہ درانہ بیٹنگ پر 50رنز مکمل ہو چکے تھے،فخر زمان 31اور عمر یامین نے45 رنز بنائے،166کے سکور پر بابر اعظم کی تیسری وکٹ سے محروم ہونا پڑا ،آخر میں شعیب ملک اور فہیم اشرف نے تین وکٹ پر سکور 183تک پہنچا دیا،جواب میں سری لنکا کو محمد عامر نے اپنے پہلے ہی اوور میں اوپنرمناویراکی وکٹ کو اڑا کر رکھ دیا،سری لنکا کی دو وکٹیں15پرجبکہ تیسری وکٹ21،چوتھی51پر گر چکی تھی، سری لنکن ٹیم184کے تعاقب میں نو وکٹ144رنز بناپائی،سری لنکا کی جانب سے شرنکا نے56اور پاکستان کی جانب سے انتہائی ذمہ دار اور جارحانہ کھیلتے ہوئے شعیب ملک نے51سکور کیا انہوں نے چھکا لگا کر اپنی ففٹی مکمل کی،محمد عامر جن کا اپنی دھرتی پر پہلا انٹرنیشنل میچ تھا 4وکٹ لینے میں کامیاب ہو گئے ،شعیب ملک کو مین آف دی میچ اور مین آف دی سیریز کے ایوارڈ کے ساتھ ہیوی بائیک بھی دی گئی،پاکستان کا رواں سال ویسٹ انڈیز کے بعد T20 سیریزمیں دوسرا کلین اپ ہے،سری لنکن کپتان نے کہا کہ پاکستان آ کر بہت خوشی ہوئی ہے انہوں نے بے پناہ محبت دینے پر پاکستانی قوم کا شکریہ ادا کیا،سرفراز احمد نے قوم کو مبارکباد دی،جاوید میانداد نے کہا سری لنکن ٹیم کا دورہ پاکستان ہماری کرکٹ کے لئے بہت بڑی کامیابی ہے،محمد حفیظ نے کہا سری لنکا ٹیم کے کھلاڑیوں کو بہترین دوست اور اعلیٰ انسان قرار دیا،آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنرل آصف غفور نے قوم کی قربانیاں آج جیت گئیں،بہر حال یہ تاریخی دن کبھی فراموش نہیں کیا جا سکے گا،ہم نے دنیا کو بتا دیا کہ پاکستانی میزبانی کیسے ہوتی ہے، مبارک ہو پاکستان ۔شکریہ سری لنکا آپ نے کروڑوں دلوں کو جیت لیا،پاکستان کا دورہ کرنے والی ٹیم میں شامل کھلاڑیوں تھسار پریرا،تھیس دلسان مانوریوا،دنشکاگونا تھیلاکا،سدیرا سمارا وکرمہ،آشان پرینجن،مہیلا اداوتیدسون شناکا،ہیچتھ پتھیرانا،وکرم سنجانا،لاہیرو گماگے،سیکوجے پرسانا،سشوا فرنینڈو،اسودوادانا،جیفرے ونڈرسے اور چتور لنگاڈی سلوا کو پاکستانی قوم کا سلام ۔